پی او اے تنازع؛ حکومت کو اگلے10روزمیں فیصلہ کرنا ہوگا

پی او اے تنازع؛ حکومت کو اگلے10روزمیں فیصلہ کرنا ہوگا
پی او اے تنازع؛ حکومت کو اگلے10روزمیں فیصلہ کرنا ہوگا

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک ) حکومت پاکستان کو پی او اے کے معاملے پر اگلے10یوم میں لازمی فیصلہ کرنا ہوگا۔اس ضمن میں وزیر اعظم نواز شریف کا مشورہ اہم کردار ادا کرے گا، آئی او سی کی جانب سے پاکستان پر پابندی عائد کرنے کی حتمی دھمکی کے بعد وفاقی وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ منجدھار میں پھنس گئی، وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے اولمپک چارٹر کا احترام کرنے کا عندیہ دینے کے ساتھ آئی او سی کی تسلیم کردہ پی او اے پر ایڈہاک لگانے اور سرکاری پی او اے کی فیڈریشنز کو گرانٹ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا، سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کھیل کی چیئر پرسن سینیٹرفرح عاقل نے میجر جنرل (ر) سید عارف حسن کی سربراہی میں کام کرنے والی پی او اے کو ماننے اور اولمپک کھیلوں کی عالمی تنظیم سے تنازع پیدا نہ کرنے کی تجویز دیدی،میجر جنرل (ر) اکرم ساہی کی زیر قیادت پی او اے نے حکومت اور پی ایس بی کے رویے پر سخت تشویش اور تحفظات کا اظہار کر دیا۔تفصیلات کے مطابق آئی او سی کی جانب سے خصوصی مہلت ملنے کے بعد وفاقی وزارت بین الصوبائی رابطہ سخت مشکل میں پڑ گئی، سوئٹزر لینڈ میں آئی او سی کے ہیڈ کوارٹرز میں حکومت پاکستان نے معاہدے پر عمل کی یقین دہانی کرائی تھی تاہام تاحال ایسا نہ ہو سکا، دوسری جانب حکومت پاکستان کی خواہش ہے کہ اس کا منتخب قومی دستہ 17 ویں ایشین گیمز میں شرکت کرے، 16روزہ گیمز اولمپک کونسل آف ایشیا کے تحت 19ستمبر سے4اکتوبر تک جنوبی کوریا کے شہر انچین میں شیڈول ہیں، ایشین گیمز میں شرکت کی تصدیق 15 اپریل تک صرف آئی او سی کی تسلیم کردہ پی او اے کے ذریعے ہی قابل قبول ہوگی، پی ایس بی کے تحت کام کرنے والی پی او اے سے الحاق شدہ پی ایچ ایف کے سیکریٹری رانا مجاہد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ہماری نظریں حکومت کی طرف ہیں، دوسری جانب انتہائی باخبر ذرائع سے معلوم ہواکہ وفاقی وزیر ریاض حسین پیر زادہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئی او سی کو حکومتی موقف سے آگاہ کرتے ہوئے جنرل عارف کی پی او اے پر ایڈ ہاک لگانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان کو آگاہ کیا جائے گا۔انٹرنیشنل سطح پر تسیلم نہ کی جانے کی وجہ سے جنرل اکرم ساہی کی پی او اے کو فنڈز کے عدم اجرا کے سبب اس کی الحاق شدہ فیڈریشنز کو فی الفور سالانہ گرانٹ جاری کردی جائے، دوسری طرف رابطے پر مذکورہ پی او اے کے قریبی حلقوں نے موقف اختیار کیا کہ ہمیں تسلیم کرنے کے اعادے کے ساتھ ہی وزارت نے ہماری صوبائی ایسوسی ایشنز کو اپنے یونٹس کو فنڈز جاری کرنے سے روک دیا، دونوں پی او ایز کو باہم لڑانے کی پالیسی کے تحت درمیانی راستے کی بات کی جارہی ہے، ادھر رابطے پر آئی او سی کی تسلیم کردہ پی او اے کے سیکریٹری خالد محمود نے کہا کہ اولمپک تحریک پر عمل ناگزیر ہے ، ایشین گیمز میں ہماری ایسوسی ایشن ہی پاکستان کی نمائندگی کرے گی ، اس حوالے سے آئی او سی کا موقف دو ٹوک ہے، دوسری جانب سینٹ کی مجلس عاملہ برائے کھیل کی چیئر پرسن سینیٹر فرح عاقل نے کہا کہ پاکستان پر پابندی لگنا سخت تضحیک ہوگی، تنازع کے حل کے لیے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں قائم کی جانے والی 4 رکنی سب کمیٹی نے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے تجاویز دی ہیں کہ حکومت جنرل عارف کی پی او اے کو تسلیم کر تے ہوئے قومی سپورٹس پالیسی میں ضروری تبدیلیاں لائے۔

مزید : کھیل