دہشت گرد کا کوئی مذہب اور دین نہیں

دہشت گرد کا کوئی مذہب اور دین نہیں
دہشت گرد کا کوئی مذہب اور دین نہیں

  

اسلام کے معنی  تسلیم، ماننا،  اطاعت  گزاری ،  امن اوروسلامتی کے  ہیں ۔ مسلمان جہاں اس دنیا میں واحد لا شرک کی اطاعت گزار  ی کا  عملی نمونہ ہے  وہاں امن وسلامتی کے پیکر بھی  ہے ۔ رب العزت نے اپنے نبی آخرت زمان  کے دین  اسلام کو لڑائی جھگڑا، ماری کٹائی اور دہنگا فساد اور دہشت گردی ختم کرنے کے لئے نافذ کیا ہے ،دنیا میں  اس وقت جواختلاف موجود ہے اس کا واحد حل اسلامی نظریہ حیات میں ہے ۔اسلام امن و سلامتی ، اخو ت و بھائی چارہ اور میل ملاپ کا درس دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے اندر تمام انسان برابری کی حیثیت رکھتے ہیں ، اسلام طرز زندگی میں تمام شہری کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔  ہر ایک کی جان ، مال اور عزت کی ضمانت  دی گئی ہے۔کسی طاقت ور کو کمزور پر کسی قسم کی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ کے دوران فرمایا:

"تم پر  ایک  دوسرے کاخون، مال اور عزت حرام کر دی گئی"۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے

"جس جان کو مارنا اللہ رب العزت  نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا، مگر جائز طور پر اور جو شخص ناحق مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قاتل پر قصاص )کا اختیار دیا ہے۔ "۔  (سورۃ االنساء : 92)

اسلام میں دہشت گردی اور فساد کو کوئی تصور   سرے سے موجود نہیں ہے ۔  دہشت گردی ایک ایسا عمل ہے جس میں منصوبہ بندی کے ساتھ دہشت اور تباہی کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ خوف  و ہراس کی ایسی فضا پیدا کرنا جس سے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ اس کا بنیادی ہدف کچھ لوگ، افراد، گروہ اور کیمونٹی ہوتے ہیں جن کو ٹارگٹ کرکے لوگوں میں اضطراب پیدا کرنا اور مطلوبہ مقاصد کا حصول ہے۔ دہشت گردی کو تین  کیٹگری    میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔

 انفرادی دہشت گردی: یہ ذاتی انتقام یا ذہنی و جسمانی بیماری کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔یہ ارد گرد کے ماحول، حالات یا بیماری کے باعث تشدد کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔

 گروہی (کیمونٹی)دہشت گردی: یہ مذہبی، نسلی  اور سیاسی عوامل کی بنا ء پر وجو د میں آ تی ہے۔ مذہبی دہشت گردی کی وجہ مذہبی اختلافات میں تیزی کا باعث ہے۔

  ریاستی دہشت گردی: اس کی تشکیل ، استحکام اور بقاء میں قتل و غارت گری شامل ہے ۔ دورحاضر میں ریاست اورحکومت کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور حکومت سے اختلاف کو جمہوری حق قرار دیا گیا ہے لیکن حکومتیں اس اختلاف کو آسانی سے ریاست سے اختلاف کی شکل دے دیتی ہیں جس میں قید و بند  اور قتل کی سزاوں کا سلسلہ  شروع  کیا جاتا ہے ۔

دہشت گردی کی ایک اور  مثال بدترین صورت عالمی دہشت گردی (بین الاقوامی) ہے جب ایک ملک دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ہوس ملک و زر کے لئے جنگیں لڑنے والے فاتحین نے قتل و غارت گری سے دوسرے ملکوں پر قبضہ کیا اور ان کے وسائل کو لوٹا۔

پاکستان کی قوم  کئی سالوں سے  دہشت گردی کے ناسور کا سامنا بہت ہی دلیری کے ساتھ کر رہی ہے۔  ملکی بقاء کی اس جنگ میں لاکھوں  قیمتی جانوں کے  نذرانہ کے ساتھ ساتھ بےانتہاء مالی نقصانات کو اٹھانا پڑا۔ تعلیم و ترقی ، ٹیکنالوجی و ایجادات کے میدانوں میں دوسری اقوام سے بہت پیچھے کی بڑی وجہ دہشت گردی کا ناسور ہے ۔  

دین اسلام  امن  و سکون ، بھائی چارہ ، محبت و اخوت کا درس دیتا ہے، کسی مذہبی گروہ کو یہ حق  حاصل نہیں  کہ وہ اپنے رائے، خیالات اور نظریات کو طاقت کے بل بوتے پر دوسروں پر مسلط کرے ۔  دین  اسلام دہشت گردی کو کسی مذہب، برادی  یا قوم سے منسلک نہیں کرتا ہے۔

دہشت گردوں کے وہ  عناصر جو آج دین اسلام اور محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت کے نفاذ پر لوگوں کو قتل  کر رہے ہیں ،  بازاروں   اور  پر ہجوم جگہوں میں   نہتے شہریوں  کو خود کش حملوں اور   بم دھماکوں میں ہلاک  کر رہے ہیں ، اسکول  تعلیمی اداروں اور یونیورسٹوں   میں معصوم  چہروں   کو نشانہ بنا رہے ہیں، عوام الناس   کی املاک   اور مال کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان کا اسلام اور دینی تعلیمات سے  کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام   نے  خود کشی کو حرام موت قرار دیا ہے جو دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ آج دنیا کے اندر کئی گمراہ کن گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں معصوم انسانیت کا قتل کر رہے ہیں جو سراسر غلط اور گناہ عظیم ہے ۔ اسلام تعلیمات  میں کسی کی بھی خود سے  ناحق جان لینے کی اجازت نہیں ہے ، ہر ایک کی جان و مال کی حفاظت  کرنا مومن  کی ذمہ داری ہے پھر یہ کیسے معصوم انسانیت کو قتل کرکے جنت میں جانے کا سرٹیفکیٹ بانٹتے  ہیں۔  دین اسلام طاقت  کے بل بوتے  نہیں بلکہ نیک سیرت اعمال اور  تبلیغ سے فروغ پایا ہے، جب کہ دہشت گردی کا منبع  زبردستی، قوت، اور طاقت ہے۔   

ریاست کے اندر تمام شہری مساوی حقوق رکھتے ہیں ، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں  کی جان، مال اور عزت کو محفوظ بنائے، ملک میں امن و امان کی فضا برقرار رکھے۔  تمام باطل قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام پاکستانی قوم بغیر کسی رنگ و نسل، فرقہ واریت سے ہٹ کر اتحاد اور وحدت کے یک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھی  کھڑی ہے  ۔ مسلم ممالک کے تما م سربراہاں کو چاہیے کہ وہ اسلام کی سربلندی کے لئے مشترکہ ادارے تشکیل دے، یہودی و مغربی لابی کی جانب سے عائد کئے گئے الزامات کو یک جان ہو کر در کریں اور باہمی اتحاد کے ذریعے سے اسلام کے دوبارہ اپنے عروج پر لانے کے لئے کوشش کریں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -