کراچی کے لئے موعودہ پیکیج

کراچی کے لئے موعودہ پیکیج
کراچی کے لئے موعودہ پیکیج

  

آج وزیراعظم عمران خان کراچی آ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے ایک جامع اور ’عظیم‘ (Grand) پیکیج کا اعلان کریں گے۔ میں نے سنا تو اقبال کا مصرع یاد آیا:

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں 

جب دو برس پہلے انہوں نے اقتدار سنبھالا تھا تو 16ستمبر 2018ء کو ایک طویل ٹی وی ٹاک میں کراچی کے مسائل ایک ایک کرکے گنوائے تھے، ان کو حل کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا اور ایک خطیر رقم کا پیکیج بھی اناؤنس کیا تھا۔ چونکہ یہ ایک نئی قیادت تھی اور تبدیلی کے وعدوں کو آغوش میں لے کر آئی تھی اس لئے عوام نے بالعموم اور کراچی کے شہریوں نے بالخصوص سکھ کا سانس لیا تھا۔ لیکن جوں جوں وقت گزرا اور وزیراعظم کو ملکی مشکلات و مسائل پر بریفنگز دینے کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کو معلوم ہوا کہ اس ملک پاکستان کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں۔

کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہاں PTI کی حکومت نہیں تھی اور اس PPPکی حکومت تھی جس کے خلاف منی لانڈرنگ سے لے کر جعلی اکاؤنٹس تک کے درجنوں کیس منظر عام پر آنے والے تھے۔ بارشیں تو 2018ء میں بھی ہوئی تھیں لیکن 2020ء کے فلیش سیلابوں کا منظر فی الحال حقیقتِ منتظر تھا۔ ستمبر 2018ء کے بعد بھی کئی بار وزیراعظم نے جگہ جگہ کراچی اور اس کے مسائل کا ذکر کیا۔ قومی اسمبلی کے فلور پر بھی اس کا تذکرہ کیا لیکن مصیبت یہ تھی کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایک صفحے پر نہیں تھیں۔

PPP کی حکومت دیکھ رہی تھی کہ اگر کراچی کا مسئلہ حل ہو گیا تو 2018ء کے انتخابات میں تو صرف کراچی شہر سے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کامیاب ہوئے ہیں لیکن اس رجحان کو اگلے الیکشنوں میں (2023ء میں) اس کے اعادے سے روکا جائے۔ اس لئے صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہوئی جو آج بھی جاری ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں یہ کشمکش کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کو کراچی کے وہ ڈویلپمنٹ فنڈ نہیں دیئے گئے جو اس کا آئینی حق تھا (اور ہے) اور جو پیکیج بھی کراچی کو مرکز کی طرف سے دیا جائے گا اس کی تکمیل کا کنٹرول صوبائی حکومت کے ہاتھ میں ہوگا اور فنڈز بھی اسے ہی ریلیز کئے جائیں گے۔ دوسری طرف مرکز کے پاس ان فنڈز کی خورد برد کا پورا ریکارڈ سامنے آرہا تھا اور جوں جوں وقت گزر رہا تھا ان شواہد کا ثبوت مل رہا تھا کہ صوبائی حکومت صرف باتیں کرتی ہے کام ’دھیلے‘ کا نہیں کرتی۔ یہ چپقلش چلتی رہی تاآنکہ اگست 2020ء آ گیا، تباہی آ گئی اور بربادی آ گئی۔

مثل مشہور ہے کہ موت سب کو ’پدھرا‘کر دیتی ہے اس کے سامنے محمود و ایاز ایک ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ امسال یہی ہوا، بارشوں کی وبا نے، کورونا وبا کی ہلاکت خیزیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ لوگوں کا اعتراض تھا کہ کورونا سے ہونے والی اموات کے مناظر ٹی وی پر نہیں دکھائے جاتے۔ صرف ہسپتالوں میں تحفظی لباسوں میں ملبوس ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو وینٹی لیٹروں پر لیٹ مریضوں کو Attend کرتے دکھایا جاتا ہے لیکن جو لوگ مر جاتے ہیں ان کا ہسپتال سے قبرستان تک کا سفر آج تک نہیں دکھایا گیا۔ لیکن ان بارشوں کی تباہیاں تو سراپا دید تھیں۔ صبح و شام و شب ٹی وی نشریات چلتی رہیں۔ اور پانی کے ریلوں کے منظر کشی کا تسلسل بھی چلتا رہا۔ صوبائی حکومت تو پہلے بھی آئیں بائیں شائیں کرتی رہی تھی، لیکن اب کے فیڈرل گورنمنٹ نے بھی چپ سادھے رکھی…… شائد لوگوں کو احساس دلانا تھا کہ دیکھو سندھ حکومت پاکستان کے اقتصادی دارالحکومت کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے۔

پھر بالآخر مرکز نے انگڑائی لی، وزیراعظم کے دورۂ کراچی کی خبر فلیش کی گئی۔ اس سے پہلے جنرل افضل کا ادارہ کراچی کی سڑکوں سے نکاسی ء آب کا بہت سا کام کر چکا تھا اور فوج نے آکر انڈر پاس کلیئر کر دیئے تھے۔کراچی کے پانچ بڑے گندے نالوں کی صفائی کا کام بھی شروع ہو گیا تھا۔ چونکہ یہ سارا کام مرکز کا ایک ادارہ کروا رہا تھا اس لئے سندھ حکومت مہر بہ لب تھی لیکن اندر ہی اندر سینے پر سانپ لوٹ رہے تھے۔میں نے ان ایام میں اپنے کالموں میں یہ بتایا تھا کہ کراچی کے غریب غربا کی حالت ِ زار دیدنی ہے لیکن جب معاملہ بڑھا اور DHA، ملیر اور دوسرے پوش علاقے بھی فلیش فلڈوں کی زد میں آئے تو مرکز نے ”ہرچہ بادا باد ماکشتی درآب انداختیم“ کا فیصلہ کیا۔ اور بھاگم بھاگ کراچی کے دو روزہ دورے پر آرمی چیف راولپنڈی سے کراچی آئے۔ آتے ہی شہر کا فضائی جائزہ لیا۔ ان کے ساتھ ڈی جی ISIبھی تھے۔ کور کمانڈر کراچی اور دوسرے سینئر آفیسرز سرجوڑ کر بیٹھے اور بریفنگز کا سلسلہ شروع ہوا۔ اگلے روز آرمی چیف نے کراچی کے تاجروں کے ایک بھاری وفد کو بھی مذاکرات کی دعوت دی اور ساڑھے تین گھنٹے تک ان سے بات چیت کی، ان کے تحفظات سنے اور اس مرضِ مزمّن کے مختلف علاج ان سٹیک ہولڈرز سے معلوم کئے۔

اسی روز ایک ٹاک شو میں، عقیل کریم ڈھیدی کو بھی کسی اینکر نے بلا رکھا تھا۔ وہ آرمی چیف کے اس اجلاس کی تفصیل بتا رہے تھے جو کورہیڈکوارٹر میں اسی روز بلایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ، پوری تیاری کے ساتھ کراچی آئے ہیں۔ اس پوائنٹ کی وضاحت کرتے ہوئے عقیل کریم نے بتایا کہ دوران گفتگو آرمی چیف نے یہ بتا کر حاضرین کو حیران کر دیا کہ کراچی اور ممبئی ہماری ناکامیوں کا منہ بولتا موازنہ ہیں۔ آرمی چیف نے بتایا کہ اس سال صوبے کے بجٹ (برائے سال 2020-21ء) سیشن میں تقریر کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کراچی کے میگا پراجیکٹوں کی ڈویلپمنٹ کے لئے صرف دو ارب روپوں کا اعلان کیا تھا۔ (اگر آپ مراد علی شاہ کی یہ تقریر جو بجٹ اجلاس میں جون2020ء میں کی گئی سنیں تو یہ رقم 1.94 ارب روپے ہے اور پورے دو ارب سے بھی 6لاکھ کم ہے)…… دوسری طرف ممبئی کا بجٹ 2600ارب روپے ہے!…… آپ ذرا نیٹ پر جا کر اعداد و شمار چیک کریں۔ کراچی کی آبادی سوا دو کروڑ اور اڑھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے جبکہ ممبئی کی آبادی کراچی کے مقابلے میں آدھی (سوا کروڑ) ہے۔ لیکن اس کا بجٹ 33440کروڑ روپے ہے۔ ایک بھارتی روپیہ پاکستانی روپے سے 2.26گنا زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کا بجٹ 75ارب ہے…… خود فیصلہ کیجئے کہ کہاں دو ارب اور کہاں 75ارب!!

ڈویلپمنٹ کا ہر کام پیسہ مانگتا ہے۔کراچی پر کئی برسوں سے PPP راج کر رہی ہے لیکن اس کے اپنے ’راج‘ میں راجہ کا ذاتی خزانہ تو بھرا جاتا رہا لیکن پرجا کی جیب خالی رہی۔ یہ صورتِ حال بدانتظامی (Mis-management) کی بدترین مثال ہے۔

یہ سطور کل (3ستمبر) تین بجے (بعد از دوپہر)لکھی گئی تھیں۔ مرکزی حکومت کی طرف سے کسی مالی پیکیج کا تاحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی واپس جا چکے ہیں۔ وہ وزیراعظم کو اپنے دو روزہ دورے کی تفصیلات پر بریفنگ دیں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کی سفارش بھی کریں گے۔ آخری فیصلہ، ظاہر ہے، چیف ایگزیکٹو کا ہی ہوگا…… میرے خیال میں درج ذیل نکات کو کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت نگاہ میں رکھا جائے تو بہتر ہوگا:

1۔مسئلے کی ترجیحات کا تعین کیا جائے۔یعنی یہ دیکھا جائے کہ کون سی مشکل کا حل پہلے نکالنا ہے اور کون سی آنے والے کل پر ٹالنا ہے۔

2۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کشیدگی باقی رہے گی۔ 18ویں ترمیم نے معاملے کو بہت گنجلک بنا دیا ہے۔ فیڈریشن کو نہ جائے ماندن، نہ پائے رفتن والا معمہ درپیش ہے۔

3۔اگر کراچی کا کوئی ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنا ہے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ غیر جانبدار ہو، اسے شہری (سِوک) امور چلانے کا انتظامی تجربہ حاصل ہو اور اس کی شہرت کی نیک نامی پر کوئی حرفِ گیری نہ کی جا سکے۔

4۔ اگر مالی پیکیج کا ایک دھیلا بھی صوبے کو دے دیاگیا تو مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید الجھے گا۔

5۔ تمام میگاڈویلپمنٹ منصوبوں کا کام فوجی اداروں کو سونپا جائے اور ہر منصوبے کی تکمیل کا ایک ٹائم ٹیبل وضع کرکے اس کی نگرانی کی جائے۔اس نگرانی پراسس میں صوبے کی انتظامیہ کو شریک کیا جا سکتا ہے۔

6۔کراچی کی مشکلات ’پانی‘ کے گرد گھومتی ہیں …… یعنی سیلاب کی بندش…… آبِ نو شیدنی کی فراہمی…… گندے/ بارشی نالوں کی صفائی…… سیوریج کا انتظام

7۔گندے نالوں پر تجاوزات کے خاتمے کے لئے آپریشن ضربِ عضب کی پیروی کی جائے۔ لیکن گرائی جانے والی تجاوزات کی آبادیوں کو متبادل رہائشی خیموں میں منتقل کیا جائے اور ساتھ ہی ان کی مستقل رہائش کا کوئی باقاعدہ پروگرام شروع کیا جائے۔

8۔ تجاوزات کے خاتمے پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اس برس فلیش فلڈ کی جو صورتِ حال ہمارے سامنے آئی ہے، وہ اگلے برس اس سے بھی زیادہ شدید اور ابتر ہو سکتی ہے۔ اس لئے تجاوزات کے مکینوں کے احتجاج کو مسترد کرکے جلد سے جلد سارے نالوں کے نواح کو صاف کیا جائے۔

9۔ سڑکوں کی مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔

10۔ اگر کسی شخص کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنا ہے تو اس کو مالی اور انتظامی امور نمٹانے اور چلانے کی مکمل آزادی دی جائے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہو گا۔ صوبائی حکومت قدم قدم پر اس کی راہ میں روڑے اٹکائے گی، آئینی شقوں کا حوالہ دے گی اور اصرار کرے گی کہ اس کی تعیناتی اور اس کے روزمرہ کاموں کی نگرانی صوبائی وزراء / حکام انجام دیں گے۔

11۔ سپریم کورٹ میں وفاق نے اگرچہ اس سلسلے میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے اور فاضل چیف جسٹس بھی مسلسل کراچی میں صوبائی حاکمیت کی ناکامی کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ چیف جسٹس، صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو طلب کریں اور ان کو وارننگ دیں کہ کراچی کے عوام کے بنیادی حقوق کی پاسداری اور نگہبانی عدلیہ کا کام ہے اور یہ حقوق ایک طویل عرصے سے پامال کئے جا رہے ہیں۔ کسی ایک وزیر کو توہینِ عدالت کے زمرے میں لا کر اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں تو شائد باقیوں کے کان کھڑے ہو جائیں۔

القصہ میری نگاہ میں کراچی کا اصل مسئلہ انتظامی اور مالی امور کومحیط ہے۔ اس کے لئے حکومت، فوج اور عدلیہ کو آگے بڑھ کر کراچی کو بچانا ہوگا وگرنہ کراچی پانی میں نہیں ڈوبے گا تو خشکی میں ڈوب جائے گا!!

مزید :

رائے -کالم -