قائد اعظم کو کافرِاعظم کہنے والوں کیساتھ مذاکرات کیے جارہے ہیں، بلاول

قائد اعظم کو کافرِاعظم کہنے والوں کیساتھ مذاکرات کیے جارہے ہیں، بلاول

 کراچی ‘گڑھی خدابخش(سٹاف رپورٹر228 مانیٹرنگ ڈیسک228 اے این این) پیپلزپارٹی کے سرپرست ا علیٰ بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ(ن) کی حکومت پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے والوں کے ساتھ مذاکرات کئے جا رہے ہیں ، لوگ مذاکرات کے نام پر اندھوں سے راستہ پوچھ رہے ہیں ،ہم درندوں کے سامنے نہیں جھکیں گے، ہماری اپنی جنگ ختم نہیں ہوئی اور حکومت دوسروں کی جنگ لڑنے جارہی ہے، قوم کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی وضاحت چاہیے، بات کچھ نہیں تھی تو معاملہ چھپایا کیوں گیا، پیپلز پارٹی پر الزام لگانے والے بچوں کی لاشوں کی سیاست کر رہے ہیں، نجکاری کے نام پر ہمارا گھر بیچنے کی تیاری ہو رہی ہے، وزیراعظم محمد نواز شریف جب تھرپارکر آئے تو صرف بیانات، وعدے اور اعلان ہوئے، وزیر اعظم کی ٹیم نے قحط متاثرین کی امداد روک دی ، تھر کا سابق ظالم اعلیٰ وفاقی حکومت کی مدد سے دوبارہ مسلط ہونا چاہتا ہے،2018ء تک تھرپارکر کے ہر گھر میں صاف پانی پہنچائیں گے، نام نہاد منصفوں نے بھٹو پھانسی پر لٹکا دیا ، آج پاکستان کو پھر ایک بھٹو کی ضرورت ہے ۔ گڑھی خدا بخش میں پیپلزپارٹی بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 35 ویں برسی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلال بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم آج اپنی تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر طرف بے یقینی ہے، آج ہر دل خوف سے بھرا ہوا ہے دہشتگرد ہم سے ہماری پہچان اور وجود چھین لینا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج پنجاب کو دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال بنتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں اگر ذوالفقار علی بھٹو ہوتے تو یہ حال نہ ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ اس سورج کو بجھا دیا گیا جس کا مقصد ہمیں اندھیروں میں رکھنا تھا اور جہالت کے اندھیرے آج اتنے بڑھ چکے ہیں کہ آنکھوں والے مذاکرات کے نام پر اندھوں سے راستہ پوچھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہیدوں کے وارث ہیں۔ ہم طالبان کی آمریت قبول نہیں کرینگے۔ آج بھی ہزاروں جیالے دہشتگردوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مندروں کو جلانے پر پنجاب حکومت کی طرح خاموش نہیں رہیں گے۔ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا اور جلانا اسلام نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں جہالت کے اندھیروں کی نہیں بلکہ روشنی کی ضرورت ہے آج پاکستان کو پھر ایک بھٹو کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کرنے والوں نے پہلے بھی دھوکا دیا اور اب بھی دھوکا دیا جارہا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر طرف بے یقینی ہے۔ ایک طرف دہشت گرد ہیں جو ہم سے ہماری شناخت پہنچان اور ہمارا وجود تک چھین لینا چاہتے ہیں، دوسری طرف ہماری تہذیب اور معیشت دم توڑ رہی ہے جبکہ سیاست ذاتی مفادات تک محدود ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے کونسی غلطی کی ہے کہ تاریخ ہمیں معاف کرنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہمارے عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور 35 سال پہلے ہم اس سورج سے محروم ہوگئے جو قوم کو روشنی فراہم کررہا تھا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک وجود نہیں بلکہ ایک فلسفہ تھا، ایک طرف وہ تھے جو پاکستان کے مخالف تھے اور دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو تھے جو روشنی کی علامت تھے جس کی ایک آواز پر پوری قوم ایک ہو کر دنیا میں جینا چاہتی تھی لیکن ہمارے نام نہاد منصفوں نے انہیں پھانسی پر لٹکا دیا۔ہم نے وہ روشنی گل کر دی جو ہماری آنکھوں کا سرمایہ تھی وہ انسان غریب کا سہارا اور سرمایہ داروں کے ظلم کی چکی میں پسنے والے مزدوروں کی آواز تھا۔ وہ تھا تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کی بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں تھی انہوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا بھٹو نے ہی پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا تھا،انہوں نے کہا کہ نجکاری کے نام پر ہمارا گھر بیچنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس اہم معاملے میں قوم کو اعتماد میں لینے کا سوچا ہی نہیں گیا پاکستان کے اثاثے عوام اور غریبوں کا سرمایہ ہیں۔ ہم اپنی قوم کو بے روزگاری کی دلدل میں نہیں ڈالیں گے۔ ہماری قوم نے یہ اثاثے بڑی قربانیاں دے کر بنائے ہیں۔ حکومت سے ملک نہیں چل رہا تو کیا اسے بھی بیچ دیں گے؟۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان کو کس قیمت پر پیسے دیئے گئے؟۔ کیا قرض دینے والے دوست ہیں جو ملک کو نجکاری کے نام پر لوٹنا چاہتے ہیں۔ حکومت نے ملک کو پشہ ور بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج غیرت مند ہے، کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، ہمیں غیروں کی جنگ میں نہیں کودنا چاہیے۔بلاول بھٹو اپنی تقریر کے دوران کھپے کھپے بھٹو کھپے کا نعرہ لگاتے رہے۔بعدازاں سابق صدر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کے دور میں چین کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس وقت ایک قوم بننے کے بارے میں سوچنا ہے اور ملک کو فرقہ واریت سے بچانے کی ضرورت ہے۔ میں اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں سے بات کروں گا اور مذاکرات کے ذریعے ملک کو درست سمت پر ڈالیں گے۔ اس وقت امت مسلمہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ہمیں مل کر مسائل کو حل کرنا ہوگاپیپلز پارٹی کے رہنماء اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ نے کہا کہ ہم وہ جمہوریت نہیں چاہتیجس سے آمریت جنم لے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس لیے قربانیاں نہیں دیں کہ اس کے جوانوں کو بیروزگار کیاجائے،آج پھر پرائیویٹائزیشن کی طرف جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پرائیویٹائزیشن کا خاتمہ کیا،جن کو پیپلز پارٹی نے روزگار دیا ان کو بے روزگار کیا جارہا ہے۔ دریں اثناء برسی کی مرکزی تقریب میں شرکت کیلئے ملک بھر سے قافلے گڑھی خدابخش پہنچے بھٹو کے مزار ، جلسہ گاہ کو پارٹی جھنڈوں اور قائدین کی تصاویر سے سجا یا گیا سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس اور رینجرز کے سات ہزار اہلکار تعینات تھے جبکہ واک تھرو گیٹ اور کلوز سرکٹ کیمرے بھی نصب کئے گئے ۔سابق صدر آصف زرداری نے وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ ، ایم این اے ایاز سومرو کے ساتھ گڑی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹو کے مزاروں پر حاضری دی۔انہوں نے مزاروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور قرآن خوانی بھی کی۔آصف علی زداری نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلسے کے مقام کا بھی فضائی دورہ بھی کیا ۔

مزید : صفحہ اول