جمہوریت کے تقاضے!

جمہوریت کے تقاضے!
 جمہوریت کے تقاضے!
کیپشن: umar javed

  


سا بق فوجی حکمران جنرل پر ویز مشرف پر فرد جرم عائد کیا جا نا وا قعی ہما ری ملکی تا ریخ کا انتہا ئی اہم وا قعہ ہے۔ اس حوالے سے یقیناًایک نئی تا ریخ رقم ہو ئی کہ پہلی مر تبہ ایک فو جی آمر پر عدا لت نے فر د جرم عا ئد کی اور علامتی طور پر یہ ثا بت کیا کہ ایک فو جی آمر کو بھی اپنے اعمال کی جو ا بدہی کے لئے عدا لت کے سامنے پیش ہو نا پڑے گا، اب پر ویز مشرف کا نا م ای سی ایل سے نکا ل کر ان کو بیرون ملک کہیں بھی بھیج دیا جائے تو یہ فرد جرم کی مہر ،ان کے ساتھ ہی لگی رہے گی ۔۔۔ مگرپرویز مشرف پر فرد جرم عا ئد ہو نے کے بعد کیا پا کستا نی سیا ستدانوں کی اکثر یت اور میڈ یا کا یہ دعو یٰ درست ہے کہ اب پا کستان میں ما رشل لا ؤں یا فو جی حکمرانوں کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جا ئے گا؟ جبکہ ایسا دعویٰ کر نے والوں کا یہ بھی اصرار ہے کہ آزاد میڈ یا عدلیہ کے ہو تے ہو ئے اب ایسا ممکن ہی نہیں کہ پا کستا ن میں کوئی آمر جمہو ر یت پر شب خون ما ر سکے؟ ہر، ہوش مندپا کستا نی کی یہی خو اہش ہو نی چا ہیے کہ جمہو ری نظا م کی گا ڑی بغیر کسی رکا وٹ کے آگے کی جا نب ہی بڑ ھتی رہے۔

مگر اس تلخ حقیقت کا کیا کر یں کہ عملی دنیا میں چیزوں نے ہما ری خوا ہشا ت سے زیا دہ حقا ئق اور چند بنیادی اصولوں ہی کی بنا ء پرآگے بڑ ھنا ہو تا ہے،چو نکہ یہاں ہمارا مو ضوع جمہو ریت ہے اس لئے پا کستا ن میں جمہوریت ہما ری خوا ہشا ت سے زیا دہ سیا سیا ت کے چند بنیادی اصولوں کے ہی تا بع ہو کر چل سکتی ہے،وگر نہ ذولفقا ر علی بھٹو سے لے کر میا ں نواز شر یف تک کس کی یہ خوا ہش تھی کہ فو جی جر نیل یوں ان کی جمہو ری حکو متوں کا قتل عام کرکے کئی سال کے لئے اقتدار پر قا بض ہو جا ئیں؟ ایشیا ، افر یقہ اور لا طینی امر یکہ کے کئی مما لک کی طرح پاکستان میں بھی سول حکمرا نوں اور فوج کے ما بین اختیارات اور طا قت کے توازن کی لڑا ئی بڑی پرا نی ہے۔پا کستان میں جہا ں ایک طر ف فو جی جر نیلوں نے چار مر تبہ غیر آئینی طر یقے سے اقتدار پر قا بض ہو کر گیارہ ، گیارہ سال تک ناجا ئز حکمرانی کی، وہیں دوسری طرف ان فو جی آمر یتوں کے زیر عتا ب آنے والے سیا ستدانوں نے بھی جمہو ریت کے خا تمے کی تما م تر ذمہ د اری ان جر نیلوں پر ہی ڈالتے ہوئے سیاسیات میں جمہوریت کی کا میا بی کے لئے چند بنیا دی اصولوں اور تقا ضوں کو نظر اندا ز کیا۔

جمہو ریت میں اقتدا ر کا مبنع عوام ہو تے ہیں، اس بنیا دی اصول کو رد نہیں کیا جا سکتا ،مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کی وا ضح اکثر یت نظر ی ، آ ئینی اور قا نونی بحثوں سے زیا دہ ہمیشہ اپنے معا شی مفا دات، روزگار، آٹے دال کا بھا ؤ،مہنگا ئی، تعلیم اور،انصاف جیسے مسا ئل کی با بت زیادہ حسا س ہو تی ہے۔یو رپ اور امر یکہ میں صدیوں سے جمہو ریت کی کا میا بی میں ایک بڑا عا مل یہی رہا کہ وہاں کے حکمران طبقات نے اس حقیقت کا ادراک کر تے ہوئے اپنے عوام کے معا شی مفا دات پر کسی حد تک توجہ مرکوزرکھی،جس کے با عث یورپ اور امر یکی عوام کی اکثریت کا اس نظام پر اعتما د بر قرار رہا اور وہ اپنے جمہوری حقوق سے فا ئدہ اٹھا تے رہے۔ایسی صورت حال میں اگر کسی جا نب سے جمہوریت کو نقصا ن پہنچنے کا اندیشہ بھی ہو تو عوام خود ایسے نظام کو بچا نے کے لئے آخر ی حدوں تک جانے کے لئے تیا ر رہتے ہیں ،کیو نکہ یہ نظا م ان کی سیا سی ضرو ریات کے سا تھ ساتھ کسی حد تک معا شی تحفظ بھی فراہم کر نے کی کو شش کر رہا ہو تا ہے۔جمہو ریت کی کامیا بی کا یہ اصول اس قدر آفا قی اور ہمہ گیر ہے کہ اس کا اطلاق صرف ایسے مما لک پر ہی نہیں ہو تا کہ جہا ں جمہو ری روایات صدیوں پرانی ہیں ،بلکہ ایسے ممالک میں بھی یہی اصول کار فرما نظر آتا ہے کہ جہا ں جمہو ریت کا تجر بہ اتنا پرانا نہیں ۔

2002ء میں سی آئی اے کے ایماء پر وینزویلا میں منتخب صدر ہیو گیو شا ویز کے خلاف فوج کے چند جنرلوں نے ما ر شل لا ء کے نفا ٖذ کا اعلان کر تے ہوئے شا ویز کی منتخب حکومت کا تختہ پلٹنے کی کارروائی شروع کر دی ،مگر چند ہی گھنٹوں کے اندر اندر عوام سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے ایسی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کو نا کام بنا دیا کہ جس منتخب حکومت نے ان کو سیا سی حقوق کے سا تھ ساتھ کسی حد تک معا شی مرا عا ت بھی عطا کی تھیں۔تر کی میں بھی ا قتدار کے لئے سیاستدانوں اور فوج کی لڑائی بڑی پرانی تھی، مگرموجودہ حکمران جماعت اے کے پی پا رٹی نے اقتدار سنبھا لنے کے بعد سب سے پہلے معاشی اصلاحات کیں اور ترکی کے چھو ٹے شہروں اور دیہی عوام کو بھی کسی حد تک معا شی مرا عا ت دلوا ئیں ،انہی معا شی پالیسیوں کے باعث اے کے پی پا رٹی نے متواتر تیسری مر تبہ اقتدار حا صل کیا اور ایسے فو جی جر نیلوں کے خلاف باقاعدہ کا رروا ئی کا آغا ز کر دیا ،کہ جن کے جمہوریت کے حوالے سے عزائم نیک نہیں تھے۔ما ضی میں بھی ترکی کے سیا ستدانوں نے جنر لوں کے خلا ف کارروائی کا فیصلہ کیا، مگر وہ اس میں کا میا ب نہیں ہو ئے، لیکن اس مرتبہ ترکی کی حکمران جما عت کو یقین ہے کہ اگر تر کی میں ایک مر تبہ پھر جمہو ریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کو شش کی گئی تو تر کی کے عوام کی اکثریت خود اس نظام کو بچا نے کے لئے سڑکوں پر نکل آئے گی کہ جس نظام نے ان کو کسی حد تک معا شی مراعات د لا ئیں۔

عوام کے معا شی مفادات کے تحفظ کے علا وہ جمہوریت نے اپنی طا قت کو ہمیشہ چند اداروں کے ذ ر یعے ہی تسلیم کروانا ہو تا ہے۔ یہ ادارے اگر آ ئینی اور انتظا می اعتبا ر سے اپنا کر دار صیح معنو ں میں ادا کر نے سے قا صر ہوں تو ا یسی صورت حا ل میں یہ عین ممکن ہو جا تا ہے کہ کو ئی ایسا ادارہ، جس کو اصو لی و آ ئینی اعتبا ر سے انتظا می معاملات میں مدا خلت کا حق حا صل نہ ہو، وہ اس خلا ء کوپُر کرنے کے لئے انتظا می معا ملا ت میں مدا خلت شر و ع کر دے، کیونکہ طا قت کبھی خلا ء میں نہیں رہتی۔اس خلا ء کو کسی نہ کسی صو رت میں پُر ہو نا ہی ہو تا ہے چا ہے اس خلاکو پُر کرنے کے لئے کسی ادا رے کو غیرآئینی اقدام ہی کیوں نہ کر نا پڑے۔ پاکستان سمیت ا یشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی مما لک میں بر پا ہونے والے فوجی انقلابات میں ان مما لک کے سیا سی، آئینی اور سماجی اداروں کی کمزوری یا نا اہلی کا بھی خاصا عمل دخل تھا۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پا کستان میں ا نتظا می اور سیا سی ادارے ابھی بھی کمزور اور نا اہل ہیں۔آج بھی جمہوری حکو متوں کو اپنی سیا سی قوت کے لئے انتہا ئی رجعت پسند طبقا ت پر انحصا ر کر نا پڑتا ہے۔ اس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ حکمرا ن جما عت مسلم لیگ (ن )جہا ں ایک طرف پرویز مشرف کے خلا ف ٹرا ئل کا عزم رکھتی ہے تو دوسری طرف اس کی اپنی صفوں میں کئی ایم اے، حتیٰ کہ وزرا ء ایسے ہیں کہ ،جنہوں نے پرویز مشرف دور میں اس کے ہا تھ مضبوط کئے۔ سیا سی اور انتظا می ادا روں کی اسی کمزوری کے با عث میڈیا اور عد لیہ ا یسے ادارے بن چکے ہیں جو نہ صر ف مکمل طور پر آزاد ہیں، بلکہ دیگر ریا ستی اداروں کے برعکس عوا م کی امیدوں کا محور بھی بن چکے ہیں۔۔۔مگر یہا ں ایک مرتبہ پھر سیاسیات کا یہ اصول آڑے آ جا تا ہے کہ جب تک ریا ست کے انتظامی ادارے نا اہل اور کمزور ہوں تو ایسے میں ایک یا دو اداروں کا فعا ل ہو نا مستقل جمہو ریت کا ضا من نہیں ہو تا ۔ افسوس ابھی بھی کئی سیا ستدان، سول سوسائٹی ، میڈیا اور دا نشوروں کی اکثریت اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی کہ جب تک یہ بو سیدہ سیا سی اور معا شی ڈھا نچہ برقرار رہے گا، تب تک پاکستان میں جمہو ریت بھی خطر ے میں رہے گی۔

2011میں منظر عا م پر آنے وا لی کتا ب Pakistan: A Hard Country۔۔۔کے مصنف ا ینا تھول لیو ن نے بنیا دی طور پر یہ مو قف پیش کیا ہے کہ پا کستانی سیا ست اور سما جی رویے ا بھی بھی Kinshipیا برا دریوں اور ذا توں کے گر د گھو متے ہیں، ریاست یا قو م کے ساتھ وفا داری کا رشتہ استوار ہو نے کی بجا ئے پا کستانی سما ج میں Kinshipکی بنیا د پر استوار ہو نے والے رشتے زیا دہ مضبو ط ہیں، یہی امر پاکستان میں کسی بھی قسم کی مثبت یا منفی جو ہر ی تبدیلی لا نے میں سب سے بڑ ی رکا وٹ ہے۔لیون کی بات کو نظر انداز کر نا اس لئے ممکن نہیں ،کیو نکہ اکثر مغر بی دانشوروں کی طر ح لیون نے کسی تھنک ٹینک میں بیٹھ کر اپنا تجز یہ پیش کر نے کی بجا ئے خو د پاکستان کے کئی دورے کئے اور بیس سا ل کے گہر ے مشا ہدے اور مطالعے کے بعد اس سوچ کو پیش کیا۔ا یسی سیا ست جس کا بنیا دی مْقصد ہی اپنی ذات و برا دری کے لو گوں کو جا ئز و نا جا ئز ذرا ئع سے نوا زنا ہو ، وہاں یہ امید رکھنا کہ سیا ست میں کسی قسم کے جمہو ری یا ا خلا قی اصو لوں کی کو ئی گنجا ئش ہو گی، سرا سر خا م خیا لی ہے ۔

پاکستان کے عوام نے ہمیشہ جمہو ریت کے لئے بے تحا شہ قربانیاں دی ہیں۔ایوب خان جیسے مضبوط آمر کے خلاف 1968-69ء کی تحریک، جنرل ضیا ء الحق کے خلا ف ایم آر ڈی کی تحر یک اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف عوام کا وکلا ء تحریک میں شا نہ بشانہ شامل ہونا، جسے پوری دنیا میں زبردست پذ یرائی ملی، عوام کے جمہو ریت سے اسی لگاؤ کے با عث آج پاکستان میں عوام کو آئینی اور قانونی اعتبا ر سے ایسے بنیا دی اور سیا سی حقو ق حا صل ہیں ، جن کا مشرق وسطیٰ کے اکثر مما لک سمیت چین اور روس جیسے ممالک میں بھی کو ئی تصور نہیں۔عوام اپنے کندھوں پر جمہوریت کے نا م لیوا حکمرا نوں کو اقتدار کی مسند پر فا ئز کرتے رہے، مگر یہ حکمران اقتدار میں آنے کے بعد عوام کے معا شی مسا ئل حل کر نے کی بجا ئے آ ئینی اور قا نونی موشگا فیوں کے ذریعے اپنے اقتدار کو مضبو ط کر کے اسے اپنے ہی مفا دات کے لئے استعما ل کر تے رہے۔آج پاکستان کی تما م چھوٹی بڑ ی جما عتیں جمہو ری نظام کے تسلسل کو بر قرار رکھنے کے حو الے سے متفق نظر آتیں ۔ما ضی میں بھی چند آئینی اصلا حا ت کر کے یہ تصور قا ئم کیا گیا تھا کہ اب پا کستان میں آمر یتوں کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے، مگر اس بنیا دی حقیقت کو ابھی بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا کہ جمہو ریت کے تسلسل کے لئے آئینی اصلاحات سے زیا دہ ان تقاضوں اور اصولوں کو پو را کر نا ضروری ہے ، جن کے با عث دنیا کے جمہو ری مما لک میں جمہو ریت کا سلسلہ بغیر کسی رکا وٹ کے جا ری ہے۔ *

مزید :

کالم -