ہم کو عبث بدنام کیا!

 ہم کو عبث بدنام کیا!
 ہم کو عبث بدنام کیا!

  

زمین گول ہے۔ انسان ایک طرف سے چلنا شروع کرے تو بالآخر پلٹ کر پھر سے اصلی مقام پر ہی لوٹ آتا ہے۔ ہمارے ملک کی سیاست کا بھی یہی عالم ہے کہ گھوم پھر کر وہیں آ جاتی ہے، یہ خیال اس لئے آیا کہ کراچی میں دو بڑے حلیفوں کی جو ملاقات ہوئی (ماضی کے زبردست حریف) اس کے نتیجے میں چودہ سال قبل لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو  اور محمد نوازشریف کے درمیان جس میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے تھے، اس پر چلنے کے عہد کا اعادہ کیا گیا۔ اور طے کیا گیا کہ اپوزیشن متحد ہوکر جدوجہد کا راستہ اختیار کرے گی۔ کراچی سے جو خبریں موصول ہوئیں، جس طرح نشر اور شائع ہوئیں، ان سے تو تاثر ہی تبدیل ہو جاتا اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اتحاد تو صرف اور صرف نیب کی ”چیرہ دستیوں“ کے خلاف ہوا اور ہونے جا رہا ہے اور حکومت کو چلتا کرنے کی جو بات کی گئی، اس کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ اس وقت ”نیب کی چکی“ میں تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہی ایسی جماعتیں ہیں، جن کا بنیادی مقصد صرف اور صرف نیب کے بنائے گئے مقدمات اور احتساب سے بچنا ہے۔ ہمارے لئے یہ انداز فکر کوئی نیا نہیں، مگر کچھ دوست بہت تلملائے ہیں اور دونوں جماعتوں کے اکابرین نے تو اسے کردار کشی سے موسوم کیا ہے۔ بہرحال آج (4ستمبر) یہ ظاہر ہو جائے گا کہ تشہیر کے اس انداز نے اپنا کتنا اثر دکھایا کہ گزشتہ روز (3ستمبر) اپوزیشن جماعتوں کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہو چکا اور اب تک فیصلہ بھی سامنے آ چکا ہو گا کہ مولانا اور اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کو مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی سے شکائت بھی یہی ہے کہ ان کی طرف سے قانون سازی میں حکومت کی معاونت کی گئی۔

یہ بھی دلچسپ مسئلہ ہے۔ اپوزیشن میں یہ امر باعث اختلاف ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون سازی میں حکومت کی حمائت کی ہر دو اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کا موقف ہے کہ ان کی طرف سے قومی اہمیت کو پیش نظر رکھا گیا، لیکن یہ سب ان کے کسی کام نہ آیا اور حزب اقتدار نے نہ صرف اپوزیشن کی مجبوری جانا، بلکہ شدید نوعیت کی طعنہ زنی بھی کی اور جب اپوزیشن نے رنجیدہ ہو کر سینیٹ میں اکثریت کا فائدہ اٹھایا تو تنقید اور بھی شدید ہو گئی۔ اب حکومت کہتی ہے، اپوزیشن اور بھارت ایک صفحہ پر ہیں کہ بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں آ جائے اور اپوزیشن نے بھی ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ دو قوانین کو مسترد کرکے نریندر مودی کا ساتھ دیا سبحان اللہ، کیسا مزیدار الزام ہے۔ اب تو ہم عوام کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ”مودی کا یار“ کون ہے، کہ اپوزیشن تحریک انصاف کے خلاف یہی الزام لگاتی ہے۔

بات متحدہ اپوزیشن کے لئے فیصلے اور کراچی میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی والوں کی ملاقات سے شروع ہوئی اور درمیان میں ”جملہ معترضہ“ آ گیا، بہرحال یہ زمین کے گول ہونے اور حالات کے جبر کی کرم فرمائی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف رفقاء کے ساتھ بلاول ہاؤس کراچی گئے اور نہ صرف بلاول بھٹو بلکہ خود آصف علی زرداری نے باہر نکل کر پورے پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور پھر یار مل گئے اور گلے شکوے جاتے رہے۔ اب ان حضرات نے نہ صرف اے پی سی کے انعقاد پر صاد کیا بلکہ مل کر جدوجہد کا بھی اعلان کر دیا، تاہم سوال پھر یہی ہوگا کہ کیا متحدہ اپوزیشن والی بیل منڈھے چڑھے گی؟ کہ مولانا فضل الرحمن کے ایجنڈے اور ہر دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے فیصلے اور رویے میں اختلاف اور تضاد ہے۔ مولانا اب بہتر پوزیشن میں ہوں گے کہ اپوزیشن کی نو جماعتوں کے اکیلے قائد ہیں، مقابلے میں بڑی سہی لیکن  دو ہی جماعتیں تو ہیں، لہٰذا اکثریت مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے، جیسے حزب اختلاف کے اتحاد میں ہمیشہ نوابزادہ نصراللہ کے پاس ہوتی تھی کہ نوابزادہ کے ساتھ بھی چھ، سات چھوٹی جماعتیں ہوتیں اور جمہوری اصولوں کے مطابق ان کا ووٹ بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے برابر ہوتا، اب بھی یہی فیصلہ ہے۔

اور مولانا فضل الرحمن نو جماعتوں کے متفقہ رہنما ہیں، کھیل نو دو گیارہ کا ہو گیا۔

ایک حقیقت حزب اقتدار کوبھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ماضی بھی ایسے ہی واقعات سے بھرا نظر آتا ہے کہ ”اختلاف، اختلاف“ کی خبریں اور اتحاد ایک ہی جھٹکے میں بن گئے، آج بھی حزب اختلاف کی جماعتیں بوجوہ اپنے اپنے مفاد کی روشنی میں الگ الگ ہی نظر آ رہی ہیں، لیکن حزب اقتدار کے سربراہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھی، ان  مخالف جماعتوں کے لئے کوئی راستہ کھلا نہیں چھوڑ رہے۔ یوں اب اتحاد بنا، جس کے زیادہ امکانات ہیں تو شاید یہ حزب اقتدار ہی کی کوشش اور محنت سے بنے گا جو حزب اختلاف کے لئے کوئی راستہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں، اس لئے فرزند راولپنڈی شیخ رشید کو اپنے ان حلیفوں کو سمجھانا چاہیے چہ جائیکہ وہ حزب اختلاف کی کمزوریاں ہی گناتے رہیں۔

ایک سے زیادہ بار یہ تذکرہ ہو چکا کہ مرحوم نوابزادہ نصراللہ کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ وہ بگڑتی بات بنا لیتے،اور مخالف جماعتوں کو ایک جگہ اکٹھا کر لیتے تھے  اب یہ ذمہ خود مولانا فضل الرحمان نے لیا ہے،ہم اپنی اطلاع کے مطابق عرض کریں کہ مولانا سیانے بھی بہت ہیں اور بلاوجہ بڑا قدم نہیں اٹھاتے۔

مزید :

رائے -کالم -