انڈیا میں غیر ملکی طالب علموں کے ساتھ برا سلوک

انڈیا میں غیر ملکی طالب علموں کے ساتھ برا سلوک
انڈیا میں غیر ملکی طالب علموں کے ساتھ برا سلوک

  

سیکولر بھارت کے چہرے پر ویسے تو کئی بدنما داغ ہمیشہ سے نمایاں رہے ہیں جو زیادہ مسلمانوں کے خون سے روشن ہوتے ہیں لیکن ایک حالیہ واقعہ نے پوری دنیا کو پھر سے بھارت کا اصل چہرہ دکھایا ہے جسے اگرچہ وہ پہچانتے تو ضرور ہیں لیکن کبھی بھی سزاوار نہیں ٹھہراتے۔ حالیہ واقعہ میں دہلی شہر کے قریب نائیجیریا کے باشندوں کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ ایک بھارتی نوجوان زیادہ نشہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگیا ہے۔ وہ نشہ ان نائیجیرین باشندوں نے فراہم کیا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان باشندوں پر سینکڑوں افراد نے حملہ کیا جبکہ ایک کو شاپنگ مال کے اندر بھی خوب مارا گیا۔ شاپنگ مال کے اندر جس شخص کو مار پڑی اس کا تعلق تنزانیہ سے تھا۔

انڈیا میں ایسے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں جس کا زیادہ تر نشانہ مسلمان اور غیر ملکی شہری ہوتے ہیں۔ 2016ء میں بھی ایسے واقعات ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں کونگو اور نائیجیریا کے دو افراد کو معمولی تنازعہ کی وجہ سے ماردیا گیا تھا۔ افریقہ سے آنے والے زیادہ افریقی باشندے مسلمان ہیں اور انڈیا میں پڑھائی کے لئے آتے ہیں۔ جن سے انڈیا میں بہت متعصب پسند سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

انڈیا میں اس حالیہ واقعہ نے عالمی میڈیا میں بہت پذیرائی حاصل کی لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی محض یقین دہانی ہی کروائی ہے ۔ بھارتی وزیر خارجہ سے افریقی وفد کی ملاقات بھی ہوئی ہے جس کے بعد افریقی وفد نے بھارتی رویہ کو نامناسب قرار دیا اور معاملہ کو عالمی انسانی کونسل جو اقوام متحدہ کے تحت کام کرتی ہے، اس میں لے جانے کا اعلان کیا ہے۔

شاپنگ مال میں جس طالب علم کی پٹائی ہوئی اسے ڈنڈوں، اینٹوں، چھڑیوں اور گھونسوں سے مارا گیا۔ اس موقع پر کسی نے پولسی کو بلانے کی زحمت گوار نہ کی اور واقعہ کی ویڈیو بناتے رہے جو بعد میں پورے سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ مئی 2016ء میں ایک رکشہ ڈرائیور کے ہاتھوں دو افریقی مارے گئے تھے۔ اس طرح دسمبر2016ء میں بھی بنگلور میں ا یک تنزانیہ کے طالبعلم کو ماردیا تھا۔جبکہ گووا میں بھی ایک افریقی طالبعلم کو ہلاک کردیا گیا تھا۔

بھارت میں افریقی طالبعلموں پر ہی نہیں بلکہ غیر ملکی سیاح بھی اس کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ خصوصی طور پر غیر ملکی سیاح خواتین پر مقامی لوگوں کے شرمناک برتاؤ سے بہت تنگ نظر آتی ہیں۔ ایسے کئی واقعات ہوئے جن کو ملکی میڈیا صرف اس لئے حذف کردیتا ہے تاکہ انڈیا میں سیاحت متاثر نہ ہو۔

افریقی ممالک اس معاملہ پر بہت شدید برہم ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ افریقی ممالک بھارتی حکومت کی خاموشی کو بہت معنی خیز خیال کرتی ہے اور اس مسئلہ کو بہت سنجیدگی سے اٹھانے پر زور دیتی ہے وگرنہ افریقی ممالک بھارتی مفادات اور کاروبار پر پابندیوں جیسے سخت اقدامات بھی اٹھاسکتی ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -