ملک کی اسلامی شناخت کیخلاف سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا

ملک کی اسلامی شناخت کیخلاف سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا

  

                                           چیچہ وطنی (اے این این) مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام تحریک ختم ِنبوت 1953 ءکے دس ہزار شہداءکی یادمیں عظیم الشان سالانہ ختم ِنبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مقررین نے کہاہے کہ قادیانی ریشہ دوانیاں بڑھتی جارہی ہیں ،حکمران اور سیاستدان ہو شیار رہیں ،عقیدہ¿ ختم ِنبوت وحدت اُمت کی بنیاد ہے ۔مولانا محمد رفیق جامی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عقیدہ¿ ختم ِنبوت اسلام کا اساسی عقیدہ ہے اور سب سے بڑا اور خطرناک فتنہ¿ قادیانی گروہ ہے اِس فتنے کی تباہ کاریوں سے اُمت کو بچانے کے لےے امیر شریعت سید عطا ءاللہ شاہ بخاری مرحوم کا قافلہ¿ احرار پوری دنیا میں سرگرم ِ عمل ہے ۔ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہاکہ حق وباطل کی جنگ ازل سے ہے ابد تک رہے گی ، انہوں نے کہاکہ شہداءختم ِنبوت 1953 ءنے ہمیں زندگی بخشی ،عقیدہ¿ ختم ِنبوت کے تحفظ کے پلیٹ فارم پر ہی اُمت متحد ہوئی اور آئندہ بھی یہی قدرِ مشترک ہمیں ایک رکھ سکتی ہے ۔پیر محمد محفوظ مشہدی ) ایم پی اے ( نے کہاکہ ختم ِنبوت کا عقیدہ مسلمانوں کا اساسی وبنیادی عقیدہ ہے پوری دنیا کے مسلمان اِس عقیدے پر ایک ہی رائے رکھتے ہیں ۔،عبداللطیف خالد اورسردار محمد خان لغاری نے کہاکہ مولانا شاہ احمد نورانی نے 1974 ءمیں پاس ہونے والی قرار داد ِ اقلیت پیش کی جِسے پوری قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا آج کچھ طاقتیں اس قرار داد کو ختم کرنے کے لےے دباﺅ ڈال رہی ہیں، مسلمان کٹ مریں گے لیکن اس آئینی فیصلے کو ختم نہیں ہونے دیں گے ۔ سید عطاءالمنان بخاری نے کہاکہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ شہادتوں سے لبریز ہے،1953 ءکے شہداءِ ختم ِنبوت کو تاریخ کبھی نہیں بھلا سکتی ۔مفتی عطاءالرحمن قریشی نے کہاکہ مجلس احرار ِ اسلام قادیانیت کے خلاف اپنے تاریخی کردار کو جاری رکھے گی ،کانفرنس کی قرار داد وں میں کہاگیا ہے کہ ملک کی اسلامی ونظریاتی شناخت کے خلاف سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور شہداءِ ختم ِنبوت کے مشن کی تکمیل کے لےے پوری قوت سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی ایک قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ قیام ملک کے اصل مقصد ِ نفاذ ِ اسلام کے لےے عملی اقدامات کئے جائیں ، 1973 ءکے آئین کی روشنی میں اسلامی نظریاتی کونسل کے کردار کو زندہ و مو¿ثر کیا جائے ،کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو حکومت نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھائے اور مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والی قوتوں پر گہری نظر رکھی جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -