کرونا موجود ہے: احتیاطی تدابیر ترک نہ کریں!

کرونا موجود ہے: احتیاطی تدابیر ترک نہ کریں!

  

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی اطلاع کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وبا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ وفات پانے والوں کی تعداد 18اور مثبت مریضوں کی تعداد 441 ثابت ہوئی۔ اس عرصے میں 20ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کئے گئے تھے۔ یہ اضافہ عاشورہ کے بعد ہوا ہے۔ اس سے قبل وبا میں نمایاں کمی تھی۔اسی حوالے سے عالمی ادارہئ صحت کے سربراہ ٹیڈروس نے بھی خبردار کیا اور کہا کہ غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے، کورونا وبا ختم نہیں ہوئی۔ جن ممالک میں نتائج بہتر ملے، ان میں حفاظتی تدابیر پر عمل کیا گیا۔ مسٹر ٹیڈروس نے ایس او پیز پر سختی سے عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی۔پاکستان دنیا کا شائد واحد اور پہلا ملک ہے، جس میں کورونا کی وبا میں بہت کمی واقع ہوئی، حتیٰ کہ اگست کے پہلے عشرے کے اعداد و شمار نے یہ حوصلہ دیا کہ معمولات زندگی شروع ہو سکیں، تاہم مرکزی کنٹرول سنٹر سے احتیاط کی اپیل بار بار کی جاتی رہی ہے۔ اب نئے اعداد و شمار اور عالمی ادارہئ صحت کی طرف سے جاری انتباہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ کورونا میں کمی ضرور ہوئی، لیکن یہ موجود تھا اور ہے۔ پاکستان میں وبا ختم ہونے کا جو تاثر پیدا ہوا وہ درست نہیں تھا۔ ہمارے شہریوں نے تمام احتیاطی تدابیر ہی ترک کر دی تھیں، حتیٰ کہ جو تجارتی مراکز کھولنے کی اجازت ابھی نہیں دی گئی، وہ بھی کھول لئے گئے۔ ماسک اور سماجی فاصلے ختم ہو گئے۔ اب کنٹرول سنٹر نے کم ہوتی ہوئی وبا میں معمولی اضافے کی اطلاع دی اور اعداد و شمار جاری کئے تو اندیشے نے سر اٹھا لیا ہے۔ عالمی ادارہئ صحت کے سربراہ نے تو سٹیڈیم، نائٹ کلب اور بڑے ہال کھولنے کی مخالفت کی ہے۔ حکومت ِ پاکستان معاشی سرگرمیاں شروع کرا چکی اور اب 7ستمبر کو یہ فیصلہ بھی ہونا ہے کہ تعلیمی ادارے 15ستمبر سے کھولے جائیں یا مزید وقت لیا جائے۔حالات حاضرہ میں یہ پھر سے نازک موڑ آیا ہے۔ بچوں میں قوت مدافعت بڑوں کی نسبت کم ہوتی ہے، اس لئے حکومت کو نہ صرف ٹیسٹ بڑھانے کی ضرورت ہے، بلکہ پھر سے ”چنیدہ لاک ڈاؤن“ کا سلسلہ بھی شروع کرنا ہوگا اور تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی حالات کو زیر غور لانا ہوگا۔ پاکستان کے عوام کو کم از کم عالمی ادارہئ صحت کے سربراہ کی اپیل پر توجہ دینا چاہئے اور احتیاطی تدابیر ترک کرنے کی بجائے ان پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -