آئندہ ساڑھے 4برس کے دوران روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کئے جائیں گے، شہباز شریف

آئندہ ساڑھے 4برس کے دوران روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کئے جائیں گے، شہباز ...

  

لاہور(پ ر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت صوبے میں تیزرفتار معاشی ترقی کے لیے جامع پروگرام پر عمل پیرا ہے ۔پنجاب میں شرح نمو میں اضافے کے لیے ماہرین کی مشاورت سے ترقیاتی حکمت عملی 2018ء مرتب کی جارہی ہے ۔معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور حکومت اداروں کی استعدادکار میں اضافے کے لیے موثر اقدامات کررہی ہے ۔صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ای۔گورنمنٹ کے قیام کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آئندہ ساڑھے چار برسوں کے دوران روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے یہاں عالمی بینک کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ملاقات کے دوران پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں اورمختلف شعبوں میں بہتری لانے سے متعلق اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا ۔ورلڈ بینک کے حکام اورپنجاب حکومت کے درمیان لائٹ مینوفیکچرنگ ،اربن ڈویلپمنٹ ،ایگری بزنس،کان کنی ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اورسکل ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں تعاون پراتفاق کیا گیا۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے عالمی بینک کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں بلکہ معیشت کو بھی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے ۔حکومت معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات کررہی ہے ۔موٹر وے کے قریب جدید قائداعظم اپیرل پارک کے قیام کامنصوبہ بنایا گیا ہے اور اس اپیرل پارک میں گارمنٹس سے وابستہ سرمایہ کاروں کو ایک چھت تلے تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم اپیرل پارک کے منصوبے کی تکمیل سے ٹیکسائل کا شعبہ مستحکم ہوگا اور ملکی برآمدت میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے تناظر میں اپیرل پارک کے قیام کامنصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک فری رسائی حاصل ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے حالات سازگار بنائے گئے ہیں۔ملکی اورغیر ملکی سرمایہ کاروں کی ہر ممکن حوصلہ ا فزائی کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ زراعت،لائیوسٹاک،ڈیری فارمنگ کے شعبوں میں ترقی کی بڑی گنجائش موجود ہے۔لائیوسٹاک اور حلال مصنوعات کی برآمدت کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ان شعبوں کی پائیدار ترقی سے پاکستان کثیر زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کا پہیہ رواں دواں رکھنے کے لیے توانائی کی اشد ضرورت ہے ۔حکومت توانائی کے بحران پر قابوپانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کے تحت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیم ،صحت اورسماجی ترقی کے دیگر شعبوں میں بہتری لانے کے لیے اصلاحاتی پروگراموں پر عملدر آمد کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں کی ترقی میں عالمی بینک کا تعاون بھی لائق تحسین ہے ۔عالمی بینک کے وفد کے اراکین نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپیرل پارک کا منصوبہ انتہائی شاندار ہے اوراس منصوبے کی تکمیل سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والے عالمی بینک کے وفد میں لیڈسپیشلسٹ ونسینٹ پلمیڈ ، کنسلٹنٹ جیمز کریٹل، اکانومسٹ ڈاکٹر چین،سینئر اربن سپیشلسٹ فاطمہ شاہ اوردیگر عہدیدار شامل تھے ۔ مشیر ڈاکٹر اعجاز نبی،ایم پی اے ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی، سیکرٹری صنعت، چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تمام ہمسایہ ممالک سے بہترین تعلقات کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان خطے کے تمام ممالک سے بہترین دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام متنازع امور بامقصد بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان اور بھارت کو ماضی سے نکل کر آگے بڑھنا ہے ۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ساؤتھ ایشیاسینٹر کے شجاع نوازسے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے یہاں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک بھارت تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیرآبپاشی یاور زمان ، صوبائی وزیر صنعت محمد شفیق، ایم پی اے ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، سیکرٹری صنعت، سیکرٹری اطلاعات، چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اور متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلی محمد شہباز شریف نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلے ہونے چاہئیں۔ دونو ں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کے حجم میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں توانائی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے تیز رفتاری سے کام کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے کوئلے سے پاور پلانٹس لگانے کیلئے 6 مقامات کا انتخاب کیا ہے اور چین کے معروف گروپ نے ساہیوال میں کول پاور پلانٹس لگانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ چین کی طرف سے پاکستان میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں 32 ارب ڈالر کا سرمایہ کاری پیکیج اس کا واضح ثبوت ہے۔ چین کی متعدد کمپنیاں پہلے ہی توانائی کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بروقت اور ٹھوس اقدامات سے معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری پر خصوصی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی اللہ تعالیٰ کی ایک انمول نعمت ہے جس کا ضیاع روکنا ہر شہری کا فرض ہے۔ واٹر مینجمنٹ کو بہتر بنا کر پانی کے وسائل کو بچایا جا سکتا ہے۔ حکومت پانی سے بجلی پیدا کرنے پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ داسو ڈیم کی تعمیر کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ملک میں پانی کے مزید ذخائر بنانے کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر شجاع نواز نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری عمل کا تسلسل خوش آئند ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بہترین تعلقات خطے کے استحکام کیلئے ضروری ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -