ہماری مساجد اور مدرسے

ہماری مساجد اور مدرسے
ہماری مساجد اور مدرسے

  

گزشتہ روز (4اپریل2014ئ) کے کالم میں، قومی اسمبلی کی اس قرارداد کا ذکر کیا گیا تھا جو مساجد و مدارس کے بارے میں تھی اور جس میں اتفاق رائے سے یہ تجویز منظور کی گئی تھی کہ پاکستان کے ان مذہبی تدریسی اداروں کو بھی کسی ڈسپلن کے تحت لایا جائے۔ مَیں نے کالم میں عرض کیا تھا کہ یہ کام مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔.... اس پر کئی دوستوں کے فون آئے کہ آپ نے یہ غلط لکھا ہے کہ مساجد کو زیر ڈسپلن نہیں لایا جا سکتا۔ آخر دوسرے ممالک بھی تو ہیں، ان کی عبادت گاہیں بھی ہیں اور ان کو چلانے اورGovernکرنے کے انداز و آداب بھی مقرر ہیں تو پھر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ جب سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک میں ایسا ہو رہا ہے تو ہمارے پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا؟

اس کالم میں، مَیں نے کہیں یہ بھی تحریر کر دیا تھا کہ یہ خانہ ہمہ آفتاب ہے۔ اس پر بھی بعض حضرات چیں بہ جبیں ہوئے کہ ایسا کہنا اور لکھنا، اسلامی عبادت گاہوں کی بالواسطہ بے حرمتی کے مترادف ہے۔.... میرا اندیشہ درست ثابت ہو رہا تھا کہ ہم پاکستانی، مساجد و مدارس کے موضوع پر بڑے حساس اور جذباتی واقع ہوئے ہیں!

لیکن مَیں ایک بار پھر یہی بات لکھنا چاہوں گا کہ پاکستان میں ہم مساجد و مدارس کو کسی ڈسپلن کے تحت نہیں لا سکتے۔ اس کی وجہ، تخلیق ِ پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔ ہماری نسل کو ( اور آج کی نوجوان نسل کو بھی) آج تک یہی بتایا جاتا رہا کہ چونکہ پاکستان، اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا تھا اس لئے، خاکِ وطن کا ہر ذرہ دیوتا ہے! کون مائی کا لال تھا جو کسی اسلامی پہلو پر تنقید کرتا؟

مَیں اپنے قارئین کی توجہ دو تین نکات کی طرف دلانا چاہوں گا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر پاکستان کی مساجد ہمارے نزدیک اتنی ہی مقدس، معتبر اور موقر تھیں تو ہم نے ان کی کیا توقیر کی؟ ان کے تقدس کا کتنا خیال رکھا؟.... اول تو ہماری تقریباً50فیصد سے زائد مساجد نجی کاوشوں کی مرہونِ احسان تھیں ۔ یہ کاوشیں زیادہ تر عوامی چندے پر مشتمل تھیں۔ جو ”مخیر“ حضرات چندہ عطا کرتے اور خانہ ¿ خدا کی دیکھ بھال کرتے اور کرواتے تھے، ان کو اپنی ضروریات بھی تو تھیں جو انہیں ”مخیر“ بناتی تھیں۔ ظاہر ہے چندہ اور خیرات کے نام پر چلنے والی تنظیمیں اور ادارے، اہل ِ خیر اور اہل ِ چندہ کے زیر ِ اثر ہوتے ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی یا انہونی بات نہیں۔ کسی کا مشہور شعر ہے:

اے زر! تو خدا نہ ای و لیکن بخدا

ستارِ عیوب و قاضی الحاجاتی

(اے زر! .... تو خدا تونہیں ہے لیکن خدا کی قسم تو عیبوں کو بھی ڈھانپتا ہے اور ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔) اور یہ دونوں صفات، صفات ِ الٰہی میں سے ہیں۔

ہم نے مسجدوں کی دیکھ بھال کے لئے حکومتی سطح پر کبھی کوئی اقدام نہیں کیا۔ پاکستان اگر اسلام کے نام پر تشکیل پایا تھا تو اس کے بجٹ میں مساجد و مدارس کا بھی تو حصہ ہونا چاہئے تھا، جو نہ ہو سکا۔ ہماری مساجد کے پیش اماموں اور دوسرے عملہ کو محلے کے لوگ جس طرح نان نفقہ مہیا کیا کرتے تھے، اس کا ذکر نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ سماجی پیمانے سے دیکھا جائے تو مساجد کا مرتبہ اور ان کا سٹیٹس بڑا ہی ناگفتہ بہ تھا۔ ایسی بلندی اور ایسی پستی، سماج کے کسی بھی دوسرے ادارے میں نہیں تھی۔.... اور آج بھی گاﺅں گاﺅں اور قریہ قریہ گھوم پھر کے دیکھ لیں کہ ہماری مساجد کے ”خادمانہ“ عملے کا سماجی سٹیٹس وہی ہے۔

شکم کی آگ بجھانے کے لئے پیش اماموں (میری مراد اکثریت سے ہے، اقلیت سے نہیں) کو اپنے بلند مذہبی مرتبے سے بہت نیچے آنا پڑتا تھا، جس آدمی (اور اس کے کنبے)کا بجٹ سال کے صرف ایک ماہ (ماہِ رمضان) کی بخششیں ِ تراویح، ہفتہ واری چندے اور کبھی کبھار کی خیرات پر منحصر ہو، اس کی اَنا کبھی تو جاگے گی!.... میرا پختہ یقین ہے کہ دیہات اور چھوٹے شہروں کی مساجد کے پیش اماموں اور اردو میڈیم سکولوں کے اساتذہ نے ماضی ¿ قریب میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا جو انتقام معاشرے سے لیا اس میں وہ حق بجانب تھے اور ہیں۔ یہ ”انتقام“ اساتذہ نے تو ٹیوشن کلچر کو فروغ دے کر لے لیا اور آئمہ مساجد نے مختلف سیاسی پارٹیوں اور ملکی اور غیر ملکی اداروں کا آلہ کار بن کر لیا۔

قیامِ پاکستان پر مذہبی مدرسوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ صرف بہاولپور سٹیٹ (بہاولنگر، رحیم یار خان اور بہاولپور کے اضلاع) میں ایک تنظیم قائم تھی جس کو ”تنظیم المکاتب فی المساجد“ کا نام دیا جاتا تھا۔ یہ پرائمری تعلیم، مساجد کے احاطوں میں بچے بچیوں کو دی جاتی تھی اور امام مسجد (ان کی اہلیہ یا کوئی اور خاتونِ دیہہ) صبح8بجے سے لے کر دوپہر ایک بجے تک بچوں/ بچیوں کو پڑھاتے تھے اور اس تدریس کے لئے ان کو حکومت کی طرف سے ماہانہ گرانٹ ملتی تھی۔ (اب شائد یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہو گا).... اس سکیم کی دیکھا دیکھی پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی اس سکیم کی پیروی کرنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہ ہوئی۔ البتہ چند مخصوص دیہات اور قصبات کی مساجد میں اقامتی سکولوں کا اہتمام کیا گیا۔ لیکن یہ سب ادارے نجی کاوشوں پر دارو مدار رکھتے تھے۔

پھر وقت گزرتا گیا اور پاکستان کی آبادی اور غربت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ملک کے شمال مغربی حصوں بالخصوص آج کے کوہستان کے اضلاع، سوات اور فاٹا میں چونکہ اسلام کے مفلس اور تہی دست شیدائی بڑی تعداد میں موجود تھے اس لئے انہوں نے اپنی تنگ دستی اور اسلام پسندی کا علاج اس میں ڈھونڈا کہ اپنے جگر گوشوں کو دور دراز کے مدارس میں بھیج دیا، جہاںایک خاص برانڈ کی اسلامی تعلیم اور رہائش مفت تھی۔.... یہیں سے ان علاقوں میں مذہب اور سیاست کی آمیزش کا سلسلہ شروع ہوا۔ وابستہ مفادات نے مساجد کے ساتھ مدرسے بھی تعمیر کر لئے اور ان کی کفالت کے لئے علاقے کے ”اسلام پسند“ اور ”مخیر“ حضرات کو اپنا ہم نوا بنا لیا۔ ان مدارس کے مہتمم حضرات کو جب سیاست کا چسکا پڑا تو ان کے وارے نیارے ہو گئے۔.... گویا دنیا اور عاقبت دونوں سنور گئیں!

یہاں ایک اشکال رفع کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ یہ مساجد اور مدرسے سارے کے سارے اس ”مین سٹریم“ میں شامل نہیں تھے، جن کا ذکر مَیں نے سطورِ بالا میں کیا ہے۔ بعض مدرسوں نے واقعی اسلام اور علاقے کے غریب غربا کے بچوں کی بہت خدمت کی۔ لیکن ان مدارس سے بھی جو ”نفری“ فارغ التحصیل ہوئی، اس کو پاکستان کی مین سٹریم سوسائٹی میں کوئی ایسا مقام نہ مل سکا جو ان کی بنیادی معاشی ضروریات کی کفالت کرتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ یا مسجدوں کے امام بن گئے یا اگر مساجد ان کی تعداد کے مقابلے میں کم تھیں تو انہوں نے اپنا پیٹ پالنے کے لئے اپنی کوالی فیکیشنز کے مطابق ایسی آسامیاں ڈھونڈ لیں جو ان کی کچھ نہ کچھ معاشی کفالت کر سکتی تھیں۔ مُرورِ ایام سے یہ آسامیاں زیادہ پُرکشش اور ترغیبات سے لبریز ہوتی چلی گئیں اور اس طرح پاکستان میں مذہب کے دو طبقات بن گئے۔ ایک روشن خیال اور پڑھا لکھا طبقہ کہلانے لگا اور دوسرے کو قدامت پرست اور نیم خواندہ طبقہ کہا جانے لگا۔.... مذہبی شدت پسندی کا آغاز ہو رہا تھا!

شمال مغربی سرحدی علاقوں کی دیکھا دیکھی پنجاب میں بھی کوششیں ہونے لگیں کہ مدارس کی تعداد بڑھائی جائے۔ لیکن چونکہ پنجاب میں حکومتی تدریسی ادارے اور ایسے نجی تعلیمی ادارے بھی موجودہ تھے جو کسی نہ کسی معیار کی تعلیم و تدریس کا اہتمام کر سکتے تھے، اس لئے مذہبی مدارس کو زیادہ فروغ نہ مل سکا۔ جو مدارس بنائے گئے ان کی تعداد اول اول کم تھی لیکن پھر غربت کے ”فروغ“ کے باعث ان میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔

گزشتہ دنوں ایک عزیز سے ملاقات کے لئے ساہیوال کے ایک گاﺅں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ مَیں ان کے گھر بیٹھا تھا کہ لاﺅڈ سپیکر پر آواز ابھری: ”حضرات و خواتین! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ! پاکپتن سے آپ کے محبوب اور علاقے کے مشہور سرجن ڈاکٹر حیدر شاہ اپنے معمول کے مطابق آپ کی خدمت کے لئے پہنچ گئے ہیں۔ وہ چودھری وقار صاحب کے ڈیرے میں تشریف رکھتے ہیں۔ جن حضرات و خواتین کو شوگر، بلڈ پریشر، دمہ، دل کا عارضہ، موتیا سفید و سیاہ،کالی کھانسی، بلغمی کھانسی، معدے کا درد، اسہال، بواسیر اور دیگر پوشیدہ زنانہ و مردانہ امراض لاحق ہوں، وہ تشریف لا کر ہفتہ بھر کی دوائی لے سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے شہر میں سرجری بھی کرتے ہیں۔“....(ڈاکٹر صاحب اور چودھری صاحب کا اصل نام عمداً نہیں لکھا گیا)

آواز چونکہ نہایت گونجدار تھی اور اعلان پروفیشنل لب و لہجے میں ہو رہا تھا، اس لئے مَیں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو مسجد کے مینار پر بندھے سپیکر نظر آئے جن سے یہ اعلان نشر کیا جا رہا تھا۔ مَیں نے اپنے عزیز سے پوچھا: ”یہ اعلان مسجد سے کیوں کیا جا رہا ہے؟“.... ان کا جواب شنیدنی تھا۔ کہنے لگے:

”جیلانی صاحب! کیا بتاﺅں۔ نمبردار صاحب کے اہل خانہ کو دوا دارو مفت مل جاتے ہیں۔ اس لئے ڈاکٹر صاحب کو صلائے عام دے دی گئی ہے۔ یہ ڈاکٹر وہ عطائی ہیں جن کے ہاتھوں کئی اموات ہو چکی ہیں۔ لیکن یہاں کے بے وقوف لوگ اس بات کو سمجھتے ہی نہیں۔ مریضوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ یہ ”ڈاکٹر“ ان کو جعلی اور نمبر2،3،4 قسم کے ”ویاگرا“ کیپسول کی پڑیاں بنا کر دے دیتے ہیں جو عارضی طور پر تو نوجوانوں کی نس نس میں بجلیاں دوڑا دیتی ہیں مگر جلد ہی چراغ بجھ جاتے ہیں اور اندھیرا چھا جاتا ہے۔.... کئی بار مسجد میں امام صاحب کو کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو روکیں، مگر یہ ڈاکٹر بڑا کائیاں ہے، اعلان کرنے کے لئے پروفیشنل قسم کا ”کمپیئر“ اپنے ساتھ لاتا ہے جس کا ڈاکٹر صاحب کی روزانہ ”وَٹک“ (سیل) میں تیسرا حصہ ہوتا ہے۔ امام مسجد صاحب کو بھی خمس دے دیا جاتا ہے اور وہ چپ کر کے مائیکرو فون اس کمپیئر کے حوالے کر دیتے ہیں۔“

مَیں نے پوچھا: ”کیا کوئی حکومتی ادارہ اس پریکٹس کو روکتا نہیں؟“ تو اس کے جواب میں میرے دوست نے ایک زور دار قہقہہ لگایا .... مَیں ان کا مُنہ دیکھتا رہ گیا۔

ہماری قومی اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اِن پاکستانی گاﺅں اور قصبوں کی مساجد و مدارس میں جاری اس مکروہ کاروبار کو روکنے کے لئے بھی کسی متفقہ قرارداد کا انتظام کریں۔ ٭

مزید : کالم