سور کھاؤ یا بھوکے رہو

سور کھاؤ یا بھوکے رہو
سور کھاؤ یا بھوکے رہو

  

پیرس (بیورو رپورٹ) فرانس میں دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ کی ایک رہنما میرین لی پن کا کہنا ہے کہ جن 11 ٹاؤنز میں ان کی پارٹی بلدیاتی انتخابات جیتی ہے وہاں سکول کینٹینوں کو مسلم بچوں کو سور کا متبادل کھانا فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خود کو سیکولر کہلانے والے ملک فرانس میں اسلام دشمنی کا یہ نیا انداز ہے۔ لی پن کا کہنا تھا کہ سکول میں کھانے کے حوالے سے کوئی بھی مذہبی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی۔ دوسری جانب آزویرس شہر کے میئر بینوئٹ عزیز کا کہنا ہے کہ اس اقدام کی وجہ اخراجات پر قابو پانا ہے کیونکہ متبادل کھانے تیار کرنے پر کافی خرچ آتا ہے۔ نیشنل فرنٹ نامی سیاسی جماعت تو ویسے بھی اسلام دشمنی کی وجہ سے مشہور ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں اس کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ انتخابات میں اس نے 11 ٹاؤن ہال جیتے ہیں جبکہ  90ء کی دہائی میں اس کے پاس اس کی آدھی سیٹیں تھیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو شدت پسند کہنے والوں کے اپنے رویوں میں اس قدر تشدد اور نفرت جھلک رہی ہے، یہ تازہ اقدام یقیناً فرانس کی  جمہوریت کے منہ پر بھی طمانچہ ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس