گھریلو ملزمہ کو جلانے والے ’شکنجے‘ میں آگئے

گھریلو ملزمہ کو جلانے والے ’شکنجے‘ میں آگئے
گھریلو ملزمہ کو جلانے والے ’شکنجے‘ میں آگئے

  

لاہور(کرائم سیل) ملت پارک کے علاقہ میں 14سالہ بچی پر تشدد کیس۔پولیس نے ڈی آئی جی کے حکم پر ملزمان کیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کر کے دو خواتین 1مرد کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سبزا زار ڈبن پورہ کراچی والی پلی کے رہائشی عبدالرزاق نامی شخص نے اپنی 14سالہ بیٹی اقصیٰ کو ملت پارک 74/N کی رہا ئشی خاتون حمیرا بی بی کے گھر 3000روپے ماہانہ گھر یلو ملازمہ چھوڑا تھا۔مدعی باپ نے سماء کو بتایا کہ 4ماہ گزرنے کے باوجود ہمیں ہمارہ بچی سے کبھی ملنے نہ دیا۔ جنہوں نے ہماری بچی کو آگے اپنی بیٹی ماریہ اور اسکے شوہر حسن کے گھر بطور ملازمہ بھجوا دیا تھا۔چار روز قبل ہمیں ماہ رخ نامی خاتون نے ہمیں بذریعہ فون کر کے اطلاع کی تھی۔کہ اپنی بیماربیٹی کو آ کر لے جاؤ۔جہاں جا کر ہم نے دیکھا کہ اقصیٰ بر ی طرح سے جلی ہو ئی تھی جسے ہم خود میو ہسپتال برن وارڈ لیکر آئے جہاں ڈاکڑوں کے مطابق مذکورہ لڑکی کا 60فیصد جسم بری طرح جھلس چکا ہے۔ تاہم ڈی آئی جی رانا عبد لجبار کے واقعہ کا نوٹس لینے پر پولیس نے حمیرا بی بی ۔اسکے شوہر جمشید ،بیٹی ماریہ اور داماد کے خلاف اقدام قتل کا مقدمی درج کر کے ملزم جمشید ،حمیرا بی بی اور ماریہ بی بی کو گرفتار کر لیا ہے۔دوسری جانب تھانہ ملت پارک میں بند ملزم جمشید نے بتایا کہ پیسوں کے لالچ میں سازش کے تحت ہمارے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔وقوعہ 4روز قبل پیش آیاجبکہ میں میری بیوی میری بیٹی اور داماد 8 روز سے ایک ضروری کام سے اپنے رشتہ داروں کے گھر ملتان میں تھے۔ جبکہ واقعہ کے دن ہی پولیس نے جھلسنے والی لڑکی کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔جس میں ا قصیٰ نے خود بتایا تھا کہ مجھے چائے بناتے ہوئے کپڑوں میں آگ لگی جس سے میں بری طرح جھلس گئی تھی۔مجھ پہ کسی نے نہ تو تشدد کیا اور نہ ہی مجھے تیل چھڑک کر جلایا گیا۔دریں اثنا ایس ایچ او ملت پارک غلام باری نے کہا کہ چار روز قبل وقوعہ کے روز تھانہ ملت پارک کا T.A.s.i.زبیر خود تھانے گیا جہاں جھلسنے والی بچی نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ مجھے کچن میں اچانک آگ لگی تھی۔ جبکہ اب لڑکی اپنے بیان سے مکر گئی ہے۔ہم نے ایس پی صاحب کے حکم پر ایف آئی آر درج کی ہے۔

مزید : انسانی حقوق