مغربی جامعات کی تحقیق یا کرونائی دہشت گردی  

مغربی جامعات کی تحقیق یا کرونائی دہشت گردی  
مغربی جامعات کی تحقیق یا کرونائی دہشت گردی  

  

مغربی دنیا کا نظام تعلیم (یا ترقی یافتہ دنیا کا نظام تعلیم کہنا شاید مناسب ہوگا) اور ان کی جامعات کی شہرت اور دبدبہ گزشتہ ایک صدی یا زیادہ عرصے سے دنیا بھر کے علمی حلقوں میں خوب معروف ہے۔ مغربی ترقی یافتہ اور متمدن دنیا کا نظام تعلیم اور اس کی تحقیق،تحقیق کے نتائج انسانیت کی خدمت پر مدتوں سے مامور ہیں۔ اس خوبصورت حقیقت کے اعتراف کے ساتھ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ  مغربی دانش گاہوں کے بارے میں ہمارے علمی حلقوں میں بڑی حد تک جو خود سپردگی اور انفعالیت کی سی کیفیت پائی جاتی ہے، اس کا تدارک بھی ضروری ہے۔

 تین عشروں پر پھیلی اپنی جامعاتی تدریس میں مجھے ایک تجربہ یہ بھی حاصل ہوا کہ اگر کسی خالی تدریسی اسا می پر کئی درخواست دہندگان ہوں تو فیصلہ ساز افراد مغربی دنیا سے سند یافتہ امیدوار کو زیادہ وزن دیتے ہیں۔ میں نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس رجحان میں معمولی سی کمی تو واقع ہوئی ہے لیکن  یہ رجحان بڑی حد تک اب بھی مقامی سند یافتگان کی راہ میں ایک چٹان کی طرح حائل ہے۔یہ رجحان بڑا خطرناک اور ذہنی پسماندگی کا عکاس ہے۔ اس پر بھرپور توجہ کی ضرورت ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اس وقت کوئی مقامی اور مغربی نظام تعلیم کے مابین موازنہ یا مقابلہ ہو رہا ہے۔، میرا کہنا صرف یہ ہے کہ یہ دیکھے بغیر کہ کون کہاں سے سند یافتہ ہے، امیدوار کی خوب چھان پھٹک کی جائے تو نتائج زیادہ بہتر حاصل ہوتے ہیں۔ حال ہی کی ایک مغربی تحقیق کی مثال دینے کے بعد میں واپس اسی موضوع کی طرف لوٹ آؤں گا۔

امپیریل کالج لندن برطانیہ کی مشہور اور نامی گرامی سرکاری یونیورسٹی ہے۔ اس یونیورسٹی کو قائم ہوئے پونے دو سو سال ہو چکے ہیں۔ تحقیق اور تعلیم میں، یوں سمجھ لیجئے کہ، اس کالج کا نام ہی کافی ہے۔ مشہور ومعروف انگریزی ناول نگار ایچ جی ویلز اور اپنے راجیوگاندھی اسی درس گاہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس ہلکے پھلکے تعارف کے بعد اس کالج کی حالیہ ایک تحقیق کا تعارف پیش نظر ہے۔ نتائج آپ خود اخذ کرتے رہیے۔ 14 جون 2020 کو مجھے ایک تحریر موصول ہوئی۔ اس تحریر میں دعوی کیا گیا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی متعدد دانش گاہوں نے امپیریل کالج لندن سے مل کر کرونا سے بچاؤ کی خاطر تمام ممالک کے لیے ایک کمپیوٹرائز ڈتحقیقی ماڈل تیار کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ملک اپنے حالات کے اندر رہتے ہوئے کرونا کے خلاف پیشگی انسدادی تدابیر اختیار کرلے تاکہ اس عالمگیر مہلک  وبا سے اموات ممکنہ حد تک کم سے کم ہوں۔

اس تحقیق میں قائدانہ کردار اسی امپیریل کالج کا تھا۔ اردو میں تحریر یہ مضمون پڑھنے کے بعد میں نے امپیریل کالج لندن سے براہ راست رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ ان مغربی محققین کے نزدیک پاکستان میں اس عالمگیر وبا کرونا کا عروج اگست کے ابتدائی دو ہفتوں میں ہوگا۔ ان دنوں میں ہمارے پانچ لاکھ مریضوں کو ہسپتال میں داخلے کی ضرورت ہوگی۔ 40،000 افراد کو انتہائی نگہداشت میں رکھنا ہوگا۔ ادھر پاکستانی اسپتالوں میں داخلے کی کل گنجائش صرف ڈیڑھ لاکھ افراد اور انتہائی نگہداشت کی گنجائش تین ہزار سے بھی کم ہے، لہذا محققین نے ہدایت کی کہ پاکستان ابھی سے اس صورت حال کا تدارک کرلے۔ ایسی ہی تحقیق اور سفارشات دنیا کے بہت سے ممالک کے لئے تھیں۔ اس تحریر میں مزید دہشت زدگی یہ بھی تھی کہ 9 اگست کو 24 گھنٹوں میں 78 ہزار اموات ہوں گی اور 26 جنوری 2021 تک کل امواث 22 لاکھ ہو چکی ہوں گی۔ دربار الہی میں معافی کی خواستگاری کے بعد میں نے امپیریل کالج کی سائٹ بند کی۔ خیال تھا کہ اسی وقت اپنا "پیش گوئیاں بھرا" کالم لکھوں گا جس میں کالج کی اس تحقیق کا تجزیہ ہو گا لیکن دوسرے اہم موضوعات کے سبب یہ کام نہ ہوسکا۔چاہیں تو آپ بھی امپیریل کالج کی سائٹ ملاحظہ کرلیں۔

9اگست کو گزرے آج ایک ماہ ہونے کو ہے اور ابھی تک کسی ایک دن میں بھی 78 ہزار اموات تو کہیں دور کی بات ہے، 7 ماہ کی کل اموات بھی ابھی چھ ہزار سے کچھ ہی زیادہ ہو پائی ہیں۔ چنانچہ اب اپ 26 جنوری 2021 کا انتظار کریں, میں بھی کرتا ہوں،  دیکھتے ہیں کہ خالق کائنات کو کیا منظور ہوتا ہے۔ لیکن بے مقصد انتظار کیوں؟ کیا امپیریل کالج لندن کی اس تحقیق بھری دیگ کی جانچ پرکھ کے لئے 9 اگست کو 78 ہزار اموات کا ایک چاول کافی نہیں ہے؟ افسوس تو یہ ہے کہ یہ تحقیق سامنے آتے ہی ہمارے وفاقی وزیر جناب اسد عمر نے اس کے مندرجات سامنے رکھ کر ایک پریس کانفرنس کرڈالی،  ٹی وی پر جلوہ گر ہوئے اور امپیریل کالج کی اس تحقیق کی روشنی میں اپنے پورے ملک کو نئے سرے سے لرزا کر رکھ دیا۔چاہیے تو یہ تھا کہ اس رپورٹ کو پاکستانی جامعات کے ماہرین طب اور علمائے شماریات کے حوالے کر کے ان کی رائے لیتے۔ پھر اس رائے کی روشنی میں ملک کے لئے کوئی مناسب مقامی لائحہ عمل بنا کر کابینہ کی منظوری سے اس پر عمل کراتے۔ آنکھیں بند کر کے مغرب کے ہر کام، ہر فعل کے سامنے سپر ڈال دینا کیا ایک آزاد قوم کے حسب حال ہے یا نہیں؟ اس پر آپ سوچیں، میں بھی سوچتا ہوں۔

یہ مغرب کے اس ایک ادارے کی تحقیق کا احوال ہے جو ان کے صف اول کے چند نمائندہ اداروں میں گنا جاتا ہے۔ اپنے ہاں آپ نے ایم ایس اور پی ایچ ڈی اصحاب کو بڑے فخر سے کہتے سنا ہوگا گا کہ میرے مقالے کی قدر پیمائی(evaluation) فلاں مغربی ملک کے ایک پروفیسر ڈاکٹر نے کی ہے.کسی نوآموز معصوم محقق کے لئے بلاشبہ یہ بڑے فخر کی بات ہے۔  میں اس تحریر کے آغاز میں مغربی ممالک کی جامعات اور ان کی تحقیق کا کھلے دل سے اعتراف کر چکا ہوں۔  میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ کسی بھی جامعہ یا کسی بھی ملک کی تحقیق پر کیوں، کیسے، کب، کس طرح، اور کس لئے جیسے سوالات نہ اٹھانا بھی تو کم علمی یا کم از کم غیر علمی رویہ ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اپنے ملک کے پروفیسر حضرات جن غیر ملکی پروفیسروں کو رائے دہی کے لیے مقالہ جات بھیجتے ہیں، وہ غیر ملکی پروفیسر تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہمارے انہی پروفیسر صاحبان جیسے ہوتے ہیں۔ یہاں کا پروفیسر اگر علم دوست اور ذہین ہو تو مغرب سے اسے کسی اپنے جیسے پروفیسر ہی کی تلاش رہے گی اور اگر یہاں والا اس کے برعکس ہوا تو ادھر بھی اسے اپنے جیسے ہی سے پالا پڑے گا۔ وہی کبوتر با کبوتر باز با باز والا معاملہ ہے۔

چنانچہ طلبہ پاکستان یا مغرب جہاں کہیں سے بھی  ہوں،  اگر ان میں محنت، لگن، پتہ ماری اور جذبہ ہو تو مغربی نظام تعلیم انہیں خوب سے خوب تر کردیتا ہے۔ یہ صفت ہمارے تعلیمی نظام میں ناپید ہے۔ شخصی ذاتی طور پر یہ صفت یہاں ہمارے پروفیسروں میں ہو تو اس کا  اثر یقیناً ہوا کرتا ہے۔ اور یہی طلباء  ہمارا اثاثہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر طالب علم غبی، کند ذہن،کام چور، موقع شناس اور محض ڈگری کا متلاشی ہو تو پھر جو یہاں بدو وہ مکہ میں بھی بدو۔ وہ مغربی دنیا سے سند یافتہ ہو، تب بھی ویسا ہی رہے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ مغرب سے درآمدی  ہر شے کو من و عن قبول کرنے کے ختم ہوتے رجحان کو مطلقاً ختم کرنے کی ضرورت ہے۔میں اپنی اس بات میں ذرا وزن ڈالنے کے لیے امپیریل کالج لندن کی مثال آپ کے ذہن میں تازہ کئے دیتا ہوں۔ اور یہ یاددہانی بھی کہ 26 جنوری 2021 کی تاریخ یاد رکھیں۔ امپیریل کالج لندن کی تحقیق کے مطابق تب تک پاکستان میں 22 لاکھ افراد کرونا کے باعث مر جائیں گے۔میں چوٹی کے ان مغربی محققین سے اختلاف کا روادار نہیں ہوں نہ اس کی اہلیت رکھتا ہوں، لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ سات ماہ میں بمشکل تمام چھ ہزار سے کچھ زائد افراد کرونا سے مر ے ہیں تو باقی پانچ ماہ میں 22 لاکھ لوگ کیسے مر جائیں گے۔امید ہے 26 جنوری 2021 کو یہ بات ہم سب بخوبی سمجھ جائیں گے. یہ بھی امید ہے کہ آپ اپنے بچوں کو مغربی ممالک میں زر کثیر صرف کرکے تعلیم کے لئے بھیجنے سے قبل میری اس تحریر کو لازما ذہن میں رکھیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -