لاہور، لاہور ہے اور سیالکوٹ، سیالکوٹ

لاہور، لاہور ہے اور سیالکوٹ، سیالکوٹ

  

لاہورکو داتا کی نگری اور زندہ دلوں کا شہر کہا جاتا ہے۔یہاں کے لوگ کشادہ دلوں کے مالک، مہمان نواز اور دوست نواز مشہور ہیں تو سیالکوٹ کو شہر اقبال اور بے مثال لوگوں کا شہر کہا جاتا ہے۔لاہور اور سیالکوٹ کے درمیان بہت سی مشترک خصوصیات ہو سکتی ہیں،جن میں ایک شاعر مشرق کا آبائی وطن اور دوسرا مدفن ہوتا ہے۔دونوں شہروں کے باشندے محب وطن اور معزز شہری ہونے کا وقتاً فوقتاً ثبوت دیتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر اعجاز شیخ اور پاکستان گلوز مینو فیکچررایسوسی ایشن کے عہدیداران کے ساتھ ملاقات کے دوران وہاں کی تاجر برادری سے بھی تبادلہ ءخیال کا موقع ملا۔یہ جان کر مجھے انتہائی خوشی ہوئی کہ سیالکوٹ کی تاجر برادری اپنے شہر، اپنے لوگوں اور ملک کے لئے انتہائی مخلص ہے۔وہ سچے پاکستانی اور محب وطن ہیں۔سیالکوٹ کے لوگوں اور کاروباری برادری کے بارے میں آپ نے یہ تو ضرور سنا ہوگا کہ سیالکوٹ کے شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سیالکوٹ ایئرپورٹ، سیالکوٹ ڈرائی پورٹ، سیالکوٹ کی اہم شاہراہیں، سیالکوٹ کے متعدد سکول اور ہسپتال اور فلاحی ادارے اور تنظیمیں قائم کی ہیں اور اب بھی شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔

میرے خیال میں اگر پاکستان کے تمام شہروں کے لوگ سیالکوٹ کے شہریوں کی طرح اپنے مسائل خود حل کرنے کا تہیہ کرلیں اور عملی طور پر ایسے اقدامات کریں تو وہ وقت دور نہیں ،جب پاکستان عظیم ترین ملکوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔یہاں بھی پیش رفت اور ترقی ہوگی اوریہاں کے لوگ بھی اپنے ملک اور قوم کے لئے کچھ کرنے کی کوشش کرنے لگیں گے۔ ملک میں فی الوقت توانائی کا بحران ہے اور بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ نے ہماری معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے، تاہم سب سے زیادہ متاثر اس بحران سے تاجر اور کاروباری برادری ہوئی ہے جو کسی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔سیالکوٹ کے لوگ بھی اس توانائی کے بحران سے خوش نہیں ہیں، لیکن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں ،بلکہ اس بحران پر قابو پانے کے لئے اپنی کوششیں کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان کی سرپرستی کرے تو وہ اپنے شہر کی حد تک اس بحران پر قابو پانے کے لئے تیار ہیں اور اپنا سرمایہ اس شعبے میں لگا سکتے ہیں،بشرطیکہ حکومت بھی ان کا ہاتھ بٹائے۔

جہاں تک سیالکوٹ کی اہم صنعت کا تعلق ہے تو سیالکوٹ چمڑے کی مصنوعات، سرجیکل اور میڈیکل کے آلات، کھیلوں کا سامان، میوزک کی صنعت، کیمیکلز اور دیگر شعبوں میں بہت سی مصنوعات بنا کر بہت سے ممالک کو بھجواتا اور بہت سا زرمبادلہ کماتا ہے جو ملک کی مجموعی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کررہا ہے،لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ اس عظیم شہر کے باسیوں کو بھی لاہور شہر کی جدید سہولتیں، کالج، سکول، یونیورسٹیاں، ہسپتال، سڑکیں، توانائی، میٹروبس، سالڈ ویسٹ کی صفائی سمیت اس شہر کے تاجروں اور کاروباری برادری کو وہ تمام سہولتیں دی جانی چاہیے،جن کے وہ حق دار ہیں۔

لاہور شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو تحریک یہاں سے اٹھتی ہے ،وہ کامیاب ہوتی ہے اور جو لاہور میں کامیاب ہوگیا، وہ دنیا میں کامیاب ہوگا۔الیکشن سر پر ہیں۔تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہی ہیں،جلسے جلوس ہورہے ہیں،لاہور میں بھی یہ کھیل تماشے جاری ہیں۔لاہوری کشادہ دل ہیں، سب کے لئے اپنے دل کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ لاہور اب کس کو تاج پہناتا ہے؟جہاں تک ہمارا فرض ہے، ہم نے اپنا ووٹ ضرور دینا ہے اور سوچ سمجھ کر دینا ہے۔باقی اللہ جس کوبھی لائے، خدا کرے کہ وہ ملک کو اندھیروں سے نکالے۔روشنی لائے اور خوشحالی لانے کے اقدامات کرے۔لاہور اور سیالکوٹ کی طرح باقی شہروں میں بھی ترقی اور سہولتوں کے لئے اقدامات اٹھائے۔اللہ ہم سب کو اپنے اپنے نیک مقاصد میں کامیابی سے نوازے(آمین) ٭

مزید :

کالم -