بابری مسجد کی سرکاری سرپرستی میں شہادت کے انکشاف نے بھارتی سکیولرازم کا پول کھول دیا حافظ سعید

بابری مسجد کی سرکاری سرپرستی میں شہادت کے انکشاف نے بھارتی سکیولرازم کا پول ...

                                                        لاہور(سٹاف رپورٹر)امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعیدنے کہا ہے کہ بابری مسجد کی سرکاری سرپرستی میں شہادت کے انکشاف سے ایک بار پھر بھارتی سکیولرزم کا پول کھل گیاہے۔بی جے پی اور کانگریس سمیت سب بھارتی جماعتیںاسلام دشمنی میں اکٹھی ہیں۔پورا انڈیا بابری مسجد کی شہادت کا ذمہ دار ہے۔ملک میں نظریہ پاکستان پر عمل پیرا حکومت ہوتی تو انڈیا کو مساجد شہید کرنے کی جرا¿ت نہ ہوتی۔ بھارت میں مسلمانوں کی مساجد اور حقوق آج بھی محفوظ نہیں ہیں۔پاکستان کو مساجدو مدارس کا محافظ بننا چاہیے۔فرقہ وارانہ قتل و غارت گری سے ملک وملت کو انتہائی نقصان پہنچ رہا ہے۔ علماءکرام معاشرے کی اصلاح کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔ احیائے نظریہ پاکستان کی ملک گیر تحریک کو پوری قوت سے جاری رکھا جائے گا۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران انہوںنے کہاکہ بھارت میں بالآخر اس بات کا اعتراف کر لیاگیا ہے کہ بابری مسجدمنظم منصوبہ کے تحت شہید کی گئی اور اس کی شہادت میں نہ صرف بی جے پی اور شیو سینا سمیت تمام ہندو پارٹیاں متحد تھیں بلکہ اس وقت کی بھارتی حکومت بھی اس سارے منصوبہ سے آگا ہ تھی ۔انڈیا میں سرکاری سرپرستی میں سینکڑوں مساجد شہید اور ہزاروں مسلمانوںکا خون بہایاجاچکاہے‘اسکے باوجود مسلمانوںکے خلاف دہشت گردی کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیاجاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ مسلمانوں کے نزدیک اللہ کے گھر مسجد کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کی خاطر سب کچھ قربان کیاجاسکتا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستان اگر جرات کا مظاہرہ کرتااور انڈیا کو اس کی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دیاجاتا توبھارت میں مساجد کی شہادت کے واقعات نہ ہوتے مگر افسوس کہ ایسا نہیں کیا گیا ۔حکومت پاکستان کو مساجدو مدارس اور مسلمانوں کی عزتوں و حقوق کا محافظ بننا چاہئے۔ پاکستان جس نظریہ کی بنیا دپر بنا تھا وہ محض ایک نظریہ ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے‘ جس کی بنا پر کہا گیا تھا کہ ہندو ﺅںاور مسلمانوںکا کلچر و مذہب سب الگ الگ ہیں۔آج معاشرے کے اندراسی بنیاد پراصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق اعمال کی اصلاح اور محمدی کلچر اپنانا ہوگا ۔دعوت کے ذریعے مسلمانوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ایک اللہ اور ایک قرآن ماننے والوں کو فرقوں میں تقسیم ہونے کی بجائے کلمہ طیبہ پر متحد ہونا چاہئے۔انہوںنے کہاکہ جب تک ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح اور معاشرے کو درست نہیں کریں گے پاکستان اسلامی ملک نہیں بن سکتا ۔جب حکومتیں اپنا فریضہ ادا نہ کر رہی ہوں تو پھر علماءکرام کا فرض ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح کے لئے کردار ادا کریں۔

حافظ سعید

مزید : صفحہ آخر