حالیہ طوفانی بارشوں میں مالی وجانی نقصان پرا نتہائی دکھ ہواہے، کامران بنگش 

حالیہ طوفانی بارشوں میں مالی وجانی نقصان پرا نتہائی دکھ ہواہے، کامران بنگش 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ طوفانی بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی صورت میں کئی علاقوں میں نقصانات ہوئے ہیں لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے اداروں کو اتنا مضبوط بنایا ہوا ہے کہ تمام ادارے انتہائی پروفیشنل انداز میں ایمرجنسی صورتحال سے نمٹ رہے ہیں، اب وہ دور نہیں رہا کہ شعبدہ بازیاں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سیلاب پر بھی سیاست کر رہے ہیں جو انتہائی نامعقول ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اداروں کو مکمل طور پر فعال بنا دیا ہے۔ جس کی بدولت وہ تمام حالات کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ پچھلی حکومتوں میں اداروں کو ہمیشہ نظر اندازکیا گیا جس کی وجہ سے وزراء کو بے جا تصاویر کے لیے اسپیس مل جاتا تھا، جو شعبدہ بازی کے مترادف تھا۔وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے معاون خصوصی کامران بنگش نے کہا کہ وزیراعلی محمود خان خیبرپختونخوا میں سیلاب سے متعلق صورتحال سے نمٹنے کے لیے پل پل کی خبر لیتے رہے اور صورتحال کو مانیٹر کرتے رہے جس کی بدولت سیلاب سے ممکنہ نقصانات پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ کرونا وائرس ایمرجنسی کے خلاف بعض لوگ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی کوششوں کو کمزور سمجھتے تھے لیکن نتائج سب کے سامنے ہیں کہ کیسے ان کی قیادت میں صوبے کے 61% عوام نے کووڈ-19 سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ صوبے میں عوام کو خدمات کی فراہمی میں بھی ہماری کارکردگی سب صوبوں سے بہترین رہی ہے۔ وزیراعلی محمود خان کی بس یہی عادت ہے کہ وہ عوامی خدمت بغیر کسی فوٹو سیشن کے کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان شعبدہ بازیوں پر یقین نہیں رکھتے۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان سوات پہنچ چکے ہیں جہاں پر وہ سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی، متاثرہ عوام کے نقصانات کا جائزہ سمیت دیگر درپیش ایشوز کے حوالے سے احکامات جاری کریں گے۔ صوبہ میں طوفانی بارشیں اور سیلاب کی صورتحال پر میڈیا کو جاری ایک بیان میں وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے کہا بد قسمتی سے خیبر پختونخوا میں حالیہ طوفانی بارشوں سے اب تک 30 افراد جاں بحق، جبکہ 38 زخمی ہو چکے ہیں متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے ازالے کے لیے سروے بھی جاری ہے تاکہ خوراک کے ساتھ ساتھ مالی نقصان کا تخمینہ لگا کر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ ریسکیو، پولیس، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، بلدیات اور اطلاعات سمیت تمام ادارے وہاں پر مستعدی سے حالات کنٹرول کئے ہوئے ہیں۔ تاکہ عوام کو تمام تر ریلیف بروقت پہنچا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسی صورتحال میں بھی فوٹو سیشن کے لیے جاتے ہیں اور اداروں کے ساتھ تعاون کی بجائے سیاست کرتے ہیں جو ہماری روایات و اقدار کے منافی ہے۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے معاون خصوصی کامران بنگش نے کہا حالیہ بارشوں سے اپر چترال، اپر سوات اور کوہستان زیادہ متاثر ہوئے جبکہ پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 فیلڈ میں ہیں اسی سلسلے میں تمام ادارے فعال اور ریسکیو سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں چکدرہ اور پنجکوڑہ میں حالات کنٹرول میں ہیں۔ جبکہ چارسدہ اور نوشہرہ میں ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات کیے جا چکے ہیں۔وادی پشاور میں ممکنہ حفاظتی اقدامات بارے میں بات کرتے ہوئے معاون وزیراعلٰی کامران بنگش نے کہا کہ چارسدہ اور نوشہرہ میں دریا کنارے مکانات والے مطمئن رہیں، عوام افواہوں پر کان نہ دھریں، صرف حکومتی اعلانات پر عملدر آمد کیا جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شکایت و معلومات کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن نمبر 1700 فعال ہے۔ عوام کسی بھی وقت متعلقہ نمبر پر کال کرکے تعاون حاصل کر سکتے ہیں۔ معاون اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات کے لئے ضلع انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کیا جائے۔ وزیراعلی ہر گھنٹہ بعد رپورٹ لے کر متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کررہے ہیں۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

صفحہ اول -