" اپوزیشن ان کیساتھ رابطے میں ہے اور حکومت کو" دوستوں" نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر نیب قانون میں ضروری ترامیم کریں کیونکہ ۔ ۔ ۔ " سینئر صحافی انصارعباسی نے بڑی خبر دیدی

" اپوزیشن ان کیساتھ رابطے میں ہے اور حکومت کو" دوستوں" نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ...

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نیب قوانین میں ترامیم کی بازگشت چل رہی ہے لیکن حکومت او ر اپوزیشن کے درمیان تاحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا حالانکہ مقتدر حلقوں نے بھی اس میں دلچسپی کا اظہار کیا اور فریقین کو اس معاملے میں کہا بھی گیا ہے ۔یہ دعویٰ سینئر صحافی انصار عباسی نے کیا ہے ۔

روزنامہ جنگ میں انہوں نے لکھا کہ "حکومت کا موقف ہے کہ اپوزیشن نے  ایف اے ٹی ایف سے جڑی قانون سازی کو حکومت کے ساتھ نیب قانون میں ترمیم پر رضامندی سے جوڑ رکھا ہے جس کیلئے پی ٹی آئی تیار نہیں۔ وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ اپوزیشن کے بلیک میل میں نہیں آئیں گے۔ تاہم، شاہد خاقان عباسی نے دو ٹوک الفاظ میں حکومت کے موقف کو مسترد کر دیا اور اس نمائندے سے بات چیت میں واضح کیا کہ ایف اے ٹی ایف اور نیب قانون میں ترمیم کے حوالے سے حالیہ بات چیت میں اپوزیشن نے واضح کر دیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی اور نیب قانون میں ترمیم کا آپس میں کوئی تعلق نہیں"۔ 

انہوں نے مزید لکھا کہ "نیب قانون میں ترمیم کے معاملے پر دونوں فریق اتفاق کرتے ہیں کہ صورتحال جمود کا شکار ہے تاہم، دونوں فریقین کے ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ ’’دوستوں‘‘ کی دلچسپی اس معاملے میں بدستور موجود ہے کہ نیب قانون میں ترمیم کی جائے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام آ سکے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ جو تبدیلیاں اس نے نیب قانون میں دسمبر 2019ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی تھیں ان سے آگے بڑھا جائے۔ 

یہ آرڈیننس 120؍ دن کی اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد ختم ہوگیا۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے ترمیمی مسودے سے چپکی ہوئی ہیں جن کی نوعیت سخت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت بیٹھے اور ان تبدیلیوں پر بات کرے جو اپوزیشن چاہتی ہے اور دونوں فریقین بیٹھ کر ایک دوسرے کو مطمئن کریں کہ آیا ترامیم جائز ہیں۔ 

اپوزیشن سمجھتی ہے کہ نیب قوانین کالے ہیں اور انہیں سیاسی جوڑ توڑ اور مخالفین کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا ہے اور پی ٹی آئی کے وزراء اور رہنمائوں نے بھی ان کے موقف کی حمایت کی ہے کہ جو ترامیم اپوزیشن چاہتی ہے اس سے نیب بے اختیار ادارہ ہو جائے گا جس کا مطلب ہوگا کہ احتساب کا عمل ختم ہو جائے گا۔اگرچہ دونوں فریقین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’’دوست‘‘ نیب قوانین میں ترمیم کے معاملے پر ان کی مدد کیلئے تیار ہیں تاکہ کوئی معاہدہ ہو سکے لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ 

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری ڈیڈ لاک بڑھنے کا امکان نہیں تھا کیونکہ با اثر ’’دوست‘‘ بھی اس معاملے میں شامل ہوگئے تھے لیکن جمود کی صورتحال میں اضافے کی ذمہ داری بڑھتے سیاسی درجہ حرارت پر عائد کی جا رہی ہے۔ چند ہفتے قبل، اپوزیشن کو ’’دوستوں‘‘ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت تبدیلیوں کے مجوزہ مسودے سے زیادہ کچھ پر رضامند ہو جائے گی۔اپوزیشن جماعتیں ’’دوستوں‘‘ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں یقین تھا کہ ابتدائی اتار چڑھائو کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان اس معاملے پر با معنی مذاکرات ہوں گے۔ 

کابینہ کے ایک وزیر نے بھی دی نیوز سے بات چیت میں تصدیق کی تھی کہ حکومت کو ’’دوستوں‘‘ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر نیب قانون میں ضروری ترامیم کی جائیں کیونکہ ان کے بغیر سیاسی استحکام آئے گا اور نہ ہی بیوروکریسی اور کاروباری طبقہ محفوظ محسوس کرے گا"۔

مزید :

قومی -