انتخابی نشان سے محرومی اور کپتان کی پریشانی

انتخابی نشان سے محرومی اور کپتان کی پریشانی
انتخابی نشان سے محرومی اور کپتان کی پریشانی

  



انٹرا پارٹی الیکشن کی شرط پوری نہ کرنے پر پاکستان الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کو انتخابی نشان سے محروم کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے امیدواروں پر دو ماہ کے لئے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی ہے۔ چنانچہ چار حلقوں میں ہونے والے ضمنی الیکشن سے پی ٹی آئی کے امیدوار الیکشن لڑنے سے پہلے ہی آؤٹ ہو گئے ہیں۔

واقفانِ حال کہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آجکل خاصے پریشان ہیں۔ تلہ گنگ میں جلسے سے خطاب بھی انہوں نے اسی ’’پریشانی اور صدمے‘‘ کی حالت میں کیا ہے۔ عمران خان کی پریشانی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ جس سیاسی پارٹی (پاکستان تحریک انصاف) کے قائد ہیں، وہ انتخابی نشان سے محروم ہو گئی ہے۔ کرکٹ بیٹ یعنی ’’بلّا‘‘ اب تحریک انصاف کی ملکیت نہیں رہا۔ اس انتخابی نشان سے محرومی کی وجہ یہ ہے کہ کپتان اپنی پارٹی کے انتخابات بھی دی گئی مہلت کے اندر نہیں کروا سکے اور پاکستان الیکشن کمیشن نے قوانین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو اس کے انتخابی نشان ’’بلے‘‘ کو ان کی ملکیت سے ’’آزاد‘‘ کر دیا۔ اب کوئی بھی سیاسی پارٹی یا کوئی بھی آزاد امیدوار انتخابی نشان ’’ بلے‘‘ کی الاٹمنٹ کے لئے درخواست دے کر الیکشن لڑ سکتا ہے۔ ’’تیرا لٹیا شہر بھنبورنی سسیئے بے خبرے!‘‘ لیکن نہیں یہ ’’سّسی ‘‘ بے خبر نہیں تھی، پوری طرح باخبر تھی، اسے معلوم تھا کہ پارٹی الیکشن نہ کروائے تو یہی کچھ ہو گا۔

ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستان الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کا مخصوص انتخابی نشان کچھ عرصے تک کسی کی درخواست ملنے کے باوجود الاٹ کرنے کا فیصلہ نہ کرے۔یار لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کو اپنی پارٹی کے انتخابی نشان سے محرومی پر بڑی شرمندگی ہے۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ صدمے کا شکار ہیں۔ عمران خان کے مخالفین کی رائے ہے کہ وہ غصے میں ہیں اور پارٹی کے ساتھیوں سے ناراضی کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ انتخابی نشان بحال کروانے کے لئے اپنے کپتان عمران خان کو حامد خان سے لے کر اعجاز چودھری تک، اور علیم خان سے جہانگیر ترین تک ہی نہیں، شاہ محمود قریشی سے نعیم الحق تک سبھی مشورے دے رہے ہیں۔ ہمیں پاکستان الیکشن کمیشن کے متعلق قوانین کا تو پوری طرح علم نہیں لیکن عام معلومات کے حوالے سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے عمران خان اپنی پارٹی کے الیکشن کروائیں اور پھر نئے عہدیداروں کے انتخاب کی رپورٹ کے ساتھ درخواست دیں کہ ان کا پارٹی نشان دوبارہ الاٹ کر دیا جائے۔ پارٹی الیکشن نہ کرانے کا فوری نقصان تو برداشت کرنا پڑے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پاکستان الیکشن کمیشن کو باقاعدہ ایک درخواست 3 اپریل 2017ء کو دی گئی ، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ پارٹی الیکشن کرانے کے لئے مزید مہلت دی جائے۔ کسی جماعت یا امیدوار نے ’’ بلے‘‘ کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کی درخواست دے دی اور پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے وہ درخواست مان لی گئی تو پھر کپتان شاید ہمیشہ کے لئے اپنے پسندیدہ انتخابی نشان سے محروم ہو جائیں۔فوری طور پر ایسا نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن عمران خان کو ریلیف حاصل کرنے کا موقع ضرور دے گا۔ پی ٹی آئی نے پاکستان الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کردیا ہے دیکھیں اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

ظاہر ہے یہ صورت حال عمران خان کے لئے شرمندگی کے ساتھ ساتھ خاصی پریشان کن بھی ہو گی۔ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ جو لیڈر اپنے پارٹی الیکشن کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا، وہ ملک اور قوم کو درپیش مسائل کیسے حل کرے گا۔ مخالفین تو چپ رہنے والے نہیں ہیں۔ ایسی صورت حال پر عمران خان غصے اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تصور ہی کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی موجودگی اپنی ناراضی کا اظہار کیسے کرتے ہوں گے۔ ہم اگر تصور کریں تو عمران خان کی ناراضی کا اظہار کچھ اس طرح ہوتا ہو گا۔۔۔ ’’ دیکھیں، آپ سب کو معلوم ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میں تو اسے سانحہ ہی کہوں گا ویسے الیکشن کمیشن والوں کو اتنی جلدی کیا پڑی ہوئی تھی کہ ہمارے پارٹی الیکشن بروقت نہ ہونے کا انہوں نے اتنی جلدی نوٹس لے لیا۔ (مسکراتے ہوئے) میں بھی تو ان کی اچھی طرح کلاس لیا کرتا ہوں۔ انہوں نے بدلہ لے لیا۔۔۔ مجھے بہت افسوس ہے اور بڑی شرمندگی کی بات ہے کہ ہماری اپنی کمزوری اور ضد بازی کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہم اپنے انتخابی نشان سے محروم ہوگئے ہیں۔۔۔ یار! ایک تو آپ لوگ میری باتوں پر دھیان نہیں دیتے ہیں وجیہہ الدین نے پتہ نہیں، مجھ سے کس بات کا بدلہ لیا۔ میں نے تو اسے عزت دی اور پارٹی الیکشن کروانے کا موقعہ دیا مگر اس نے اصول پرست اور میرٹ چیمپئن بن کر ہمارے لئے مسئلہ کھڑا کر دیا۔ میں نے بار بار کہا کہ وجیہہ الدین۔۔۔ وجیہہ الدین ، تم یہ باتیں چھوڑو، ورنہ تم بجا دو گے ہماری پارٹی کی بین۔۔۔ سیدھے سیدھے الیکشن کراؤ، جیسے دوسری سیاسی جماعتوں میں ہوتے ہیں۔ یہ نوازشریف نے کب اپنی پارٹی کے الیکشن میرٹ پر کروائے ہیں۔ وہاں انڈر سٹینڈنگ سے کام لیا جاتا ہے۔ نامزدگیاں چلتی ہیں اور کوئی شور مچا کر اپنی پارٹی اور قیادت کے لئے مسئلے کھڑے نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ ان کے پارٹی الیکشن میں کسی کو تکلیف ہو تو بیٹھے بیٹھے کوئی نعرہ لگا کر یا اعتراض کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں پتہ نہیں کیوں کچھ لوگوں کو اصول اور میرٹ کا دورہ پڑ جاتا ہے۔

اس مرحلے پر عمران خان گہرا ٹھنڈا سانس لیتے ہیں اور پھر اپنے سر کو اضطرابی کیفیت میں ہلا کر کہتے ہیں۔۔۔ کدھر ہیں خان صاحب۔۔۔ حامد خان نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی میں نے تو سب سے کہا تھا کہ ہتھ ہولا رکھو۔ جو بھی آگے آرہا ہے، اسے آنے دو۔ کسی نے ساری زندگی کے لئے جنرل سیکرٹری یا صوبائی صدر تو نہیں بنے رہنا ہے۔ جو عہدیدار بنے گا، وہ قبضہ کر کے تو نہیں بیٹھ جائے گا۔ آگے چل کر آپ کو بھی موقع ملے گا۔ آپ کا نمبر بھی آ جائے گا لیکن میری بات کسی نے نہ مانی۔ وجیہہ الدین کے بعد بھی جن لوگوں کو الیکشن کرانے کی ذمے داری دی گئی ہمارے مہربانوں نے انہیں بھی چلنے نہ دیا۔ اب سب لوگ مزے لے لیں، ضد بازی اور لیڈری کا ۔۔۔ یار! میں تو سوچ رہا ہوں کہ چند دنوں کے لئے لندن چلا جاؤں۔ آپ لوگوں نے مجھے ڈپریشن میں مبتلا کر دیا ہے۔

ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ کپتان عمران خان پریشانی اور غصے کی جس کیفیت سے گزر رہے ہیں، اس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی وہ کہتے ہیں کہ جس تن لاگے، وہ تن جانے۔ عمران خان تو بہت پہلے پارٹی الیکشن کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں نہایت سخت گیر قسم کے چیف الیکشن کمشنر (ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین) کو برداشت کرنا پڑا۔ لیکن کا مسئلہ تو حل نہ ہوا، خود جسٹس صاحب عمران خان کے لئے سنگین مسئلہ بن گئے۔ بڑی مشکل سے جان چھڑائی اور قدرے انتظار کے بعد پارٹی الیکشن کی دوسری کوشش ہوئی لیکن بات بن نہ سکی اور وہ مرحلہ بھی شروع ہو گیا جب پاکستان الیکشن کمیشن والوں نے پاکستان تحریک انصاف سے ان کا مخصوص اور پسندیدہ انتخابی نشان ’’بلّا‘‘ واپس لے لیا۔ عمران خان کے لئے پھر وہی مسئلہ درد سر بنا ہوا ہے۔ پارٹی الیکشن کا اعلان تو انہوں نے باقاعدہ کر رکھا ہے، مشکل یہ ہے کہ پارٹی میں اتنے زیادہ گروپ موجود ہیں کہ الیکشن ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ جب پارٹی الیکشن ہوں گے تو پارٹی میں مزید دھڑے بندی اور گروپنگ ہو گی، جسے برداشت کرتے ہوئے سیاسی میدان میں آگے بڑھنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ آصف زرداری نے سرگرم ہو کر پہلے ہی چیلنج کر رکھا ہے۔ پارٹی گروہ بندی اور اندرونی انتشار کا شکار ہو تو دوسری پارٹیوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا۔ جہاں تک وزیر اعظم نوازشریف کی پیش قدمی کی بات ہے تو سی پیک کی وجہ سے انہیں خلاف توقع کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں عمران خان کو ’’ چومکھی‘‘ کے داؤ پیچ استعمال کرنا پڑیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ’’ چومکھی‘‘ سے آشنا ہیں؟

پارٹی الیکشن کی سخت کڑوی گولی عمران اور ان کے قریبی ساتھیوں کو نگلنا پڑے گی اور نازک صورت حال کی وجہ سے کچھ لوگوں کو عہدوں کی تقسیم کے معاملے میں کچھ ’’ قربانی‘‘ دینا پڑے گی کہ اس کے بغیر پارٹی الیکشن کی وجہ سے اختلافات اور شکایات کا طوفان تھمنے والا نہیں۔ اس کے لئے عمران اور ان کی ’’کچن کیبنٹ ‘‘ کو ہنگامی طور پر پلاننگ کر لینی چاہئے تاکہ اس مرحلے پر زیادہ بگاڑ نہ ہو۔ اس کے بعد ہی انہیں دوسرے معاملات کے بارے میں حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ پانامہ کیس کا فیصلہ کسی بھی دن سنایا جاسکتا ہے۔ اس پر بھی عمران خان کو بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے بھی ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کپتان خود کہا کرتے ہیں کہ وہ حالات اور ناکامیوں سے گھبرایا نہیں کرتے، بلکہ مقابلے کے لئے خود کو تیار کرتے رہتے ہیں۔ دیکھتے ہیں، موجودہ حالات میں ان کی حکمت عملی کیا ہوگی اور سیاسی میدان میں ان کی سیاست کیا رنگ لائے گی۔

مزید : کالم