دہلی میں جشنِ بہار اردو مشاعرہ

دہلی میں جشنِ بہار اردو مشاعرہ
دہلی میں جشنِ بہار اردو مشاعرہ

  

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت اور پاکستان کی مشترکہ لسانی، ادبی اور تہذیبی روایت کا امین مشاعرہ جشن بہار دہلی میں ہوا جوحال ہی میں دنیا کو الوداع کہنے والے معروف دانشور، ادیب اور سکالر خوشونت سنگھ سے منسوب کیا گیاتھا۔ جشن بہار ٹرسٹ کی بانی کامنا پرشاد کے مطابق خوشونت سنگھ نہ صرف اردو زبان کے پرستاروں میں تھے بلکہ اس مشاعرے کے روح روانوں میں شامل تھے۔مشاعرے کی صدارت بھارت کی پلاننگ کمیشن کی رکن سیدہ سیدین حمید نے کی جبکہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس ٹی ایس ٹھاکر مہمانِ خصوصی تھے ۔اردو اور مشاعرے کے شائقین دہلی پبلک سکول میں ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔اردو زبان و ادب کی کشادہ دلی، حفظ مراتب، شیرینی، سلیقہ اور شائستگی کا ذکر کرتے ہوئے جشن بہار ٹرسٹ کی بانی کامنا پرشاد نے کہا کہ نوجوان نسل اور ایوان کے اراکین کو اردو کا ایک تعارفی کورس ضرور کرنا چاہیے تاکہ ان میں بھی اس زبان کی شائستگی اور سلیقہ آ جائے۔ان کا کہنا تھا کہ’ہر کسی کو اردو زبان سیکھنی چاہیے کیونکہ اردو زبان و ادب ہی ہمیں مو¿ثر طریقے سے اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کرنا سکھاتا ہے ، اگر ہمارے ممبران پارلیمنٹ نے یہ زبان سیکھی ہوتی تو ہمیں ایوان کے اندر ہونے والے اشتعال انگیز نظارے کا سامنا نہ ہوتا۔ کراچی کے احمد سلمان نے اپنے کلام سے لوگوں کی خوب داد حاصل کی اور انھیں دوبارہ اسٹیج پر کلام سنانے کے لیے بلایا گیا۔تاجکستان کے شہر دوشانبے سے آنے والی شاعرہ زیب النساءمالاخووا نے اگرچہ اپنے کلام سے نہ سہی تو اپنی آواز اور انداز سے لوگوں کا دل ضرور جیتا۔مشاعرے میں پاکستان کے علاوہ ترکی، تاجکستان اور جاپان سے بھی شعرا نے شرکت کی۔ معروف پاکستانی شاعرہ فہمیدہ ریاض نے کہا کہ ہندوستان ایک ’اِنکلسیو‘ لفظ ہے جس میں سب شامل ہے۔ انھوں نے پاکستان میں شدت پسندی کی صورت حال پر نظم پڑھ کر داد سخن حاصل کی۔

مزید : ادب وثقافت