افسران کی ترقیوں کا معاملہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کی کارکردگی پر وزیراعظم کا تحفظات کا اظہار

افسران کی ترقیوں کا معاملہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کی کارکردگی پر وزیراعظم کا ...

 اسلام آباد(سہیل چوہدری )پاکستان کی سول سروس کی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم محمد نوازشریف نے اعلی بیوروکریٹس کی ترقیوں میں اہلیت ،کارکردگی کو اپناتے ہوئے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جانب سے گریڈ 20سے21میں ترقی کیلئے 19ڈی ایم جی افسران کی ترقیوں کی سفارشات کو مسترد کردیا اور سنٹرل سلیکشن بورڈ کو ہدایت کی کہ ان سفارشات کا ازسرنو جائزہ لے۔وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس طرح کی اعلیٰ ترقیوں کی سفارشات مرتب کرتے ہوئے مقصدیت کے اصول کو اپنائیں وزیراعظم نوازشریف نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جانب سے اپنے گئے غیرسنجیدہ اور جلد بازی کے رویے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اورکہا ہے کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ نے افسران کی ترقیوں کی سفارشات مرتب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے مہیا کردہ رہنما اصولوں کو مدنظر نہیں رکھا جس میں افسروں کی ترقی کرتے ہوئے انکی عمومی ساکھ اور عوام کی ان کے بارے میں رائے کو بھی اہم گردانا گیا ہے،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اوریا مقبول جان کیس میں ترقیوں کی سفارشات کیلئے رہنما اصول مرتب کرچکی ہے لیکن سنٹرل سلیکشن بورڈ نے ترقیوں کی سفارشات مرتب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی فراہم کردہ گائیڈ لائن کو نظرانداز کردیاجس کی بنا پر وزیراعظم محمد نوازشریف نے 26ڈی ایم جی افسران کی گریڈ 20سے گریڈ21میں ترقیوں کی سفارشات کی منظوری دیدی جبکہ 19افسران کی ترقی کی سفارشات کو مسترد کردیا وزیراعظم محمد نوازشریف کے اس اقدام کا مقصد سول سروس کے معیار کو بہتر بنانا اور ایماندار،فرض شناس،محنتی،اچھی ساکھ کے حامل افسران کی ترقی کی منظوری دیکر انکی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ 100فیصد میرٹ کو یقینی بنایا جاسکے خاص طور پر مسلح افواج کی طرح ترقیوں کے عمل کو فالو کیا جاسکے تاکہ ملک میں گڈ گورننس کا فروغ ہوسکے اور سول بیوروکریٹس کی ڈیلیوری بہتر ہوسکے ۔وزیراعظم نے جن 26ڈی ایم جی افسران کی گریڈ 20سے21میں ترقیوں کی منظوری دی ان افسران میں یاسین مسعود، عظمت علی رانجھا، رضوان بشیر، آفتاب حبیب، طارق مسعود، علی ظہیر ہزارہ، شجاعت علی، اوریا عباسی، محسن حقانی، اعجاز علی خان، شعیب احمد صدیقی، زاہد سعید، شاہد اشرف تارڑ، اویس آغا، الطاف ایزد، ارباب عارف، سیما نجیب، حسن اقبال، سرداراحمد نواز سکھیرا، مظفر محمود، اللہ بخش، یونس دھاگہ، شمائل احمد خواجہ، مصباح تنیو، ٹیپو مہابت شامل ہیں۔ جبکہ بورڈ کوجن 19افسران کے کیسز کا از سر نو جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ان میں سجاد بھٹہ ‘منتظر حیات ‘ذوالقرنین عامر ‘ نوید کامران ‘اسلم حیات ‘ جاوید نثار ‘ عمران افضل چیمہ ‘فاروق احمد خان ‘ آفتاب مانیکا ‘ لالہ فضل الرحمن‘احمد یار خان‘اطہر حسین سیال ‘ راشد بشیر مزاری‘ ثاقب علیم ‘اقبال بابلانی ‘مختیار حسین سمیت 19افسران شامل ہیں۔

مزید : صفحہ اول