آپ کی شناخت ہے کیا؟

آپ کی شناخت ہے کیا؟
آپ کی شناخت ہے کیا؟

  



21مارچ کو جلسے کا آغاز ہوا۔ 22مارچ کو قائداعظم نے تقریر کی اور 23مارچ کو مولوی فضل الحق نے قرارداد پاکستان پیش کردی۔اس قرارداد نے جہاں دو قومی نظریے پر مہر لگا ئی وہاں ہندوستان کے مسلمانوں کو زندگی اسلامی روایات کے مطابق گزارنے اور ایک آزاد اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا بھی یقین دلایا گیا۔مسلمان رہنماؤں کی سیاسی کاوشیں اور مسلمان قوم کی قربانیاں رنگ لائیں اور 14 اگست 1947کو دو قومی نظرے کی بنیاد پر ہندوستان کے مسلمان ایک آزاد ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن دو قومی نظریے کے 77سال اور آزادی کے 69 سال بعد آج بھی کئی سوالات مولانا محمد علی جوہر ،سرسید احمد خان،مولانا عبدلحکیم شرر ،خیری برادران،مولانا اشرف علی تھانوی،سلطان محمد آغا خان،علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کی آنکھوں میں موجود ہیں کہ کیا وہ دو قومی نظریہ اپنی اصل روح اور جسم کے ساتھ آ ج بھی زندہ ہے یا نہیں؟ کیا ہمارے سیاستدانوں نے دو قومی نظریے کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے کوئی اقدامات کیے ہیں یا نہیں؟ کیا محمد علی جناح کے لگائے گئے اس گلستان کو اس قوم نے اپنے خون اور پسینے سے سینچا ہے کہ نہیں؟ میں ان سوالات کے جوابات دینے کی اہلیت نہیں رکھتا لیکن کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ بہتر فیصلہ دے سکیں گے ۔آپ ان کے جوابات کی رہنمائی کے لیے قائداعظم کے 22مارچ 1940کو کیے گئے خطاب کو سامنے رکھیں۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک اس لیے ضروری ہے کہ ہندوں اور مسلمانوں کے رسم ورواج مختلف ہیں۔ لیکن کیاآج ہم نے مسلمانوں کے رسم و روا ج چھوڑ کر ہندو رسم و ررواج نہیں اپنا لیے ہیں؟ آپ پاکستان میں شادی بیاہ کی تقریبات کی مثال ہی لے لیجئے ۔ہمارے ملک میں کوئی بھی شادی اس وقت تک نامکمل سمجھی جاتی ہے جب تک اس میں مہندی ،مایوں،دودھ پلائی ،جوتا چرائی،رستہ رکوائی،گودبیٹھائی اور باگ پھڑائی جیسی ہندو انہ رسمیں شامل نہ ہوں، جب تک انڈین گانوں پر ڈانس کرنے کیلئے مخصوص انڈین ڈانسنگ سٹیج نہ لگا دیا جائے اور جب تک ان ڈانسز میں پر فیکشن لانے کیلئے پوراپورا مہینہ ریہرسل نہ کی جائے۔یہاں تک وزیر اعظم پاکستان اپنی نواسی کی شادی پر بھی ہندو رواج کے مطابق انڈین پگڑی پہن کر تصویریں کھنچواتے رہے ۔

آپ نیک نیتی سے بتائیں کہ کیا یہ رسومات دو قومی نظریے کی نفی نہیں کر رہی ہیں؟ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ مسلمان اور ہندو معاشی لحاظ سے د و قومیں ہیں ۔جس سود کو ہندو کامیاب کارروبار سمجھتے ہیں مسلمان اسے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ قرار دیتے ہیں۔لیکن آج ملک پاکستان کا معا شی نظام صرف سود کے کاروبار پر چل رہا ہے اور حکومت ٹیکسوں کی مد میں بھی عوام سے جو پیسہ وصول کرتی ہے اس کا بڑا حصہ بیرون ملک قرضوں کے سود کی قسطیں ادا کرنے میں صرف کردیا جاتا ہے۔ پاکستان میں حکومتی بچت کی تمام اسکیموں کی بنیاد سود پر ہے اور کسی بھی کنونشنل بینک کی 90 فیصد انکم سود پر دیے گئے قرضوں سے حا صل شدہ سود پر منحصر ہوتی ہے۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ مسلمان اور ہندو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ان تہذیبوں کے نظریات و افکار بھی مختلف ہیں ۔دونوں کے ہیروز بھی مختلف ہیں ۔ یہاں تک کہ ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کا دشمن ہوتا ہے اور دوسری قوم کا ہیرو پہلی قوم کا دشمن ہوتا ہے۔ایک کی شکست دوسرے کی فتح اور دوسروں کی شکست پہلے کی فتح ہوتی ہے۔ لیکن آج ہماری نوجوان نسل کے ہیروز رنبیر کپور ،اجے دیوگن ،امیتابھ بچن اور سنی دیول ہیں اور ہمارا کوئی بھی فیشن شو اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہم مکمل طور پر ان ہیروز کو کاپی پیسٹ نہیں کر لیتے۔ ہمارے بل بورڈ ز ان ہندو ڈراموں اور ماڈلز کی تصویروں سے بھرے پڑے ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک میں کچھ دنوں کیلئے انڈین فلموں پر پابندی لگی تو عوام انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرکے وہ فلمیں دیکھتے رہے اور جو یہ فلمیں نہیں دیکھ پا رہے تھے وہ دقیانوس اور بدقسمت تصور کیے جا رہے تھے۔ آپ ان حقائق کو سامنے رکھیں او ر احتساب کریں کہ کیا ہمارے پاس دو قومی نظریے کے بانی قائدین کے سوالات کے جوابات ہیںیا نہیں؟ کیا ہم ان کی توقعات پر پورا اتر پائے ہیں یا نہیں؟اور اگر ہمارے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں ہیں اور ہم ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر پا رہے تو میری وزیراعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ دو قومی نظریے کو دوبارہ زندہ کرنے اور نئی نسل کو اس پر عمل پیرا کرنے کیلئے فوری قانون سازی کرے۔آپ آج ہی وزیرثقافت سے کہہ کر قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کریں کہ ملک کی کسی بھی شادی کی تقریب میں مایوں،مہندی ،جوتاچرائی ،رستہ رکائی،باگ پھڑائی جیسی رسموں پر پابندی ہو گی اوران رسموں کو باقاعدہ طور پر ہندوؤانہ رسمیں قرار دیا جائے۔ لڑکے اورلڑکی کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کیلئے صرف نکاح اور ولیمہ کو لازمی قرار دیں اور باقی تمام رسموں کوغیر قانونی ،غیر اخلاقی اور غیر شرعی قرار دے دیں۔آپ ملک سے سود کے نظام کے خاتمے کیلئے آج ہی ملائیشین بینکنگ سسٹم کو پاکستان میں متعارف کرائیں،اور جس تیز رفتاری سے آپ نے فوجی عدالتوں کی منظوری پر کام کیا ہے اسی تیز رفتاری سے آپ اسلامک بینکنگ ماڈل کے 100فیصد نفاذ کو پارلیمنٹ سے منظور کروائیں اور ملکی معیشت کو سودسے پاک کردیں۔ ملک میں انڈین فلموں،ڈراموں ،چینل اور کانٹینٹ پر فوری پابندی لگائیں۔کسی بھی بل بورڈز پر انڈین ماڈل اور ہیروز کی تصاویر کو ناقابل معافی جرم قرار دیدیں او ر آپ یقین کریں کہ جس دن آپ گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کی بجائے دو قومی نظریے کو عملی طور پر نافذ کرنے میں کامیاب ہوگئے اس دن آپ 23 مار چ 1940 کے اقابرین ، پاکستان کی آزادی کی جنگ میں شہید ہونے والے مسلمانوں ا ور اپنی آنے والی نسلوں کے ہیرو بن جائیں گے۔ بصورتِ دیگر تاریخ آپ کو غیر سنجیدہ قوم اور نا اہل حکمرانوں کے نام سے یاد رکھے گی اور آپ اپنی شناخت تک کھو بیٹھیں گے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ