پنجاب آئیں، مکمل تحفظ فراہم ہوگا، میاں شہباز

پنجاب آئیں، مکمل تحفظ فراہم ہوگا، میاں شہباز
پنجاب آئیں، مکمل تحفظ فراہم ہوگا، میاں شہباز

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین بلاول

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ ڈرنے والے نہیں ہیں اور پنجاب ضرور آئیں گے۔ دوسری طرف نوڈیرو میں ہونے والے مجلس عاملہ کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف پیپلزپارٹی کے موقف کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جہدوجہد جاری رہے گی۔ اس ضمن میں یہ عرض ہے کہ بلاول کو لاہور آنا تھا، دو سے زیادہ مرتبہ پروگرام بنے وہ نہیں آئے، اس عرصہ میں خود بلاول نے انکشاف کیا کہ ان کو دہشت گردوں کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے۔ اس پر تھوڑی بہت بیان بازی ہوئی تاہم وفاقی اور پنجاب حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بلاول کو ملنے والی دھمکی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کو خط لکھ کر تشویش ظاہر کی اور سیکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا، جواب میں میاں محمد شہباز شریف کی طرف سے سید خورشید شاہ کو یقین دلایا گیا ہے کہ بلاول بھٹو ’’جم جم‘‘ پنجاب آئیں، ان کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جائے گی اس خط کی خبر بھی نوڈیرو اور گڑھی خدا بخش کے جلسے میں ہونے والی تقریروں کے ساتھ ہی سامنے آئی اور یوں اگر بلاول اور آصف علی زرداری سمیت پیپلزپارٹی نے سیاست کا یقین ظاہر کیا ہے تو وزیر اعلیٰ کی طرف سے بھی تحفظ کا اعلان کردیا گیا۔ مطلب یہ کہ یہ جمہوری دور ہے اور اس میں ہر ایک کو سیاسی عمل کی اجازت اور رواداری کا جذبہ موجود ہے۔ یوں اب بلاول کے لئے لاہور آنا لازم سا ہوگیا اور وہ آئیں گے۔

گڑھی خدا بخش میں پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی اس مرتبہ زیادہ جوش و خروش سے منانے کی سعی کی گئی اور پنجاب کا ذکر بھی کیا گیا، غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب میں 2013ء کے انتخابات کے بعد سے ابھی تک جماعت سنبھل نہیں پارہی اور پیپلزپارٹی کے پرانے کارکنوں اور حضرات کا مطالبہ ہے کہ بلاول بھٹو اپنے والد آصف علی زرداری کے وعدے کو پورا کرنے کے لئے لاہور آئیں اور پنجاب کی تنظیمی صورت حال کا جائزہ لے کر سیاسی حالات کو موافق بنانے کے لئے کچھ کریں اور یہ گزارش کچھ بے جا بھی نہیں کہ یہاں کے حوالے سے جو خبریں شائع ہوتی ہیں وہ کچھ بہتر تاثر نہیں دیتیں اور اب برسی کے موقع کو حوصلے کے لئے بہتر جانا گیا۔

بہر حال یہ پیپلزپارٹی کا اپنا مسئلہ ہے یہاں غرض یہ ہے کہ دہشت گردی اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے حوالے سے پیپلزپارٹی نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ جہاں دہشت گردوں سے مقابلے کی بات کی گئی وہاں اب جنرل (ر) پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے یا جانے کی مخالفت کردی ہے۔ پارٹی کا یہ موقف اپنی جگہ واضح ہے لیکن دوسری طرف جماعتی پارلیمانی کانفرنس میں دئیے گئے اعتماد کو بھی برقرار رکھا گیا۔ سید خورشید شاہ کہتے ہیں کہ پارٹی کے موقف کے باوجود حکومت کو جو مینڈیٹ دیا گیا تھا اس کا اب بھی احترام کرتے ہیں، ہم بھی امن چاہتے ہیں اور اگر حکومت مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرسکتی ہے تو کرلے، یوں تاحال تائید موجود ہے، مخالف موقف کے باوجود محاذ آرائی نہیں ہوگی۔

جہاں تک کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کا تعلق ہے تو بوجوہ تاخیر ہوئی اب پھر سے رابطے اور دوسرے دور کا اہتمام کرلیا گیا ہے جس کے بعد مزید پیش رفت کا امکان ہے، ویسے مولانا سمیع الحق کی زبانی ’’پیس زون‘‘ کی جو بات سامنے آئی تھی اس کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی نے وضاحت کردی کہ یہ ممکن نہیں، انہی سطور میں پہلے ہی بتادیا گیا تھا کہ یہ مطالبہ غیر منطقی ہے اور اسے قبول نہیں کیا جاسکتا اور کالعدم تحریک طالبان والوں کو دلائل سے قائل کیا جائے گا کہ خِطّہ مختص نہیں کیا جاسکتا نہ ہی فوجی چوکیاں ختم اور فوج کو واپس بلایا جائے گا یہ قومی فوج ہے اور عوام کی محافظ ہے سرحدوں کی حفاظت بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ دوسری پیشرفت جو ہوئی وہ کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ تھا اسی کے تحت فائر بندی کی مدت مزید دس روز بڑھائی گئی اور حکومت کی طرف سے زیر حراست افراد رہا کئے گئے اب جو براہ راست مذاکرات ہوں گے ان میں کالعدم تحریک طالبان کی تحویل میں پاکستانیوں کی واپسی اور طالبان کے مزید حامی رہا کرنے کی بات ہوگی اور امکانی طور پر کچھ پیش رفت بھی ہوجائے گی۔ تاہم جو مسئلہ حل طلب اور مزید غور اور بحث کا طالب ہے وہ یہ ہوگا کہ کالعدم تحریک طالبان نے جن شرارتی عناصر کا سراغ لگایا ہے ان کا قلع قمع کیا جائے کیونکہ تحریک طالبان کا موقف ہے کہ مذاکرات کے آغاز اور سیز فائر کے اعلان کے بعد اگر کوئی شدت پسندی ہوتی ہے تو شرارت اور مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لئے مخالفین کی کارروائی سمجھا جائیگا۔

حکومت ہر قیمت پر مذاکرات کے ذریعے امن کی کوشش پر ہی یقین رکھتی ہے اور تمام تر کوشش یہ ہے کہ صلح جو اور شرارتی عناصر کو الگ الگ کرکے اچھے طالبان کو ملکی سیاسی عمل میں شامل کرلیا جائے اور جو ’’نہ مانوں‘‘ والے ہیں ان کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جائے، مذاکرات کا یہ دور اسی نکتے پر ہوگا۔

مزید : کالم