سپریم کورٹ کو وفاق اور صوبوں میں تنازعات کے حل کا اختیار حاصل ہے: چیف جسٹس

  سپریم کورٹ کو وفاق اور صوبوں میں تنازعات کے حل کا اختیار حاصل ہے: چیف جسٹس

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے کہاہے کہ سپریم کورٹ اورماتحت عدلیہ کے اختیارات واضح ہیں،سپریم کورٹ کو وفاق اورصوبوں کے درمیان تنازعات کے حل اور اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کااختیار بھی حاصل ہے۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی  میں زیر تربیت افسرا ن کے وفد کے دورہ کے مو قع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ پاکستان میں عدالتی نظام کے ارتقا کی اپنی تاریخ ہے،آئین کا آرٹیکل 175 عدالتی نظام کا احاطہ کرتا ہے۔ عدلیہ ریاست کااہم ستون ہے اور عدالتی نظام ا پنے ابتدائی عمل سے گز ر رہا ہے اس کی جڑ ہندوستان میں ہندو راج، ہندوستان کی مسلم حکمرانی اور برطانوی نوآبادیاتی دور کے زمانے میں ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 عدلیہ سے متعلق ہے اور یہ فراہم کرتا ہے کہ ہر صوبے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لئے ایک سپریم کورٹ اور ایک ہائی کورٹ ہو گی اور ایسی دوسری عدالتیں جو قانون کے ذریعہ قائم ہوسکتی ہیں۔ 1980 کے صدارتی آرڈر نمبر 1 کے ذریعہ، آئین میں باب 3 اے شامل کیا گیا تھا جس کے ذریعہ وفاقی شریعت عدالت تشکیل دی گئی تھی۔پاکستان میں اعلی عدالتوں کو بھی آئین کے آرٹیکل 199 کے ذریعہ عدالتی جائزے کا خصوصی دائرہ اختیار دیا گیا ہے، جس کے تحت وہ رٹ جاری کرتی ہیں۔ کسی بھی بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے عوامی اہمیت کے سوال پر مشتمل آئینی درخواستوں کی سماعت اور فیصلہ کرنے کا اصل اختیار بھی عدالت عظمیٰ کو دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کے پاس صدر کے ذریعہ عوامی اہمیت کے قانون کے سوالات پر رائے دینے کے لئے بھی مشاورتی دائرہ اختیار ہے۔سول جج، ضلعی جج، اور ہائی کورٹ کی عدالت کو اپنے فیصلوں، احکامات اور احکامات پر نظرثانی کرنے کا دائرہ اختیار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کو اپنے فیصلوں، احکامات اور احکامات پر نظرثانی کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔فوجداری عدالتیں مجرمانہ عدالتوں کا سب سے کم درجے کا جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت ہے، جو ان جرائم پر مقدمہ چلانے کے اہل ہے جس میں ملزم کو زیادہ سے زیادہ سزا تین سال تک دی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس 

مزید :

صفحہ اول -