بلوچ عوام سے اظہار یکجہتی

بلوچ عوام سے اظہار یکجہتی

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی، ناراض لوگوں کی ناراضگی کا خاتمہ، صوبے کے لوگوں کو تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے صوبے میں اپنی اکثریت کے باوجود وزارتِ عظمیٰ دوسری جماعت کو دینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام بلوچوں کو قومی دھارے میں لا کر ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ اختر مینگل سے ملاقات کے دوران بات چیت کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورت حال، صوبائی معاملات سمیت مجموعی قومی صورت حال پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے بزرگ سیاست دان کی حیثیت سے اختر مینگل کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے ان کے دوبارہ سیاست میں سرگرم ہونے کو سراہا اور یقین دلایا کہ حکومت صوبے کی پسماندگی کے خاتمہ اور محرومیوں کے ازالے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

 موجودہ حالات میں وزیراعظم کی بلوچ رہنما اختر مینگل سے ملاقات اہمیت کی حامل ہے، جس سے واضح ہے کہ وفاقی حکومت ملک کے دوسرے بے شمار معاملات کے ساتھ بلوچستان کے حالات سے بھی بے خبر نہیں اور اس سلسلے میں وزیراعظم قومی امنگوں اور خواہشات کے مطابق بلوچستا ن کے حالات کو سنوارنے کا عزم رکھتے ہیں۔بلوچستان میں مقامی طور پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں ابھی تک اس طرح ختم نہیں ہوئیں جس طرح کہ ملک کے دوسرے حصوں میں طالبان کی جنگ بندی کے بعد ختم ہو چکی ہیں۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں حکومت کی رٹ پوری طرح قائم کرنے کے مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور بیرونی طاقتوں کی شہ پر مختلف لوگ ہر طرح کا زہریلا پراپیگنڈا کرنے اور نسلی اور علاقائی تعصب کو انتہاءتک پہنچانے کے لئے سرگرم ہیں۔ سب سے بڑھ کر ان تخریبی عناصر کی سرکوبی کرنے اور گمراہ کئے ہوئے بلوچ عوام تک صحیح حقائق پہنچانے اور انہیں افواہوں سے بچانے کی ضرورت ہے، جہاں وفاقی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے مختلف منصوبے شروع کرتی ہے، وہاں نچلے طبقات سے رابطوں اور ان کے دلوں کو نفرتوں سے پاک کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے لئے حکومتی جماعت کے صوبے میں سچے کھرے محب وطن پاکستانیوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے، پھر قومی یکجہتی اور اتحاد و یگانگت کے سب کام ان کی وساطت سے شروع کئے جانے چاہئیں۔ ان لوگوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے، جن تک محب وطن لوگ اور حکمرانوں کی ابھی تک موثر رسائی نہیں۔ اختر مینگل جیسے صاحبِ درد افراد سے حکومتی مشینری مل کر اس سلسلے میں سنجیدگی سے منصوبہ بندی کر کے کام شروع کرے تو اسی صورت میں وزیراعظم کی نیک تمناﺅں کو کوئی عملی شکل ملنے کی توقع کی جا سکے گی۔ ٭

مزید : اداریہ