دعا کیجئے اب !!!

دعا کیجئے اب !!!
 دعا کیجئے اب !!!
کیپشن: NAJAM WALI KHAN

  

بریگیڈئیر غضنفر پنجاب میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں، جب انہوںنے یہ کہا کہ پاک فوج ،سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل ریٹائرڈپرویز مشرف کے پیچھے نہیں کھڑی تو میرا فوری تبصرہ یہی تھا کہ فوج کی اس بارے رائے معلوم کرنے کے لئے کوئی ریفرنڈم تو ہو نہیں سکتا اور نہ ہی آئی ایس پی آر نے اس ایشوپر کوئی پریس ریلیز جاری کرنی ہے لہذا بریگیڈئیر صاحب کی انفارمیشن اور رائے پر بھروسہ کرتے ہوئے میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ پرویز مشرف کے لئے خطرے کی گھنٹی نہیں، ایک بہت بڑا گھنٹہ بجنا شروع ہو گیا ہے۔

دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جب نواز شریف اسیر تھے تو سعودی شیوخ کا طیارہ آیا تھا اورا نہیں رات کے اندھیرے میں لے کر چلا گیا تھا لہذا پرویز مشرف کو بھی کوئی اڑن کھٹولا لے کر اڑ سکتا ہے۔ جب سعودی ولی عہد شہزادہ سعود بن عبدالعزیز فروری کے مہینے میں پاکستان آئے تھے توسابق آرمی چیف کے ملک سے جانے بارے افواہوں کا طوفان گرم ہو گیا تھا۔ تب ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا تھا، ’خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں سعودی ولی عہد شہزادہ سعود بن عبدالعزیز نے مشرف کا ذکر تک نہیں کیا‘، نجی ٹی وی کے مطابق غداری کیس میں پراسیکیوٹر اکرم شیخ بھی سعودی ولی عہد کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیے میں موجود تھے، اس موقعے پر لوگ پوچھتے رہے کہ معزز مہمان نے پرویز مشرف کے معاملے پر کوئی بات کی ہے تو انہوں نے اکرم شیخ کا ہاتھ پکڑا اور قہقہہ لگا کے کہا کہ سعودی ولی عہد تو کیا کسی سعودی سفارت کار تک نے پرویز مشرف کا ذکر تک نہیں کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اسی گفت گو کا دوسرا حصہ جناب عارف نظامی کی طرف سے دئیے گئے ظہرانے میں حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے مشورے کے جواب میں بیان کیا، انہوں نے غیر رسمی گپ شپ میں ہنستے ہوئے کہا کہ حکومت سے پہلے ذرا صحافی تو اپنی کارکردگی ٹھیک کریںکہ جب سعودی ولی عہد پاکستان کے دورے پر تھے تو وہ ڈیڑھ ارب ڈالر دینے بارے بات کر رہے تھے مگر میڈیا نے شور مچایا ہوا تھا کہ پرویز مشرف پر بات ہو رہی ہے۔

پاکستان میں سعودی عرب ہی نہیں بلکہ اور بہت سارے ممالک کے مفادات اک زندہ حقیقت ہیں، کہا جاتا ہے کہ افغانستان سے انخلاءکے باعث امریکہ کی بھی پاکستان کی اندرونی صورتحال میں دلچسپی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ، اس دلیل کو اس سوال کے ساتھ ملا لیا جاتا ہے کہ کیا امریکہ سمیت دیگر ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے پرویز مشرف کو بچانے کے لئے اعلانیہ یا غیر اعلانیہ کردارادا کریں گے تو اس سوال کے معصومانہ ہونے پر مجھے کوئی شک نہیں رہ جاتا ،جب یہ جواب دیا جاتا ہے کہ دنیا میں اس وقت نافذ ریاستی نظام میں ریاستیں اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں اور ان کے مفادات پوری طرح موجودہ حکومت اور فوج کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، کسی سابق آرمی چیف کے ساتھ نہیں تو اگلا سوال سامنے آجاتا ہے کہ فوج کے مفادات تو پرویز مشرف کے ساتھ ہیں،، اس کا جواب یہ ہے کہ فوج اس وقت پرویز مشرف سے بھی کہیں زیادہ اہم اور ضروری چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے، وہ پاکستان کی حکومت کے اصرار پر ڈائیلاگ کے عمل میں اپنا کردار بھی ادا کر رہی ہے تاکہ اس دشمن کا راستہ روکا جا سکے جس نے بھارت سے بھی زیادہ ہمارے ریاستی اداروں کو جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔ میں اس صورتحال میں جب آرمڈ فورسزانسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سابق آرمی چیف کو ملنے والے پروٹوکول اور تحفظ کو دیکھتا ہوں تومجھے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سابق آرمی چیف کو ملنے والی سب سے بڑی سپورٹ ہے،یہ ایسی ہی سپورٹ ہے جو تمام ’ پیٹی بھرا‘ اپنے اپنے ’ پیٹی بھراوں ‘ کو دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے وکیل، ڈاکٹر اور صحافی اپنے اپنے پروفیشنل ساتھیوں کی مشکل حالات میں مدد کرتے ہیں لیکن اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس اہم ترین موقعے پر، صرف اور صرف پرویز مشرف کو بچانے کے لئے،کوئی ادارہ آئین اور قانون کے بیرئیر کو کراس کر جائے گا تو میرے خیال میں وہ غلط فہمی کا شکار ہے کیونکہ پرویزمشرف نے آرمڈ فورسز کے کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں قلعہ بند ہونے کے بعد اپنے ادارے کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں کیا، انہیں مرد بننے اور مقابلہ کرنے کے طعنے سننے پڑے، واقفان حال کہتے ہیں کہ یو اے ای میں پاکستان کی سب سے اہم ایجنسی کے سربراہ نے ان سے ملاقات کرکے مشورہ دیا تھا کہ وہ پاکستان آنے کی غلطی نہ کریں۔ وہ مشورہ رد کر دیا گیا اوراس کے بعد بہت سارے اعلیٰ ترین حلقو ں میں کہا گیا کہ اب وہ بطور سیاستدان اپنی غلطیوں کو خود بھگتیں۔ پرویزمشرف کی بدقسمتی ،اس کیس میں جنرل اشفاق پرویزکیانی کو بھی بالواسطہ ملوث کرنے کی کوشش کی گئی،کوئی مانے یا نہ مانے ، انہوں نے اور ان کے نادان دوستوں نے اس شاخ کو کاٹنے کی کوشش کی جس سے پرویز مشرف اپنی جان بچانے کے لئے لپٹے ہوئے ہیں۔

شائد پرویز مشرف کے ستارے ہی گردش میں ہیں ورنہ وہ اپنے سیاسی دوستوں کے ساتھ ساتھ وکلاءکے چناو میں بھی اتنے غیر محتاط نہ ہوتے۔ میں چار اپریل کی شام یہ تحریر لکھ رہا ہوں تواس حوالے سے ماضی کی ایک اور داستان یاد آ رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے کیس میں عدلیہ کے کردار کو آپ جتنا مرضی تنقید کا نشانہ بنا لیں، آپ اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کرتے ہیں تو ان کے وکیلوں کی طرف سے غیر وکیلانہ وکالت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔فوج سے تعلق رکھنے والے کہتے ہیں کہ پرویز مشرف اب سیاستدان کے طور پر اپنی سزا بھگتیں گے کیونکہ انہوں نے اعلیٰ ترین سطح پر اتفاق رائے کے ساتھ دیا جانے والا مشورہ مسترد کر دیا تھا مگراس کے باوجود چار اپریل ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری سیاست اب کسی طور بھی، کسی کے بھی خون کا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ پرویز مشرف نے نواز شریف کوعدلیہ سے پھانسی دلانے کی کوشش کی مگر اس وقت ماتحت عدلیہ کا جج رحمت حسین جعفری، ستر کی دہائی کی اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے زیادہ محتاط،د ور بین اور عقل مند ثابت ہوا، اس نے کوشش کی کہ ہائی جیکنگ کے نام نہاد کیس میں سابق وزیراعظم کودو مرتبہ عمر قید، پچاس لاکھ جرمانے اور املاک ضبط کرنے کی سزائیں سنا کے دونوں گھروں کو مطمئن کر دے، پرویز مشرف کو مطمئن نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جا رہے تھے مگر لگتا ہے کہ میاںنواز شریف مطمئن ہو گئے تھے کیونکہ انہوں نے رحمت حسین جعفری کو قومی احتساب بیورو کا سربراہ بنانے کی بھی تجویز دی تھی۔ میرے لئے بہت محترم تجزیہ کار نے لکھا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے میں تاخیر کی گئی اورمیں سمجھتا ہوں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی رخصتی کے بعد مقدمہ چلنا بہت بڑی دانشمندی ہے ورنہ اس وقت پرویز مشرف کی بجائے عدلیہ کٹہرے میں کھڑی ہوتی۔

اگر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے اہم اداروں کاسربراہ رہنے والے بریگیڈئیر غضنفر کا یقین کرلیا جائے کہ فوج بطور ادارہ پرویز مشرف کے ساتھ نہیں کھڑی اور یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ واقعی اس وقت اس اہم ترین ادارے کے پاس اپنے سابق سربراہ پر درج ہونے والے کیس سے زیادہ اہم ، بڑے اور ترجیحی چیلنجز بھی موجود ہیں ،یہ بات بھی واقعاتی شہادتوں پر تسلیم کر لی جائے کہ سعودی حکمرانوں سمیت پاکستان میں دلچسپی اور مفادات رکھنے والوں کے نزدیک پرویز مشرف کا کوئی مصرف نہیں، پاکستان کے موجودہ حکمران خاندان اور سیاسی جماعت سے تعلقات کی قیمت پر یہ غیر ملکی حکمران، آئین کو سبوتاژ کرنے کے ملزم پرویز مشرف کو بچانے کی ’ سرمایہ کاری‘ نہیں کریں گے ، اس کے اشارے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات سے بھی ملتے ہیں کہ اتنا دباو بھی نہیںکہ وہ پرویز مشر ف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیں ، ان کے وکلاءکی اب تک کی کارکردگی آئینی طور قائم عدالت کی تضحیک کرتے ہوئے اسے غصہ دلانے کے سوا کچھ بھی نہ رہی ہو توپھر سابق غیر آئینی صدر کے حامیوں کو اس خیال کو اپنی بہت بڑی حمایت سمجھنا چاہئے کہ جمہوریت کے نام پراقتدار میں آنے والے ملکی سیاسی تاریخ کا کوئی باب کسی کے خون سے نہیں لکھیں گے۔ میرے خیال میں تو حالات کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ انہیں دوا سے زیادہ دعا سے کام لینا چاہئے۔

مزید :

کالم -