یمن میں تصادم کے محرکات و نتائج

یمن میں تصادم کے محرکات و نتائج
یمن میں تصادم کے محرکات و نتائج

  



گزشتہ نصف صدی سے یمن کو مشرق وسطی کے خطے کے تذویراتی مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ 1962ء میں مصر کے جمال عبدالناصر نے مشرق وسطی میں بیداری کی تحریک کی کامیابی کے بعد بغداد سے لے کر صنعا تک تمام شہنشاہوں کے دلوں میں خوف خدا بٹھا دیا۔انہوں نے اہلِ یمن میں بیداری کی لہر پیدا کی اور حوثی قبائل کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے شہنشاہیت کا خاتمہ کیا۔ یمن اور دیگر شہنشاہیتوں کی خوش قسمتی کہئے کہ 1967 ء کی چھ روزہ جنگ میں مصر کو اسرائیل کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔آج یمن کوکچھ اسی طرح کی صورت حال کا سامنا ہے، کیونکہ ایران، جوکہ دمشق اور بغداد سے لے کر صنعا تک اپنا اثرو رسوخ بڑھا چکا ہے، حوثی قبائل کی سرپرستی کر رہا ہے، جنہوں نے صدر ہادی کے خلاف سرکشی کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ کرصنعا میں صدارتی محل سمیت تذویراتی اہمیت کی حامل باب المنداب کی بندرگاہ پر قبضہ کرلیاہے ۔عرب اتحادی افواج کی بے دریغ فضائی بمباری کے باوجود، یمن کا تصادم ، سعودی عرب کی سلامتی کے لئے خطرے کا موجب بنتا جا رہا ہے۔اس صورت حال کا سبب بننے والے محرکات کا اندازہ لگانا اور انہیں سمجھناضروری ہے۔

گزشتہ تقریباً ایک صدی سے سعود ی عرب اور یمن ایک دوسرے سے متصادم رہے ہیں۔اس لئے یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ دونوں ممالک کے مابین ماضی کی تلخیاں کھٹک رہی ہیں اور حالیہ علاقائی سیاسی حالات کااس تصادم کو ہوا دینے میں اہم کرادارہے۔عرب دنیا میں تیزی سے اُجاگر ہوتا ہوا سیاسی شعور، (Arab Spring) اس تصادم کی پہلی وجہ ہے ’’ جس نے خطے میں شہنشاہیت کو جڑ سے اکھاڑا اور ایران کو اس قابل بنایا کہ اس نے ’’عرب میں انقلاب کی دبی ہوئی تحریکوں کو استعمال کرتے ہوئے شیعیت کی بالادستی کو تہران سے صنعا تک بڑھا دیا ہے، ،بالکل اِسی طرح جیسا کہ مصر کے جمال عبدالناصرنے انقلاب عرب کو قاہرہ سے صنعا تک پھیلایا تھا،جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو وہ اپنی کامیابی پر خوش ہے، لیکن درحقیقت شام، عراق او ر اب یمن میں اس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ، ایک طویل المدتی جنگ کی صورت اختیار کرسکتا ہے، جو ایرانیوں کے لئے مشکلات پیدا کرے گا۔

یہاں ہمیں امریکہ کی سازشوں پر بھی نظر رکھنا ہو گی،جو شیعہ سنی تقسیم کو ہوا دیتا رہا ہے۔1980ء کی دہائی میں ایران اور عراق کی جنگ کے دوران پاکستان میں متعدد فرقہ وارانہ فسادات برپا کروائے گئے جو کئی انتہا پسند لشکروں کی تشکیل کا سبب بنے2003ء میں جب عراق پر چڑھائی کی گئی، تو عراق اور پاکستان میں خونی فرقہ وارانہ فسادات رونماہوئے اور اس کے ساتھ ساتھ گرشتہ تین عشروں کے دوران ایران کو خطے کے سنی ممالک کے لئے ایک بڑے خطرے کے طور پر بدنام کیا جاتا رہا ہے اوراس خوف سے سنی ممالک نے خطرے کے سدباب کے لئے امریکہ سے 200بلین ڈالرسے زائد کا اسلحہ خریداہے۔ نتیجتاً2009 ء میں پہلی بار سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل نے شیعہ تحریک کو کچلنے کے لئے بحرین میں مداخلت کی۔ اب شیعہ اور سنی ممالک شام و عراق اور یمن میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔فرقہ واریت کا زہرہمارے دماغوں میں اتنا سرایت کر چکا ہے کہ اب امام خانہ کعبہ جیسی معتبراور محترم شخصیت نے اپنے حالیہ خطبے میں شیعوں کے خلاف مکمل جنگ کا فتوی دے دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر عالم اسلام کی بدنصیبی اور کیاہو سکتی ہے۔اب امریکہ نفرت اور فرقہ واریت کی آگ کو دونوں جانب سے ہوا دے رہا ہے۔اس نے مصر پر عائد عسکری امداد کی پابندی اُٹھا لی ہے اور سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو عسکری سازوسامان کی ترسیل زور و شور سے جاری ہے۔دوسری جانب ایران کو بھی ایٹمی معاہدے کی حوالے سے خصوصی رعایت دیتے ہوئے اس پر عائد پابندیاں اٹھالی گئی ہیں، جس سے ایران اقتصادی طور پر مضبوط ہوگا اوراس کے لئے اپنی سرحدوں سے باہر عسکری کارروائیاں کرنے میں آسانی پیدا ہو گی، لہٰذا فرقہ وارانہ تقسیم عالم اسلام کی سلامتی کے لئے اجتماعی خطرہ ہے۔

ایران اور سعودی عرب کا انتہائی قریبی اور قابل اعتماد دوست ہونے کے ناطے پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یمن کی صورت حال کا بے لاگ تجزیہ کرے تاکہ سعودی عرب کو لاحق حقیقی خطرے کا ادراک ہو سکے۔ خوش قسمتی سے1991ء کی خلیجی جنگ اور یمن کا حالیہ تصادم ، دونوں واقعات ہمارے لئے مناسب لائحہ عمل اختیار کرنے کے واضح اشارے ہیں۔مثلاً1991ء میں عراق کی جانب سے ممکنہ خطرے کے سبب امریکہ نے سعودی عرب میں بھاری تعداد میں فوجیں متعین کر دیں۔ 15,000 سے زائد پاکستانی فوجی بشمول ایک آرمرڈ بریگیڈ پہلے ہی وہا ں موجود تھے۔ پاکستانی حکومت کی خواہش تھی کہ ہماری فوج سعودی حکومت کے زیر کمان صدام حسین کے خلاف سعودی عرب کا دفاع کرے۔ میں نے اس فیصلہ سے اختلاف کیا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہاں پر امریکی فوجوں کی موجودگی کا مقصد ’’ سعودی عرب کا دفاع نہیں،بلکہ صدام کی افواج کی تباہی تھی‘‘۔ پہلے تو صدام کو کویت پر حملے کی ترغیب دلائی گئی اور جب اس کی فوجیں کھلے صحرا میں پہنچیں تو امریکی فوجوں نے انہیں چُن چُن کر تباہ کر دیا۔ اس طرح جنگ کا مقصد حاصل ہوا، جنگ ختم ہوئی اور سعودی عرب نے ہماری افواج کو بصد عزت و احترام وہاں سے نکال دیا۔

دوران جنگ، مَیں نے سعودی عرب میں اپنی فوج کا دورہ کیا اور جنرل شوارٹلوف (General Showarteoff)سے ان کے فوجی ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی ، جوزیرزمین ایک عظیم عمارت تھی جسے پاکستانی انجینئروں نے تیار کیا تھا۔ مَیں نے ان سے تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایسے لگتا ہے کہ پینٹاگو ن نے مجھے کسی اورمقصد کے حصول کے لئے منتخب کیا ہے‘‘۔ مَیں نے اس بات کی وضاحت مانگی تو انہوں کہا کہ ’’عنقریب آپ پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی‘‘اور پھرہم نے دیکھا کہ صدام کی فوجیں صحرا کی ریت کی نذر ہو گئیں ۔ یہی ریت کا طوفان(Desert Storm) تھا جو اب سعودی عرب میں فیصلہ کن طوفان(Decisive Storm) بن چکا ہے۔

سعودی عرب کے لئے یہ امر تشویشناک ہے کہ یمنی حوثیوں کی کامیابی سعودی عرب کی سلامتی کے لئے بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔مثلاً 1700 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی سرحدوں کی نگرانی عملاً ناممکن ہے، کیونکہ سرحدی علاقوں کی اکثریتی آبادی کا تعلق شیعہ سے ہے، جن کی سرحد پار نقل و حرکت کی موثر طور پرنگرانی نہیں کی جاسکتی ۔ یہی وہ علاقے ہیں جہاں تیل کے بڑے بڑے کنوئیں واقع ہیں۔اس طرح سعودی عرب ایک مستقل سر دردی کی کیفیت سے دوچارہے، کیونکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ حوثی سخت گیر اور جفاکش جنگجو ہیں اور ایران کی سرپرستی میں مزید خطرناک ہو گئے ہیں، جن کا مقابلہ کرنا عرب اتحادی فوجوں کے لئے مشکل ہے۔اِسی خطرے کے خلاف فضائی بمباری کا انتخاب کیا گیا ہے لیکن یہ حربہ بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔ ادھریمن میں ہر طرف سے لشکریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، وہاں پر افغانی مجاہدین بھی ہیں، جنہیں یمن کے سابق صدر صالح نے1991ء سے 1994ء تک جنوبی یمن کے باغیوں کو کچلنے اور ملک کو متحد رکھنے کے لئے استعمال کیا تھا۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت اسی (80) کے قریب ممالک کے پچیس ہزار (25,000) مجاہدین ، شام ، عراق،لیبیا اور یمن میں دولت اسلامیہ فی العراق و الشام کی مدد کر رہے ہیں۔در اصل یمن میں ایک اور لیبیا اُبھرتا نظر آ رہا ہے۔

اس وقت سعودی عرب کو جس حقیقی خطرے کا سامنا ہے وہ ملک کے اندرموجود وہابی مخالفین ہیں جن کی تعداد 10,000 سے زیادہ ہے، جو شام اور عراق میں موجود دولت اسلامیہ کی تعدادکے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ان کا اصل ہدف سعودی شہنشاہیت کا خاتمہ ہے۔ سعودی عرب کا جنوبی خطہ یمنی عسکریوں کے لئے آسان ہدف ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب کو کسی قسم کا فوجی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی خانہ خدا کو کسی قسم کا خطرہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کس طرح سعودی عرب کی مد د کرنی چاہئے؟پاکستان کو چاہئے کہ شاہ سلمان کے اقدامات کو حقیقت کا رنگ دے، یعنی ’’خلیج تعاون کونسل کی سرپرستی میں یمن کی علاقائی یکجہتی کو یقینی بنانے اور ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو درپیش خطرات کو ختم کرنے کے لئے امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے‘‘ لہٰذا پاکستان کو جارحانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان اہداف کا حصول یقینی بنانا ہوگا اور ترکی کے ساتھ مل کر سعودی عرب کو انتظامی امور (Logistic Support)کے معاملے میں مدد فراہم کرنی چاہئے۔ انتظامی امور کی تشریح یہ ہے کہ پاکستان اور ترکی دونوں مل کر سعودی عرب کی علاقائی یکجہتی اور اندرونی سلامتی کو یقینی بنانے کی اقدامات کریں۔رہا یمن میں زمینی عسکری کارروائی کرنے کا شوق تو یہ امر خطرات کا حامل ہے، کیونکہ طویل المدت گوریلا جنگ لڑنا اتحادی فوجوں کے بس کی بات نہیں۔یہ کام ایران پر چھوڑ دیں، کیونکہ شایدایران جمال عبدالناصر کا انجام بھول چکا ہے، تواسے یمن، شام ور عراق میں اپنی انگلیاں جلالینے دیں۔

مزید : کالم