حکومت طالبان مذاکرات ۔ سست روی کا شکا ر نہ ہوں

حکومت طالبان مذاکرات ۔ سست روی کا شکا ر نہ ہوں

کالعدم تحریک طالبان نے جنگ بندی میں دس روز کی توسیع کر دی ہے اور کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ کئے گئے عہد کے پابند اور مذاکرات جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔ وزیر داخلہ نے مذاکرات آگے بڑھانے کے لئے دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس بلا لیا ہے۔ طالبان شوریٰ نے خفیہ مقام پر ہونے والے اپنے اجلاس میں جنگ بندی میں دس دن کی توسیع کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں اب تک کے مذاکراتی عمل میں بعض حکومتی معاملات پر شدید تحفظات ظاہر کئے گئے اور کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت مذاکراتی عمل میں سنجیدہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض یقین دہانیوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اجلاس میں حکومت کے اس پیغام کو بھی پیش کیا گیا کہ جنرل پرویز مشرف کے کیس میں حکومتی مصروفیات کی وجہ سے مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ حکومت مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی خواہاں ہے، لہٰذا جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع ہونی چاہئے، جس پر تفصیلی غور کرنے کے بعد دس روز کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ حکومت سے طے شدہ معاملات میں پیشرفت نظر آنی چاہئے۔ اس اجلاس کے مطابق احرار الہند اور انصارالمسلمین نامی تنظیموں نے بھی مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ جنگ بندی میں غیر معینہ عرصہ کے لئے توسیع ہونی چاہئے۔ حکومت اپنی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کی پابند ہے، وزیراعظم مذاکراتی عمل میں موثر پیشرفت کے خواہاں ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے۔ براہ راست مذاکرات کا اگلا مرحلہ جلد شروع ہو گا۔ ملک سے فساد ختم کرنا چاہتے ہیں، جس کے لئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ اس میں پیشرفت ہو گی اور ہم ملک کو ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے اقتدار بچانے کے لئے پاکستان کو بیرونی جنگ میں دھکیل دیا۔ اسی بات کو وزیر اطلاعات نے اس طرح کہا ہے کہ پرویز مشرف نے طالبان کو پاکستان پر مسلط کیا ہے۔

حکومتی ذرائع اور طالبان مجلس شوریٰ کی طرف سے ظاہر کئے گئے تحفظات کے باوجود دونوں طرف سے ملک میں امن بحال کرنے کی خواہش کا اظہار ایک امید افزا بات ہے۔ اگر طالبان کی طرف سے بعض حکومتی یقین دہانیوں پر بروقت عمل نہ ہونے کو حکومتی غیر سنجیدگی قرار دیا گیا ہے تو حکومتی ذرائع کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ طالبان کی طرف سے ایسے اقدامات کئے جانے چاہئیں،جن سے مذاکرات کے آگے بڑھنے کا علم ہو۔ حکومتی ذرائع نے جنگ بندی غیر معینہ مدت کے لئے کرنے کا بھی کہا ہے۔ طالبان کو پاکستان میں موجود حکومتی مشینری کی سست روی اور دوسری پیچیدگیوں کا احساس ہو گا۔ سب سے اوپر والی سطح سے احکامات جاری ہونے کے بعد بھی ان پر عمل درآمد میں کچھ وقت صرف ہوتا ہے، لیکن اگر یقین دہانی کے مطابق کچھ کرنے کا عمل شروع ہو جائے، تو پھر حکمرانوں کی نیت پر شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کئی بار احکامات جاری کرنے کے بعد ان پر فوری عمل درآمد کے لئے یاد دہائی کا خط بھی لکھنا پڑتا ہے۔ ماتحتوں کی طرف سے بعض قانونی پیچیدگیوں کی نشاندہی کے بعد انہیں سلجھانے کے سلسلے میں بھی اوپر والوں سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ طالبان کی طرف سے تو زبانی مطالبات کئے جا سکتے ہیں، لیکن حکومتی سطح پر کیا جانے والا ہر کام تحریری فیصلوں اور متعلقہ طریق کار کے مطابق ہی طے ہوتا ہے۔ طالبان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس وقت وہ اپنے جائز مطالبات منوانے اور اپنے مسائل حل کرانے کے بعد پاکستانی معاشرے کی مین سٹریم کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ اب انہیں پاکستان میں امن قائم کرنے کے لئے تعاون کرنا ہے۔ انہیں اپنی سرگرمیوں کا رخ قتل و غارت گری اور افراتفری پیدا کرنے کے بجائے استحکام کی طرف موڑنا ہے۔ ایسا کرنا ملت اسلامیہ کے مفاد میں ہے۔ یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

 مصر، عراق اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں دشمنانِ اسلام نے خانہ جنگی شروع کرانے کے بعد ان مسلم ممالک کی جنگی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔ ایسے ہی ارادوں کے ساتھ یہ بیرونی طاقتیں پاکستان میں حکومت سے اختلافات رکھنے والے انتہاءپسند گروہوں کو استعمال کر رہی ہیں۔ محنت اور طویل منصوبہ بندی اور اربوں ڈالر کے اخراجات کے بعد یہ طاقتیں پاکستان میں دہشت گردی کا یہ نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، جن دہشت گرد گروہوں اور سادہ دل لوگوں کے سلسلے میں ایسا معاملہ نہیں ہے وہ بھی بالواسطہ طور پر دشمنانِ اسلام کے یہی مقاصد پورے کر رہے ہیں۔ اس فریب سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ پاکستان کی 18کروڑ کی قوم دہشت گردی اور دہشت گردوں سے سخت نفرت کرتی ہے۔ بعض لوگ مذہبی بنیادوں پر طالبان سے ہمدردی رکھتے ہیں، لیکن ان کی ہمدردی بھی طالبان کے افغانستان میں کردار کی بنا پر ہے ، پاکستان میں دہشت گردی کی تائید و حمایت کسی نے کبھی نہیں کی۔ پاکستانیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد طالبان سے سختی کے ساتھ نمٹنے پر مسلسل زور دیتی رہی ہے۔ اب بھی بعض طاقتیں یہی چاہتی ہیںان کے نزدیک حکومت کو دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر ہرگز نہیں بیٹھنا چاہئے، لیکن امن کو آخری موقع دینے کے خیال سے حکومت مذاکرات کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے، جس پر اس وقت تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے واسطے سے قوم اتفاق کئے ہوئے ہے۔ اس وقت مذاکرات کے دوران دہشت گردی کی کارروائیوں کا نہ ہونا طالبان کی صلاحیت کار اور تنظیمی اثر کا اظہار ہے۔ قوم امن چاہتی ہے اور طالبان کو مین سٹریم میں واپس لا کر جمہوری نظام کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔ اگر مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھتا، دس دن کی مہلت دینے والے طالبان کی طرف سے دہشت گردی کی پھر کوئی کارروائی ہوتی ہے، جس کا وہ اعتراف بھی کرتے ہیں تو پھر پاکستان میں کوئی بھی طالبان کا حامی اور طرفدار نہیں رہے گا، دہشت گردی کے سلسلے میں معاملہ دوٹوک ہو جائے گا ، اسے پاکستان کی بقاءکے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا اور پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ یہ جنگ لڑے گی، خواہ یہ کتنی ہی پیچیدہ اور طویل کیوں نہ ہو۔

اس کے ساتھ ہی حکومت کی طرف سے بھی اپنے کرنے والے کاموں کے سلسلے میں فوری اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ ہم ایک خوفناک جنگ سے باہر آنے کی کوشش میں ہیں، اگر جنگ وقتی طور پر روک دی گئی ہے، تو اسے مذاکرات میں آگے بڑھے بغیر بلا ضرورت طول بھی نہیں دیا جا سکے گا۔ طالبان کی طرف سے صرف دس دن کی توسیع دینے کا مفہوم ہمیں سمجھ لینا چاہئے۔ دہشت گردی اور لاقانونیت ایک ایسی مصیبت ہے، جس سے پوری قوم نجات پانا چاہتی ہے۔ اگر حکومت نے مذاکرات کی صحیح سمت میں قدم اٹھایا ہے، تو اس میں زیادہ سنجیدگی اور بسرعت پیشرفت کی خواہش حکومت ہی کی طرف سے ظاہر کی جانی چاہئے، یہ نہیں ہونا چاہئے کہ فریق مخالف کو مختلف یقین دہانیاں کرانے کے بعد اردگرد دیکھنے کا رویہ اختیار کر لیا جائے۔ جنگ کے وقت ایکشن یا جنگ بندی کے لئے جس تیزی سے معاملات نمٹائے جاتے ہیں وہی تیزی اور مستعدی ان مذاکرات کے سلسلے میں نہ دکھائی گئی، تو کھیل بگڑ بھی سکتا ہے۔ اس وقت قوم کی مذاکرات پر نظریں ہیں، سست روی بھی مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے سب کے سامنے آ رہی ہے اور فریقین سے کسی کی طرف سے غیر سنجیدگی برتنے کا بھی قوم کا ہر حساس فرد نگران ہے۔ یہ ساری صورت حال بالخصوص حکومتی جماعت کا بھی ایک بڑا امتحان ہے۔

مزید : اداریہ