’مجھے نوکری سے نفرت ہے‘

’مجھے نوکری سے نفرت ہے‘
’مجھے نوکری سے نفرت ہے‘

  

نیویارک (بیورو رپورٹ) امریکی حکام کو ایک عدالتی سٹینو گرافر نے مشکل میں ڈال دیا۔ تفصیلات کے مطابق 43 سالہ عدالتی سٹینو گرافر ڈینئیل کوچانسکی کی فائلوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ عدالتی کارروائی ریکارڈ کرنے کی بجائے وہ مسلسل ہی لکھتا رہا کہ اسے اس نوکری سے نفرت ہے۔ حکام کے مطابق اس نے قریباً 30 مقدمات کے ساتھ یہی سلوک کیا اور ان مقدمات میں بہت اہم اور بڑے کیسز بھی شامل ہیں۔ کوچانسکی سوالات اور جوابات ریکارڈ کرنے کی بجائے اپنی نوکری کو کوستا رہا یا اپنے خیالات بے ربط انداز میں لکھتا رہا۔ یہ راز فاش ہونے پر اسے گرفتار کرلیا گیا اور کوشش کی گئی کہ مقدمات کی تفصیلات اس کی اس کی تحریروں سے نکالی جاسکیں لیکن یہ کوشش بھی بے فائدہ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد اب ججوں کو یاد دہانی کی سماعتیں شیڈول کرنا پڑ رہی ہیں جن میں کمرہ عدالت میں موجود لوگوں کو کیس کے بارے میں جو یاد ہو وہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ کئی مقدمات میں شاید مجرم اپیلوں میں رہا کردئیے جائیں کیونکہ اہم شواہد ضائع ہوچکے ہیں۔ سٹینو گرافر کے والد ایڈ کوچانسکی کے مابق ان کا بیٹا پانچ سال قبل شرابی بن گیا تھا۔ زیادہ شراب پینے کی وجہ سے اس کی نوکری چلی گئی اور شادی ختم ہوگئی اور آخری مرتبہ تین سال قبل بات ہوئی تو وہ اپنا علاج کرارہا تھا۔ دوسری جانب کوچانسکی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا میری تحریریں تو بے حد واضح ہیں۔

مزید : جرم و انصاف