اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس انعقاد کا اعلان کر دیا

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس انعقاد کا اعلان کر دیا
اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس انعقاد کا اعلان کر دیا

  

اسلام آباد(آئی این پی)اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے4گھنٹے طویل اجلاس کے بعد20ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس انعقاد کا اعلان کر دیا،رہبر کمیٹی کے اجلاس میں چھوٹی جماعتوں نے ماضی میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)کے کردار پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور  تنقید کی  کہ  کیا گارنٹی ہے کہ دونوں جماعتیں اس باراپوزیشن کودھوکہ نہیں دیں گی،اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں چھوٹی جماعتوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہیں۔رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے کہا کہ 20ستمبر کو اے پی سی بلاول ہاؤس اسلام آباد میں ہوگی،حالات کے پیش نظراے پی سی میں مزید تاخیرنہیں کرسکتے، مارشل لاکے دور میں بھی ایسے حالات نہیں تھے، احتساب نہیں صرف اپوزیشن کوتنگ کیاجارہاہے،حکومت کو ایک دن بھی دینا ملک کے ساتھ زیادتی ہوگی،ان ہاوس تبدیلی کرنی ہے یا کچھ اور اے پی سی طے کرے گی۔

جمعرات کو اسلام آباد میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس کنونیئر اکرم خان درانی کی زیر صدارت ہوا۔ رہبرکمیٹی میں حکومتی اتحاد چھوڑنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی)مینگل نے بھی شرکت کی،اپوزیشن کامشاورتی اجلاس تقریبا ً4 گھنٹے تک جاری رہا، جس میں اپوزیشن اتحاد کو مضبوط کرنے، کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی)کے ایجنڈے،حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک کے حوالے سے مشاورت اور مختلف تجاویز  پر غور کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اپوزیشن کی 11جماعتوں کے درمیان میثاق جمہوریت کی طرح نئے میثاق کے نام پر بھی غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق چھوٹی جماعتوں کے نمائندوں نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے کردار پر سخت برہمی کا اظہار کیا، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ پیپلزپارٹی اورن لیگ نے پہلے بھی اپوزیشن کی پیٹھ میں چھراگھونپا۔ آزادی مارچ ہو یا قانون سازی، دونوں جماعتوں نے حکومت کوسپورٹ کیا،ذرائع کے مطابق چھوٹی جماعتوں کے نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ کیا گارنٹی ہے کہ دونوں جماعتیں اس باراپوزیشن کودھوکہ نہیں دیں گی؟ذرائع کے مطابق پی پی اور ن لیگ کے رہنماوں نے موقف اختیار کیا کہ کیا مولانا نے آزادی مارچ ہم سے پوچھ کرکیاتھا؟ اپوزیشن جومشترکہ فیصلہ کریگی اس کیساتھ ہیں۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی اور ن لیگ چھوٹی جماعتوں کو رام کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کے کنونیئر اکرم خان درانی نے کہا کہ اجلاس میں مرحوم سینیٹر میر حاصل بزنجو کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی،بی این پی مینگل کا شکریہ ادا کرتا ہو اپوزیشن کا حصہ بنے،کچھ وقت لے لئے رہبر کمیٹی کے اجلاس نہیں ہوسکے تھے، جس پر یہ خبریں چلتی رہی کہ اپوزیشن تقسیم ہوگئی ہے،آج اپوزیشن کا متفق ہونا عوام کی ضروریات کی وجہ سے ہے، اپوزیشن کا اتحاد عوام کے مسائل اور حقوق دلوانے کیلئے ضروری ہے،اپوزیشن میں اب کوئی اختلاف نہیں، اندر باہر اب ایک ہے۔کنونیئر رہبر کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ اے پی سی کو جلد رکھا جائے،لیکن پارٹی قیادت کی مصروفیات کی وجہ سے جلد نہیں رکھ سکے، 20ستمبر کو کل جماعتی کانفرنس بلاول ہاؤس اسلام آباد میں ہوگی،حالات کے پیش نظراے پی سی میں مزید تاخیرنہیں کرسکتے، مارشل لاکے دور میں بھی ایسے حالات نہیں تھے، احتساب نہیں صرف اپوزیشن کوتنگ کیاجارہاہے۔ یہ منتخب نہیں سلیکٹڈحکومت ہے، حکومت کو ایک دن بھی دینا ملک کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ان ہاوس تبدیلی کرنی ہے یا کچھ اور اے پی سی طے کرے گی،اے پی سی ایجنڈا میں آزاد انتخابات ہے،ایسے الیکشن جن میں مداخلت نہ ہو۔

اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ جن قوتوں سے مولانا فضل الرحمن نے مذاکرات کئے تھے جن سے مولانا شاکی ہیں، کیا اب گیارہ جماعتیں ان قوتوں سے وہیں سے مذاکرات کریں گی۔ جس کا جواب دیتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہا کہ اس سوال کا جواب میرے لیول کا نہیں ہے جواب نہیں دے سکتا۔سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی رہنماراجہ پرویزاشرف نے کہا کہ جتنی بات ایف اے ٹی ایف چاہتا ہے اتنا کرنے کو تیار ہیں اور تیار تھے، مگر حکومت نے بلڈوز کیا،ہم کوئی ایسی قانون سازی نہیں چاہتے کہ حکومت اسے اپوزیشن کے خلاف استعمال  کرسکے،یہ لغو بات ہے کہ ہم این آراو کے لئے ایف اے ٹی ایف کے قوانین کی مخالفت کررہے ہیں،آدھے سے زیادہ پاکستان اپوزیشن ہے ہم پاکستان کو گرے لسٹ میں کیسے رکھنے کے حامی ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں تمام اپوزیشن رہنما شرکت کریں گے۔ اپوزیشن پاکستان کے عوام کی نمائندہ ہے۔ اپوزیشن کو تمام مسائل کا ادراک ہے۔ کوئی محبت وطن پاکستان کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتا۔ اپوزیشن نہیں چاہتی کہ پاکستان بلیک لسٹ ہو۔ اپوزیشن کے خلاف پروپیگنڈے کی نفی ہونی چاہیے۔

مزید :

قومی -