جرائم پیشہ افراد کے چنگل میں پھنسی خواتین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

جرائم پیشہ افراد کے چنگل میں پھنسی خواتین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور
جرائم پیشہ افراد کے چنگل میں پھنسی خواتین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

  

لندن (بیوروپورٹ) برطانیہ میں جرائم پیشہ گینگز میں پھنسی ہوئی ہزاروں لڑکیاں اور نوجوان خواتین کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں جنسی زیادتیاں، منشیات کی نقل وحمل اور اسلحہ کا استعمال گینگ کے نرغے میں پھنسی ہوئی خواتین کی روزمرہ زندگی کامعمول بن چکا ہے۔ ورک اور پنشن سے متعلق امور کے وزیر ڈنکن سمتھ کے قائم کردہ تھنک ٹینک نے متنبہ کیا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے 3 سال قبل گینگ کلچر کے خلاف اختیار کی گئی حکمت عملی سے صورت حال میں بہت ہی کم تبدیلی آئی ہے۔سینٹر فار سوشل جسٹس نامی تنظیم کی تازہ ترین ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح مردوں کو گینگ میں شامل کرنے کی ترغیب دینے کیلئے 10 دس سال کی نو عمر اور کمسن لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے رپورٹ کے مطابق عصمت دری کو مخالف گینگ سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں اور خواتین کو کنٹرول کرنے کیلئے عصمت دری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے رپورٹ میں ایک واقعے کا ذکر کیا گیا ہے کہ سکول کی ایک طالبہ کو صرف گینگ کے کسی رکن پر تنقید کرنے پر اغوا کیا گیا اور 9 افراد نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خواتین کو اسلحہ اور منشیات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ پولیس عام طور پر ان کو نہیں روکتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض مقامات پر ہیڈ ٹیچرز اپنے سکول کی ساکھ بچانے کیلئے گینگز کی سرگرمیوں سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے مسئلہ اور زیادہ گھمبیر ہو جاتا ہے۔

مزید : جرم و انصاف