خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بارشوں نے تباہی مچادی، 33افراد جاں بحق، 38سے زائد زخمی 

خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بارشوں نے تباہی مچادی، 33افراد جاں بحق، 38سے ...

  

لاہور، حافظ آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، ڈسٹرکٹ رپورٹر، نمائندہ پاکستان، نمائندہ خصوصی) خیبر پختونخوا میں جاری بارشوں سے ہونے والے مختلف حادثات میں 30 افراد جاں بحق جبکہ 38 زخمی ہوئے ہیں۔ 110 گھروں کو جزوی جبکہ 13 گھروں کو مکمل نقصان پہنچا۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ان کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ سیاحوں سے گزارش ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں۔ بارش کے باعث دریائے سوات اور ندی نالے بپھر گئے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مینگورہ فضا گٹ روڈ بلاک ہو گیا ہے۔دوسری طرف پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ لیہ کے قریب دریائے سندھ سے 3 لاکھ 55 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔دریا کی سطح بلند ہونے پر پانی قریبی بستیوں اور فصلوں میں داخل ہو گیا جس کے باعث بستیوں کو خالی کرانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ صادق آباد میں بھی دریائے سندھ کا پانی بند کی دیواروں کے ساتھ ٹکرانے لگا۔ انتظامیہ نے خانپور اور لیاقت پور کی چار آبادیوں کو انخلا کا حکم دیا ہے۔رحیم یار خان میں بھی متوقع سیلابی صورتحال کے باعث تمام محکموں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ راجن پور میں بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر گئے ہیں۔سیلابی ریلے سے سیم نالے کا پل بہہ گیا جس سے راجن پور اور محمد پور کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ پل بہنے سے علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔سکھر اور گڈو بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ جہاں پانی کی آمد 3 لاکھ 46 ہزار 360 اور اخراج 3 لاکھ 38 ہزار 661 کیوسک ہے۔نواحی گاؤں لالکے میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے تین بہن بھائی جاں بحق جبکہ تین افرادشدید زخمی ہوگئے۔ ریسکیو1122کی امداد ی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ٹراما سنٹر منتقل کر دیاجہاں ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں لالکے کا محمد اشرف ولد خان محمد مسلم شیخ  اہلخانہ کے ہمراہ کچے مکان میں رہائش پذیر تھا کہ بارش کے باعث مکان کی چھت اچانک گرگئی جس کے باعث گھر کے 8 افراد ملبے تلے دب گئے۔ ملبے سے پانچ افراد کو زندہ نکال لیا گیا جبکہ تین بچے 4 سالہ احمد، 5 سالہ دُعا اور 7 سالہ زنیرہ جاں بحق ہو گئی  جبکہ اختر حسین، اس کی بیوی ثمینہ اور ایک بیٹی ایمان فاطمہ زخمی ہو گئی۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احمد کمال کی سربراہی میں ریسکیو کی امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو ملبہ سے نکالا۔گھر میں صف ماتم بچھ گئی اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔زخمیوں کو طبی امداد کے بعد ٹراما سنٹر منتقل کر دیا گیا جہاں ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔  

بارش تباہی

مزید :

صفحہ اول -