سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب، دراڑیں پڑنے سے عباس دبند دوبارہ ٹوٹنے کا خدشہ 

  سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب، دراڑیں پڑنے سے عباس دبند دوبارہ ٹوٹنے کا ...

  

  

 ملتان (سپیشل رپورٹر) ضلع ملتان میں دریائے چناب میں طغیائی کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کے افسران گزشتہ روز بھی متحرک رہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد طیب خان نے تحصیل سٹی اور صدر میں دریائے چناب کے پانی سے متاثرہ مواضعات کا دورہ کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملتان کی حدود میں شیر شاہ کے مقام پر2 لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے اور4 ستمبر تک ملتان کی حدود میں پانی کا موجودہ بہاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ضلع ملتان میں دریائے چناب کے داخلی پوائنٹ گھلواں کے مقام پر پانی کا بہا?35 ہزار کیوسک کم ہوا ہے۔محمد طیب خان نے کہا کہ سیلاب سے ضلع میں اب تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی ابھی تک کسی گھر کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے بتایا کہ دریا کے فلڈ بند کے اندر مختلف مواضعات میں فصلوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔محکمہ کا ریونیو سٹاف روزانہ کی بنیاد پر فصلوں کے نقصانات کی رپورٹ تیار کررہا ہے جو پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بھیجی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ مختلف محکموں کی طرف سے ریلف کیمپ قائم ہیں۔لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران پوری طرح الرٹ ہیں اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز دریائی علاقے میں موجود ہیں اور محکمہ انہار کے انجینئرز اور عملہ فلڈ بندوں کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔دریں اثناء اسسٹنٹ کمشنر سٹی عابدہ فرید نے بھی گزشتہ روز سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔تحصیلدار سہیل کھوکھر اور ریونیو سٹاف موضع کھادل بھی ان کے ہمراہ تھا۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے تحصیل سٹی کے مواضعات لنگڑیال،مروٹ، بھیل اور محمد پور گھوٹہ کا معائنہ کیا۔عابدہ فرید ریسکیو1122کی بوٹ کے ذریعے سیلاب میں گھری بستیوں تک پہنچ گئیں۔انہوں نے گھروں میں موجود خواتین کو محفوظ مقامات منتقل پر ہونے کی تلقین کی اورمفت ادویات اور اور رہائش کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی۔دورے کے دوران مختلف فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا سروے بھی کیا گیا۔سروے رپورٹ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کو پیش کر دی گئی ہے۔کسانوں کے نقصانات کے ازالے کے لئے رپورٹ پی ڈی ایم اے کو ارسال کی جائے گی۔

سیلابی پانی

 کوٹ ادو، دائرہ دین پناہ، راجن پور، مظفر گڑھ، جتوئی، سیت پور، شجاع آباد(تحصیل رپورٹر، نامہ نگار، نمائندہ خصوصی) ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب جاری، بیٹ کے علاقے زیرآب آگئے متاثرین اپنی مدد آپ نقل مکانی کرنے پر مجبور تفصیل کے مطابق حال ہی میں شمالی علاقہ جات وملک کے دیگر حصوں میں شدید بارشوں کے باعث ملکی دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جسکی وجہ سے دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونا شروع ہو گیاہے،ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ میں بھی پانی کے بہاؤ میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے،اس وقت دریائے سندھ کے مقام تونسہ بیراج پردرمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے اور اس وقت تونسہ بیراج پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 54 ہزار کیوسک ہے،دوسری طرف حفاظتی اقدامات کے تحت تونسہ بیراج سے نکلنے والے لنک نہروں تونسہ پنجند،مظفرگڑھ کنیال،ڈیرہ غازی خان کنیال اور کچھی کنیال میں پانی میں بھی اضافہ کردیا گیا، تونسہ بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب کی وجہ سے8 سے زائد مواضعات زیرآب آگئے   ہیں،سیلاب سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا جبکہ متاثرین اپنی مدد آپ نقل مکانی کرنے لگے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی ریسکیو آپریشن شروع نہ کیا جا سکا،سیلاب سے بیٹ چھجڑے والا بیٹ لومبڑ والا بیٹ نشان والا کے متاثرین جانور گندم سمیت دیگر قیمتی سامان کشتیوں کے زریعے منتقل کرنے میں مصروف ہیں،دوسری جانب دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر بھی پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس وقت چشمہ کے مقام پر پانی کی آمد 2لاکھ 35 ہزار کیوسک، اخراج 2 لاکھ30ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ کیوسک ریکارڈ ہوا ہے کالا باغ کے اس پانی کو تونسہ بیراج پہنچنے میں عموماً 48 سے 72 گھنٹے درکار ہیں جبکہ اگلے 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران 4 لاکھ کیوسک پانی تونسہ بیراج کے علاقوں میں پہنچے گا، اس وقت اگر کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں پر بارش ہوتی ہے جس کا امکان موجود ہے تو ڈیرہ غازی خان کی تین بڑی رود کوہیاں رود کوہی کوڑا، وہوا اور سنگھڑ کا پانی تونسہ بیراج سے اوپر دریائے سندھ میں شامل ہو جائے گا اس سے لیے یہ ممکن ہے کہ پانی کا بہاؤ اگلے 2 سے 3 دن کے دوران تونسہ بیراج کے مقام پر 4 لاکھ سے بھی تجاوز کر جائے،دوسری طرف 2010کے بدترین سیلاب کا سبب بننے والے فلڈ کنٹرول ایل ایم بی مارجن المعروف عباس والا بند  جو کہ 2010 میں 8400 فٹ تک ٹوٹ گیا تھا، بارش کے باعث ٹوٹنے والی جگہ خطرناک حد تک دراڑیں پڑ گئی ہیں، سیلابی پانی کے اضافہ کی صورت میں بند ٹوٹنے کے واضع امکانات ہیں، برجی نمبر 39 اور 40 کے درمیان گہری دراڑیں ہو گئی ہیں جبکہ بند کی شرقی جانب بنایا گیا پشتہ 32 برجی تا 40 برجی تک دراڑیں پڑی ہوئیہیں جس کی وجہ سے بند انتہائی کمزور ہو گیا ہے،متاثرہ مکینوں نے  وزیر اعلیٰ  پنجاب سردار عثمان خان بزدار سمیت چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کے ساتھ بند کی فی الفور مرمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے  تونسہ بیراج کے لفٹ مارجن بند میں حالیہ  طوفانی بارشوں کی وجہ سے بندمیں 39, 40 برجی   کے درمیان گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں جو کہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے  پانی کا دباؤ برداشت نہ کر پائے گا اور علاقہ کو ایک اور سیلاب کا سامنا کرنا پڑے گا یاد رہے  2010    میں بھی لفٹ مارجن بنداسی عباس والا کے مقام سے ٹوٹا تھا اور جس کی تباہیوں کے آثار انھی تک باقی ہیں اور ان کے نقصانات کا ازالہ ابھی تک نہ ہو پایا ہے اس سلسلہ میں اریگیشن  کا محکمہ تا حال خاموش  ہے اور ان بڑے شگافوں کو پر کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں  اٹھا رہے  اس کے لئے ایکسین اریگیشن تونسہ بیراج مہر ریاض سے رابطہ کیا تو انھوں نے کال وصول نہ کی۔گزشتہ سے پوستہ روز ہونے والی مون سون کی بارشوں کی وجہ پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی سے کچی کینال کی مشرقی اور مغربی جانب کی آبادیاں اوزمان، بھنڈو والا باڑا، پٹی شاہ والی شاہ چیک پوسٹ شاہ والی کے ملحقہ دیہاتوں میں زنگی نالہ اور سوری نالہ کے رودکوہی کے پانی سے ملحقہ نشیبی بستیاں زیر آب آ گئیں علاوہ ازیں تحصیل روجھان کے پہاڑی علاقے اور میدانی علاقے زیر آب دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر روجھان عثمان غنی اور آرمی بریگیڈئیر شکیل احمد نے سیلاب سے  متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور رودکوہی کے سیلابی پانی سے متاثرہ بستیوں کا وزٹ کیا اور جائزہ لیا اس موقع پر سیلاب صورتحال سے متاثرہ خاندان کو پکا پکایا کھانا اور ٹینٹس فراہم کیے گئے اور متاثرین کو بروقت امداد پہچانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر روجھان رات دن مصروف عمل ہیں اسسٹنٹ کمشنر روجھان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقار علی کھرل  کی ہدایت پر سیلابی پانی سے متاثرہ خاندان کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ موضع مٹ نمبر 1 روجھان سیلاب سے متاثرہ خاندان کو ٹینٹس اور کھانے پہنچایا جا رہا ہے اور پوستہ شب بگیاں کا نہری موگہ نہری و رود کوہی کے تیز بہاؤ سے  چھ فٹ شگاف پڑا گیا اسسٹنٹ کمشنر روجھان عثمان غنی نے پروقت کارروائی کرتے ہوئے شگاف کو ڈیمپر کرین کی مدد سے پر کر کے جملہ بستیوں بستی سیفلانی، بستی خالطی اور نئی  آبادیوں کو بچا لیا گیا زنگی نالے کا رود کوہی کا سیلابی ریلہ تیزی کے ساتھ منگھا گنڈھا کو توڑتے ہوئے کچی کینال سے گزرتا ہوا۔شاہ والی، باڑا چیک پوسٹ۔اوزمان بستی غلام مصطفی چونگلی اور دیگر بستیوں کو متاثر کیا جس سے اوزمان سے چوک ٹاور روجھان جانے والی واٹر سپلائی پائپ لائن متاثر ہوئی۔اسسٹنٹ کمشنر روجھان عثمان غنی آج بھی مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور ان کے لیے پکا ہوا کھانا اور پینے کا پانی کا بندوبست کرنے میں مصروف اسسٹنٹ کمشنر روجھان نے میڈیا کو بتایا ہے کہ رود کوہی کے سیلاب سے متاثرین کی بحالی تک ہماری کوششیں جاری رہیں گی اور زیر کاشت فصلات کے نقصانات کے لیے پٹواریوں کو سروے کی بھی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے سیلاب سے کوئی جانی نقصان کہیں پر بھی نہیں ہوا۔  خان گڑھ اور مظفرگڑھ کے کچے کے علاقوں میں دریائے چناب میں سیلاب کی صورتحال,قریبی فصلیں و مکین دریا برد ہونے لگے انتظامیہ کا کہیں نام و نشان تک نہیں, جبکہ سیلاب کا پانی ٹھٹھہ قریشی, کانونی, کوٹھیلہ, بیٹ مٹھائی شاہ, خدائی, مراد آباد, موضع طرف کوٹھے والا, جڑھ,شیخ والا, لوہانچ,دوآبہ سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں داخل ہو گیا, کسانوں کی فصلیں گنا, چاول,کپاس اور دیگر سبزیاں بھی دریا برد ہو رہی ہیں,ضلعی انتظامیہ کے ادارے حکومتی خزانے سے بھاری بل نکلوانے کیلئے متاثرہ علاقوں کے نزدیک خالی ٹینٹ لگا کر بیٹھ گئے,متاثرین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا,عوامی وسماجی حلقوں نے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان خان بزدار سے متاثرہ علاقوں کا سروے کر کے غریب کسانوں کے نقصان کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحصیل جتوئی کے علاقہ بیٹ دریائی میں دریائے سندھ نے تباہی مچا دی، دوسری طرف چناب میں اس وقت اونچے درجے کا سیلاب ہے اس وقت کاشتکاروں ڈ کی ہزاروں ایکڑ فصلیں برباد ہوچکی ہیں اور مزیدنقصان کا اندیشہ ہے کاشتکاروں میں اس وقت شدید بے چینی پائی جاتی ہے  دریائے سندھ میں شدید طغیانی ا جانے سے دریائے سندھ کے پار کچہ کے علاقہ سمیت دیگر علاقوں جن میں موضع باقر شاہ محب شاہ اور ڈھاکہ کی درجنوں بستیاں بستی سوئے والا بستی گھلو۔بستی دائے بستی کمہار بستی دریشک بستی جتوئی بستی ڈوڈی بستی آرائیں بستی مہانے بستی واگ وار سمیت دیگر بستیاں       زیر اب آگئی اور ہزاروں ایکٹر رقبہ پر کاشت فصلیں جن میں کپاس اور تل کی فصل شامل ہے ڈوب گئی جب کہ ضلعی انتظامیہ مظفرگڑھ  کاغذی کاروائیوں میں مصروف ہے اہل علاقہ محمد یونس حاجی مٹھو واحد بخش حاجی کالو ملک موسی ارشاد احمد اکرم دایہ اور ملک کالو نے وزیر اعلی پنجاب سے فوری طور نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ رنگ پور سے لیکر مراد آباد تک فصلیں متاثر۔سینکڑوں لوگ بے گھر۔عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی خاطر مقامی این جی اوز کے نمائندوں کا سروے۔تفصیل کے مطابق آج ہیون ویلیفر رگنائزیشن اور سکھ ڈیلپمنیٹ آرگنا?زیشن کی ٹیموں نے دریاے چناب میں جاری سیلابی صورت حال کا جائزہ لیا۔دونوں آرگنائزیشن کے نمائندوں نے رنگ پور سے لے کر مراد آباد تک دریائی پٹی کا دورہ کیا۔اور حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور لوگوں کی مشکالات کاپتا کیا۔آج کے اس سروے  کے دوران پتا چلا کہ سیکٹر وں تعداد میں لوگ بے گھر ہو گے ہیں اور تیار فصلیں دریا برد ہو گی ہیں۔اس کے علاوا دھان کپاس مونگی تل کی تیار فصلیں اور مچھلی فارم بھی سیلابی پانی کی نظر ہو گے ہیں۔لوگوں نے اعلی حکام سے امداد کی ا پیل کی ہے اس موقعہ پر ہیون ویلفئر آرگنائزیشن کے صدر ملک طاہر حیات سندیلہ جنرل سیکرٹری ملک عبد اللطیف  اور سکھ آرگنائزیشن سے عامر ابراھیم سید کامران شاہ بھی ساتھ تھے۔ جبکہ شجاع آباد  کی حدود سے اس وقت 2 لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔ 24 گھنٹے تک شجاع آباد  کی حدود میں پانی کا موجودہ بہاو برقرار رہنے کا امکان ہے۔ سیلاب سے شجاع آباد کی بیٹ کے علاقہ میں موجود 27 بڑے دیہات میں ابھی تک نہ تو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی سیلاب سے ابھی تک کسی گھر کو بھی نقصان نہیں پہنچا ہے البتہ دریا کے فلڈ بند کے اندر مختلف مواضعات میں فصلوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ریونیو محکمہ کا  سٹاف روزانہ کی بنیاد پر فصلوں کے نقصانات کی رپورٹ تیار کررہا ہے، ان نقصانات کی رپورٹ پنجاب ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کو بھیجی جائے گی۔مختلف محکموں کی طرف سے ریلف کیمپ قائم ہیں۔ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران پوری طرح الرٹ ہیں۔  اسسٹنٹ کمشنر دریائی علاقے میں موجود ہے۔ محکمہ انہار کے انجینئرز اور عملہ فلڈ بندوں کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔

سیلاب

مزید :

صفحہ اول -