بیروت دھماکے ، ایک مہینے کے بعد ملبے تلے دبے ایک شخص کے زندہ ہونے کا امکان ، لیکن یہ کیسے پتا لگایا گیا ؟ حیران کن خبر آ گئی 

بیروت دھماکے ، ایک مہینے کے بعد ملبے تلے دبے ایک شخص کے زندہ ہونے کا امکان ، ...
بیروت دھماکے ، ایک مہینے کے بعد ملبے تلے دبے ایک شخص کے زندہ ہونے کا امکان ، لیکن یہ کیسے پتا لگایا گیا ؟ حیران کن خبر آ گئی 

  

بیروت (ڈیلی پاکستان آن لائن )لبنان کے دارالحکومت میں تباہی کا باعث بننے والے خوفناک دھماکے کے ایک ماہ بعد ریسکیو کارکنوں نے بیروت میں ملبے تلے دبے ممکنہ طور پر زندہ بچ جانے والے ایک فرد کی تلاش کا کام روک دیا ہے۔

” دی انڈی پینڈنٹ اردو“ کی رپورٹ کے مطابق جمائمز کے علاقے میں تباہ شدہ گھر میں ایک آلے کی مدد سے کسی زندہ انسان کے دل کی کمزور دھڑکن کا سراغ لگایا گیا۔چلی کی ریسکیو اور امدادی رضاکار ٹیم سے تعلق رکھنے والے کھوجی کتے نے بھی تلاش میں مدد کی۔

تھرمل امیجنگ سے بھی ملبے تلے دبے بظاہر دو انسانی جسموں کی نشاندہی ہوئی جن میں سے ایک چھوٹا ہے اور بازو اور ٹانگیں جوڑے پڑا ہے۔ دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے ریسکیو سرگرمیوں میں مصروف امدادی کارکنوں نے کہا کہ وہ زیادہ امیدیں نہیں لگانا چاہتے ہیں۔ تاہم کسی کی لاش یا زندہ شخص کے ملنے کے 'ایک فیصد امکان' کی صورت میں بھی انہوں نے تلاش کا کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

چیریٹی تنظیم ’لیو لوو بیروت‘ سے وابستہ ایڈورڈ بٹار نے کہا’ہمیں یقین ہے کہ اندر ایک چھوٹا سا انسان موجود ہے، وہ بچہ ہوسکتا ہے جو ٹانگیں سینے سے لگائے پڑا ہو۔ ہم صرف اس بات کی یقین دہانی کر رہے ہیں کہ وہاں کیا ہے اور یہ معلوم کرنے کے لیے تمام اقدامات لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا ’وہ پہلی منزل پر ہے لیکن دوسری اور تیسری منزل اس کے اوپر گر گئی ہیں۔ ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ ہمیں عوامی تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔ کسی بھی لمحے عمارت گر سکتی ہے۔ لہذا ہمیں بھاری سامان کے بغیر ایک چھوٹی سی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹیمیں ایک گھنٹے میں محض چند سینٹی میٹر آگے بڑھنے میں کامیاب ہو رہی ہیں کیونکہ وہ غیر مستحکم ڈھانچے، چٹانوں اورکئی منزلوں کے ملبے کے نیچے محتاط انداز میں کام کر رہے ہیں۔جمعرات کی شب امدادی کام کو اس وقت روکنا پڑا جب گرنے والی عمارت کی ایک دیوار میں تھرتھراہٹ شروع ہو گئی۔بالآخر آدھی رات سے قبل فوج نے صبح تک کے لیے اس تمام کارروائی کو روک دیا جس پر وہاں پر موجود ہجوم نے غصے کا اظہار کیا کیوں کہ ان کے مطابق وہاں کوئی شخص زندہ ہوسکتا ہے۔

لبنانی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم کے سربراہ میشل المرر نے کہا کہ کرینوں کے بغیر آگے بڑھنا بہت خطرناک ہے جو ان کے پاس نہیں ہیں۔انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا ’ہمیں کسی کو زندہ تلاش کرنے کی زیادہ امید نہیں ہے۔ وہ کوما میں ہو سکتے ہیں۔ لیکن تاحال تلاش کا کام جاری رکھنا محفوظ نہیں ہے۔

4 اگست کے دھماکے کے ایک ماہ بعد بچ جانے والے افراد کی تلاش کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ اس خوفناک دھماکے میں 191 افراد ہلاک اور ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔کچھ افراد نے قیاس آرائی کی کہ امدادی کارکنوں نے کسی جانور کا کھوج لگایا ہو گا لیکن چلی کے ایک رضاکار نے بتایا کہ اس آلے نے کسی جانور کی نہیں بلکہ انسان کے سانس لینے اور دل کی دھڑکن کی نشاندہی کی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -