ایڈیشنل کمشنر کی سطح کا کوئی افسر ہی سیلز ٹیکس ریفرنس دائر کرسکتا ہے:ہائیکورٹ

ایڈیشنل کمشنر کی سطح کا کوئی افسر ہی سیلز ٹیکس ریفرنس دائر کرسکتا ہے:ہائیکورٹ
ایڈیشنل کمشنر کی سطح کا کوئی افسر ہی سیلز ٹیکس ریفرنس دائر کرسکتا ہے:ہائیکورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کمشنر یا اسکانامزد کردہ کم ازکم ایڈیشنل کمشنر کی سطح کا کوئی افسر ہی سیلز ٹیکس ریفرنس دائر کرسکتا ہے ۔کمشنر یا تفویض شدہ اختیارات کے حامل ایڈیشنل کمشنر کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا تعلق زیر نظر فرم کے حلقہ سے ہو۔مسٹر جسٹس منصور علی شاہ اور مسٹر جسٹس شجاعت علی خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ آبزویشن نیسلے کے خلاف دائر سیلز ٹیکس ریفرنس مسترد کرتے ہوئے جاری کی ۔فاضل بنچ نے قرار دیا کہ تبادلہ شدہ کمشنرز کے وکالت نامے استعمال کرنے کا اقدام غیرقانونی ہے ۔ریفرنس دائر کرتے وقت کمشنر کا عہدہ پر موجود ہونا لازمی ہے۔فاضل بنچ نے مزید قرار دیا کہ تبادلہ شدہ کمشنرز کے بیان حلفی کا استعمال بھی قانون کے منافی ہے ۔ایسا کمشنر یا تفویض شدہ اختیارات کا حامل افسر جو ریفرنس دائر کرتے وقت متعلقہ حلقے یا علاقے میں تعینات نہ ہو وہ ریفرنس دائر نہیں کرسکتا ۔عدالت نے قرار دیا کہ تبادلہ شدہ کمشنرز کے وکالت ناموں، بیان حلفی کا استعمال سیلز ٹیکس ایکٹ سے متصادم ہے کوئی کمشنر کسی دوسرے زون کے ٹیکس پیئر کیخلاف ریفرنس دائر نہیں کرسکتا، ایسی اجازت دی گئی تو ملک میں ٹیکس کا نظام برباد ہو جائیگا، ریفرنس دائر کرتے وقت سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ47کی پابندی کی جائے اس دفعہ کے تحت متعلقہ کمشنر یا کمشنر کے تفویض شدہ اختیارات کا حامل ایڈیشنل

کمشنرکی سطح کاافسر اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں ریفرنس دائر کرسکتا ہے ۔فاضل بنچ نے قرار دیا کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو لاہور زون ٹو شفقت محمود نے28جنوری2013کو یہ ریفرنس دائر کیا ریفرنس دائر کرنے کی تاریخ سے قبل کمشنر کا تبادلہ ہو چکا تھا اوروہ یہ ریفرنس دائر کرنے کا مجاز ہی نہیں تھا ۔اس لئے یہ ریفرنس خارج کیا جاتا ہے ۔کمشنر نے نیسلے کمپنی سے26کروڑ ٹیکس وصولی کیلئے ہائیکورٹ میں ریفرنس دائر کیا ریفرنس میں اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا اپیلٹ ٹربیونل نے نیسلے کمپنی سے 26کروڑ ٹیکس وصول کرنے سے روک دیا تھا۔

مزید : بزنس