پنجاب حکومت اساتذہ کو احترام دینے کی بجائے انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے،وٹو

پنجاب حکومت اساتذہ کو احترام دینے کی بجائے انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے،وٹو

  


لاہور( سپیشل رپورٹر) پنجاب حکومت کی شرمندگیوں کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ صوبہ پنجاب کے ہزاروں اساتذہ اپنے مطالبات کے حق میں سارے صوبے میں احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت انکے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کی بجائے انکے خلاف بد ترین انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے ۔یہ بات پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے گڑھی خدا بخش سے ٹیلی فون پر میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہی ہے۔انہوں نے اساتذہ کرام کے ساتھ پیپلزپارٹی کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت پر زور دیا کہ وہ انکے مطالبات فی ا لفور تسلیم کرے جنہوں نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں تعلیمی سال کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 40ہزار اساتذہ کو مستقل کیا جائے تا کہ وہ یکسوئی سے تعلیم دینے کا مقدس پیشہ بخوبی انجام دے سکیں۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ شہباز شریف کی حکومت اساتذہ کرام کو احترام دینے کی بجائے انکے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے۔انہوں نے پنجاب حکومت کے اکابرین سے سوال کیا کہ وہ اساتذہ کو انتقامی اور امتیازی پالیسیوں کا نشانہ بنا کر کیسے صوبے میں تعلیم کو فروغ دے سکتے ہیں؟ انہوں نے سرکاری سکولوں کی نا گفتہ بہ حالت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کوئی والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل نہیں کروانا چاہتا کیونکہ وہا ں پر بنیادی سہولتوں کے فقدان کے علاوہ تعلیم کا معیار بھی انتہائی ناقص ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انکے زمانے میں اساتذہ اور سکولوں اور کالجوں کے پرنسپلوں کو معاشرے میں بڑی عزت دی جاتی تھی اور سرکاری حکام کو بھی ہدایات تھیں کہ انکے عزت و احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، لیکن اب انکی توقیر کا خیال رکھنے کی بجائے وہ اپنے مطالبات کے حق میں لاہور اور صوبے کی سڑکوں پر مارے مارے احتجاج کر رہے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -