پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ ہونے سے پنجاب کی 32جیلوں میں سزائے موت کی کوٹھڑیاں کم پڑ گئیں

پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ ہونے سے پنجاب کی 32جیلوں میں سزائے موت کی ...

لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہ ہونے اورسزائے موت کے قیدیوں کی تعداد بڑھنے سے پنجاب بھر کی 32جیلوں میں سزائے موت کی کوٹھریاں کم پڑ گئیں۔ جیل قوانین کے مطابق ایک ڈیتھ سیل میں ایک ہی قیدی کو ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک ہزار 8سو 15کوٹھریوں میں سزائے موت کے 5 ہزار9سو 10سے زائد قیدیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسا گیا ہے۔جوکہ نہ صرف جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے۔بلکہ اس عمل سے قیدی نفسیاتی مریض بننے لگے ہیں۔معلوم ہواہے کہ ملک میں اگست 2008سے عملی طورپر سزائے موت کے قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد (execution)کا سلسلہ بند ہے۔ جس کے نتیجے میں جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد روبرو بڑھنے لگی ہے۔ اور انہیں قید رکھنے کے لیے کوٹھریوں یا سیلوں کی تعداد کم ہونے لگی ہے۔ صوبے کی 32جیلوں میں سزائے موت کے مجموعی طورپر پانچ ہزار9سو 10سے زائدسے زائد قیدی ، قید کاٹ رہے ہیں۔ دی پاکستان پریزنز رولز 1978کے تحت سزائے موت کی کوٹھری 10x12فٹ کے سیل پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور ایک کوٹھری میں صرف ایک ہی قیدی کو ٹھہرایا جاسکتا ہے۔دوسری طرف صوبے کی جیلوں میں ڈیتھ سیلز یا سزائے موت کی کوٹھریوں کی مجموعی تعدادایک ہزار 8سو 15 بتائی گئی ہے۔اور جیلوں میں ایک کی جگہ سزائے موت کے چار سے چھ قیدیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں موت کے انتظار میں دن کاٹنے والے یہ لوگ وقت سے پہلے ہی موت کی خواہش کرنے لگے ہیں۔جیل ذرائع کے مطابق صوبے کی 32جیلوں میں سزائے موت کے مجموعی طورپر 4ہزار 4سو 5مرد اور 39ایسی خواتین قیدی ہیں۔ جن کی اپیلیں ھائی کورٹس میں چل رہی ہیں۔اسی طرح سزائے موت کے 9سو 21مرداور 3خواتین قیدی ایسے ہیں۔جن کی اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں۔سات قیدیوں کی اپیلیں فیڈرل شریعت عدالت میں چل رہی ہیں۔ ایک قیدی ایسا بھی ہے۔ جس کی اپیل جی ایچ کیو میں زیر التوا ہے۔ 4سو 72قیدی ایسے ہیں۔ جن کی اپیلیں سپریم کورٹ سے مسترد ہونے کے بعد ان کی رحم کی اپیلیں صدر مملکت کے پاس زیر التوا ہیں۔ جبکہ ایک خاتون اور 61مرد ایسے ہیں۔ جن کی اپیلیں صدر مملکت مستر دکرچکے ہیں۔ یوں مجموعی طورپر پانچ ہزارآٹھ سو 61مرد اور 43خواتین قیدی موت کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول