جماعت اسلامی کا کنونشن؛نجکاری پالیسی کی مذمت

جماعت اسلامی کا کنونشن؛نجکاری پالیسی کی مذمت
جماعت اسلامی کا کنونشن؛نجکاری پالیسی کی مذمت

  

لاہور(سٹاف رپورٹر)پارلیمانی لیڈر اور امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اخترنے جماعت اسلامی پنجاب کے سہ روزہ تنظیمی کنونشن میں قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے قرارداد میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے انتخابات سے قبل بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے ، معیشت کی بحالی، غیر ملکی قرضوں سے نجات ، کشکول گدائی توڑنے، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے، بیمار صنعتی اداروں کی بحالی کے خوبصورت اور بلند و بانگ دعوے کئے مگر یہ نعرے اور دعوے اقتدار کی غلام گردشوں میں گم ہوگئے۔ 10 ماہ سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود کسی ایک وعدہ پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا بلکہ اس کے برعکس مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان نے ساری کسر نکال کر رکھ دی۔ ضروریات زندگی کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔ غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے بجائے ورلڈ بینک اور IMF کے آگے جھولی پھیلانے کو فخر محسوس کیا جانے لگا۔ملک کی معاشی اور اقتصادی صورت حال روز بروز زوال پذیر ہوتی جا رہی ہے۔18ویں ترمیم کے بعد قومی اداروں کی نجکاری سے پہلے مشترکہ مفادات کونسل (CCI)سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے لیکن حکمران آئین کو بلڈوز کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے قومی اہمیت کے 68 اداروں کو نجکاری کی بھینٹ چڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جن میں ریلوے، واپڈا، پاکستان اسٹیل مل، شپنگ کارپوریشن، پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور آئل اینڈگیس جیسے ادارے شامل ہیں۔ سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ان اداروں کی نجکاری مخصوص لوگوں کو نوازنے کے لئے کی جا رہی ہے۔ اس سے جہاں لاکھوں مزدور روزگار سے محروم ہوں گے وہاں اہم قومی اور دفاعی نوعیت کے ادارے غیر محفوظ ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔ملک پہلے ہی شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ حکومت نے بڑے پیمانوں پر اداروں کی لوٹ سیل لگا کر ملک کے اہم اداروں کو اونے پونے فروخت کرنے کا پروگرام بنا لیا ہے جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور حکومت کوئی خاطر خواہ ریونیو بھی حاصل نہ کر سکے گی۔جماعت اسلامی پنجاب کاکنونشن مطالبہ کرتاہے کہ موجودہ حکومت اہم قومی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے۔ IMF کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے بجائے خود انحصاری کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ملکی معیشت کو بحال کرے۔خسارے میں چلنے والے اداروں کے انتظامی معاملات بہتر بنائے ۔ سابقہ ادوار میں کی جانے والی نجکاری کی جوڈیشل تحقیقات کرانے اور اس

میں ہونے والی بدعنوانیوں کو منظر عام پر لایا جائے۔حکمران اپنے سمیت بیوروکریٹس،سیاستدانوں، جرنیلوں اور ججوں کی بیرونِ ملک جمع ناجائز دولت واپس لائیں، غیرملکی قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے سادہ طرزِ زندگی اختیار کریں۔روزگار کی فراہمی کے لئے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے دعوے نہیں عملی کام کرکے دکھایا جائے۔ نیز امن عامہ کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے۔ لیبر قوانین پر پوری طرح عمل درآمد کیاجائے ، خامیوں کو دور کیاجائے ، اور ٹھیکیداری نظام ختم کیاجائے۔سوشل سیکورٹی کے دائرے کو تمام مزدوروں تک وسیع کیاجائے۔

مزید : لاہور