الیکشن کے خلاف پمفلٹ پھینکے جا رہے ہیں

الیکشن کے خلاف پمفلٹ پھینکے جا رہے ہیں

  

بلوچستان کے ممتاز قبائلی رہنما اور سیاستدان سردار اختر مینگل طویل خود ساختہ جلاوطنی کے بعد دوبارہ لوٹ آئے ہیں۔ پہلی بار سپریم کورٹ میں اپنے 6 نکات پیش کرنے آئے تھے، اب انتخابات سر پر کھڑے ہیں، ان میں حصہ لینے کے لئے واپس آئے ہیں۔ 2008ءکے انتخابات میں صوبے کی بلوچ اور پشتون قوم پرست پارٹیوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا، اس لئے صوبائی اسمبلی میں حقیقی قوم پرست پارٹیاں موجود نہیں تھیں ، جبکہ سابقہ اسمبلی میں ایجنسیوں کی پروردہ پارٹیاں براجمان تھیں۔ اب نقشہ مختلف ہوگا۔ 2012ءمیں سردار عطاءاللہ مینگل سے ان کے آبائی گاو¿ں وڈھ میں ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ مَیں انتخابات کے بائیکاٹ کے حق میں نہیں تھا۔ نوجوانوں نے میری بات نہیں مانی اور نقصان اٹھایا۔ سردار عطاءاللہ مینگل نے ایک اخبار کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرے، ورنہ عوام سے کٹ جائے گی اور کل لوگ گلہ کریں گے کہ آپ مشکل وقت میں ہماری مدد کے لئے نہیں آئے اور دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ بلوچستان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں، ظلم و ستم کے خلاف جو آواز بلند کی جا رہی ہے، وہ دب جائے گی، جس کا نقصان عوام و جمہوریت اور اسٹیبلشمنٹ کو ہوگا اور بلوچستان میں جو بھی نگران وزیراعلیٰ آئے گا، وہ کٹھ پتلی ہوگا۔

اب سردار مینگل کے بیٹے اختر مینگل نے بلوچستان لوٹنے کا اور انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور ان کی پارٹی اس کے لئے تیار ہے۔ ان کی غیر حاضری میں ڈاکٹر جہانزیب مینگل نے پارٹی کو منظم کیا اور سیاست کو جاری رکھا۔ یاد رہے کہ سردار عطاءاللہ مینگل کا ایک بیٹا جاوید مینگل ان دنوں لندن میں ہے جو بلوچستان میں مسلح جدوجہد کا حامی ہے، لشکر بلوچستان کے نام سے مزاحمت ہو رہی ہے اور جاوید مینگل اس کے سربراہ ہیں۔ جاوید مینگل سینیٹر رہ چکے ہیں اور نواب خیر بخش خان مری کے داماد ہیں۔ وہ انتخابات کے حامی نہیں ہیں، جبکہ اختر مینگل انتخابات کے لئے بلوچستان لوٹ آئے ہیں۔ بلوچستان میں دلچسپ صورت حال ہے۔ نواب خیر بخش مری مسلح مزاحمت کے حامی ہیں، جبکہ ان کے بڑے صاحبزادے چنگیز مری مسلم لیگ (ن) میں شامل ہیں اور انتخابات کے حامی ہیں۔ الیکشن میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ اسی طرح نوابزادہ عالی بگٹی مسلح جدوجہد کے حامی نہیں ہیں اور ان کا بھتیجا براہمداغ بگٹی مسلح جدوجہد کا حامی ہے۔ مسلح مزاحمت کاروں کی پوری کوشش ہے کہ بلوچ علاقوں میں انتخابات نہ ہونے پائیں۔

مختلف شہروں میں مسلح مزاحمت کار تنظیموں کی جانب گھروں میں پمفلٹ پھینکے جا رہے ہیں کہ عوام انتخابات سے دور رہیں۔ حصہ لینے والے خود اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ ڈاکٹر جہانزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم پارلیمانی سیاست کے حامی ہیں اور اس کے تمام ذرائع کو قبول کرتے ہیں۔ ہم ریاست کے اندر رہتے ہوئے سیاسی اور پارلیمانی جدوجہد کر رہے ہیں۔ جاوید مینگل اور اختر مینگل میں صرف بھائی کا تعلق ہے۔ ان دونوں کے راستے جدا جدا ہیں۔ جہاں تک مسلح جدوجہد کا تعلق ہے، وہ بی این پی کے ڈسپلن میں نہیں ہے۔ یہ بیان سردار اختر مینگل کی آمد سے پہلے 11 مارچ کو دیا گیا تھا۔ اب اختر مینگل لوٹ آئے ہیں تو پارٹی کی سربراہی سنبھال لی ہے۔ وہ 25 مارچ کو کراچی ایئر پورٹ اترے تھے۔ ایئر پورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مَیں بلوچستان کی ماو¿ں اور بہنوں کی فریاد پر واپس آیا ہوں۔ موقع ملا تو پارلیمینٹ میں بلوچستان کے مسائل اٹھاو¿ں گا۔ آمریت اور جمہوریت، دونوں نے بلوچوں کو زخم لگائے ہیں۔ میرے 6 نکات آئینی حدود کے اندر تھے، لیکن اس کے بعد سے اب تک 100 بلوچ لاپتہ ہوئے ہیں۔ 70 مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ 60 کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کیا گیا ہے۔ میری آمد کے دن بھی خضدار میں ایک کارکن کو قتل کیا گیا ہے۔

مسلح جدوجہد کے حوالے سے سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہم ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، مگر ہماری پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ ہم حق خود ارادیت کے حامی ہیں۔ بلوچ عسکریت پسندوں کی بائیکاٹ کی رائے ان کی اپنی ہے۔ بلوچ عسکریت پسند طاقت کے بل پر اپنی رائے مسلط نہ کریں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں انتخابات سلیکشن ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے حوالے سے کہا کہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، وہ جوں کے تُوں ہیں اور مَیں جلاوطن بلوچ لیڈروں کو واپس آنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔ حکمرانوں نے پاکستان میں صرف قبرستان آباد کئے ہیں اور انتخابات کے حوالے سے کہا کہ کُل پارٹی میٹنگ ہے، اس میں فیصلہ کریں گے۔ 26 مارچ کو اجلاس بلایا گیا اور بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا گیا۔

سردار اختر مینگل نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ میں پُرہجوم پریس کانفرنس میں پارٹی رہنماو¿ں کے ہمراہ اعلان کیا کہ ان کی پارٹی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور اس کے لئے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے، ہم اپنے امیدوار میدان میں لائیں گے۔ پارٹی کا 3 رکنی وفد صرف الیکشن کمشنر سے ملاقات کرے گا اور اپنے خدشات سے انہیں آگاہ کرے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم ناراض بلوچوں پر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کرنا چاہتے۔ ہم سمندر کے قریب ہیں، اس لئے ہمیں سونامی سے ڈر نہیں لگتا ۔ آئندہ حکومت کس کی بنتی ہے، قبل از وقت کہنا میرے لئے مشکل ہے۔ اس پریس کانفرنس میں پارٹی کی 50 کے قریب اہم شخصیات شامل تھیں اور وہ بھی تھے، جو پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ ڈاکٹر جہاں زیب، رو¿ف مینگل، ثناءبلوچ، اختر لانگو اور پروین بلوچ بھی وہاں موجود تھے۔ سردار اختر مینگل سے نگران وزیراعلیٰ نے ٹیلی فون پر بات چیت کی، انہیں پاکستان لوٹنے پر خوش آمدید کہا اور صوبے کے معاملات پر گفتگو کی نگران وزیراعلیٰ نے سیاسی وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی پارٹیاں اب انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں اور یہ خوش آئند بات ہے اور کہا کہ کوشش کروں گا کہ انتخابات پُر امن ہوں اور یقینی ہوں۔ مَیں غیر جانبدار رہوں گا۔ بلوچستان کے گورنر ذوالفقار علی مگسی نے بھی اختر مینگل کی واپسی اور انتخابات میں حصہ لینے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ پارٹی کا انتخابات میں حصہ لینا نیک شگون ہے۔ اس سے قیام امن میں مدد ملے گی۔ انتخابات میں حصہ لینے سے صوبے کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

قارئین محترم! 2008ءکے انتخابات کا بائیکاٹ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، بی این پی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے کیا تھا۔ اب بلوچستان کے حالیہ انتخابات میں تمام پارٹیاں حصہ لے رہی ہیں۔ تمام نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے اپنے امیدواروں کا اعلان پریس کانفرنسوں کے ذریعے کر دیا ہے۔ بی این پی بھی جلد اعلان کرے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صوبے کے بلوچ علاقوں میں انتخابات کا ہی نقشہ بنتا ہے۔ اس لئے کہ مسلح مزاحمتی تنظیمیں بھی سرگرم ہیں اور وہ انتخابات کو روکنے کی پوری کوشش کریں گی، لیکن انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیاں بھی بلوچ قوم کا ہی حصہ ہیں، وہ ان کے عزائم کو کس طرح ناکام بناتی ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں جعلی قوم پرست پارٹیاں تھیں۔ جنہوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اب کیا یہ مقتدر قوتیں اپنے کھلاڑیوں کو بے آسرا اور یتیم چھوڑ دیں گی یا کچھ نشستوں پر دست شفقت موجود رہے گا، خیال ہے کہ اسمبلی میں چند نشستیں ضرور انہیں عطا کی جائیں گی۔ نواب بگٹی کے بہیمانہ قتل کے بعد سب سے زیادہ مضطرب بلوچستان نظر آ رہا۔ 500 سے زیادہ بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے دور میں ملیں اور سینکڑوں لوگ لاپتہ کئے گئے ۔

پارلیمانی سیاست کرنے والی پارٹیاں اگر کمزور ہوگئیں تو مسلح مزاحمتی پارٹیاں طاقتور ہو جائیں گی۔ مسلح مزاحمتی راہ بھی اسلام آباد کے بادشاہ گروں کے احمقانہ فیصلوں کی وجہ سے ہموار ہوئی ہے، ورنہ خیر بخش خان مری، نواب اکبر بگٹی، حیر بیار مری سب پارلیمانی سیاست کے حامی تھے۔ حیر بیار مری تو صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔ بالاچ مری نے صوبائی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور صوبائی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔ نواب مری نیپ کے صوبائی سربراہ تھے۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور دونوں ایوانوں میں بحیثیت رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ ان سب کو مسلح مزاحمت پر کیوں مجبور کیا گیا۔ نواب بگٹی پاکستان کے زبردست حامی تھے۔ 14 اگست کو پاکستان کے لئے اپنا ووٹ استعمال کیا اور 26 اگست کو جنرل پرویز مشرف کی بہیمانہ پالیسی نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔    ٭

مزید :

کالم -