’’تربت سے گوادر‘‘ تک پاکستان ہی پاکستان

’’تربت سے گوادر‘‘ تک پاکستان ہی پاکستان
’’تربت سے گوادر‘‘ تک پاکستان ہی پاکستان

  

لفظ کی طاقت اور تاریخ کسی بھی جنگ سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ زبان بھی قوم کی سیاسی اور ثقافتی علامت ہوتی ہے جو اس پورے نظام کی روح ہے اور یہ مختلف زاویوں سے اس کے اسرار کو واضح کرتی ہے۔

آج بھی عالمی طاقتیں کمزور اقوام پر سیاسی غلبے کے بعد اس کے معاشی وسائل پر قابض ہو جاتی ہیں اور یوں ان کے لسانی، معاشی اور معاشرتی عوامل پر اتنے گہرے اثرات چھوڑتی ہیں کہ ان کی ثقافت، طرز حیات، افکار و اعمال حتیٰ کہ ان کا مذہب تک بدل جاتا ہے اور یوں حاکم و محکوم کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے، ان طاقتوں کا کوئی خاص نام نہیں، کوئی قومیت نہیں، کوئی خاص خطہ نہیں۔

بس ایک ایسی سوچ کے مالک ذہن ہیں جو دنیا کے کسی بھی خطے میں پائے جا سکتے ہیں اور بڑے سے بڑے عالمی پیمانے کے علاوہ چھوٹی سے چھوٹی سطح پر بھی یہ قابض گروپ خطوں کے ساتھ ساتھ ذہنوں اور ثقافتوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

گزشتہ دو روز سے اسلام آباد اوپن یونیورسٹی میں شعبہ ’’قومی زبانیں‘‘ کی مہمان ہوں۔ اس شعبہ نے ’’پاکستانی زبانیں اور نوآبادتی ادب‘‘ کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔

موضوع کے اعتبار سے اگر غور کیا جائے تو حیرانی ہوگی کہ آج کے اس مشینی اور آئی ٹی کے دور میں بھی ہم اس موضوع ’’نوآبادیات‘‘ کو کیوں اہم سمجھ کر زیر بحث لا رہے ہیں۔ آخر اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

کانفرنس کے مکمل ہونے کے بعد مجھے اپنے ان تمام سوالوں کے جواب خود بخود ملتے گئے۔ جوں جوں مقالے پڑھے گئے توں توں اپنی کمزوریوں سے پردے اٹھتے گئے۔

اس محفل میں جہاں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی ڈین آف سوشل سائنسز ڈاکٹر ثمینہ اعوان مبارک باد کے مستحق ہیں۔ سب سے بڑے اور اہم رکن شعبہ ’’قومی زبانیں‘‘ کے صدر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد دراصل اس کانفرنس کے رئیس و میزبان تھے۔

کانفرنس کا موضوع تو بلاشبہ منفرد اور اہم تھا اس دور میں ہماری ستر (70) قومی زبانوں میں سے ہم اپنی چند مادری زبانوں کے سوا باقی کو سمجھنے کے علاوہ لکھنا اور پڑھنا بھی نہیں جانتے اور اب تو صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہم اردو بھی لکھنا اور بولنا اتنا اہم نہیں سمجھتے۔

ہماری نئی نسل گزشتہ کئی برسوں سے اپنی زبان سے اس قدر دور ہمارے تعلیمی نظام کی وجہ سے ہوئی ہے۔ جب ہم زبان کو ہی نہیں سمجھتے تو ورثے کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔

سو اس طرح کی کانفرنسیں اور اس قدر اچھوتا موضوع کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ہم اپنے اپنے عہد کے ہیرو اور ان کے کارناموں کو باآسانی اپنی زبان میں سمجھا جا سکتے ہیں کیونکہ زبان اپنے ساتھ ساتھ پورے عہد کی تاریخ، تہذیب اور تمدن کو ظاہر کرتی ہے۔ اب اس کانفرنس کی دلچسپ ترین بات یہ تھی کہ اس کے مندوبین ملک کے تمام علاقوں سے آئے ہیں، ان کی نمائندگی کی شرح بھی متوازن تھی اور یہ ہی موجودہ حاکم اور محکوم قوتوں کے خلاف ایک بلند آواز کا عکس تھی۔ عام طور پر ایسی کانفرنسوں میں نمایاں نظر آنے والے چہرے ایک ہی ہوتے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ باقی تمام قوم یا تو ان مسائل سے بے خبر ہے یا پھر ان کو اس کی پرواہ ہی نہیں جبکہ موجودہ کانفرنس میں پنجابی، بلوچی، سندھی، ہندکو، پشتو، سرائیکی، کشمیری اور اردو کے ساتھ ساتھ ہر زبان کے ماہرین یہاں نظر آ رہے تھے۔ افتتاحی تقریب میں جب اسٹیج پر بیٹھے ہال میں موجود حاضرین پر نظر پڑی تو احساس ہوا کہ پاکستان اس قدر وسیع ہے۔

یہ تمام خطوں کی نمائندگی کرنے والے دانشور، پروفیسرز اور ادیب دراصل مشترکہ طور پر سامراجی نظام اور لوگوں کے خلاف ایک ہی آواز بلند کر رہے تھے جو ہمیں سیاسی شعور اور وراثت، علم اور فصاحت اور تہذیب اور ادب ان سب کو ہم آئندہ پیش آنے والے حالات سے کس طرح محفوظ کر سکتے ہیں۔

مجھے بھی شرف بخشا کہ افتتاحی اجلاس میں نوآبادیاتی ادب اور سیاسی شعور کے موضوع پر روشنی ڈال سکوں۔ عوام کے ستر سالہ سفروں کی بازگشت نے زبان تک یہ ہی الفاظ لائے کہ ’’سیاسی شعور دراصل اپنے حقوق کے احساس کی بیداری کا نام ہے‘‘ سامنے خیرپور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کی آنکھیں تو چمکیں لیکن ہاتھ تالیوں کی گونج میں شامل ہو گئے لیکن ان کے عین پیچھے ایک چار معصوم اور جرأت سے لبریز تربت کے علاقے کی خواتین کا ٹولہ غالباً ’’تالیاں بجاتے بجاتے اپنے بلوچی لباس کے اوپر چادریں اوڑھے کھڑا ہو گیا اور میری آواز کو طاقت بخشنے لگا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ ہال میں بیٹھے تمام لوگ بے لوث جگنوؤں کا قافلہ ہیں جن کی روشنی ظلم کے اندھیروں کو پامال کرکے جھوٹ کے انگاروں کو دبا دے گی لیکن کب؟ شرط صرف ہاتھوں میں قلم کی طاقت اور اس میں بھری سچ کی سیاہی ہے اور پھر ہم کسی دنیاوی حاکم کے آگے نہیں، کائنات کے خالق کے آگے سرنگوں کریں گے۔

میر تقی میر تو فرنگیوں کے قبضے پر دل کا حال لکھتے تھے:

کیا بود و باش پوچھو ہو پورپ کے ساکنو

لیکن آج ہم جس دوراہے پر کھڑے ہیں وہ ہے نیا نوآبادتی نظام یعنی عالمی سیاسی طاقت کا اعلان زمین پر قبضہ کرکے نہیں بڑھایا جانا۔ اس کے برعکس نوآبادکار محکوم قوموں سے معاہدے کرتے ہیں، اقتصادی بنیادوں پر اتحاد کرتے ہیں، تجارت کے نام پر کارپوریٹ نظام، یہاں تک کہ معاشرتی قدروں کو متعارف کرواتے ہیں۔ حاکم آباد کار دور دراز بیٹھ کر ذہنوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

ہماری تہذیب کی جڑیں کھوکھلی، زبانیں خاموش اور قدریں لاوارث بچوں کی مانند دھرتی ماں کے سینے پر احساس کی کوکھ کو آواز دے رہی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ’’چراغ‘‘ کو ہوا کے ساتھ خیر و برکت بھی درکار ہے۔ جب ہم اپنا کوڑا کرکٹ بھی باہر والوں کے سپرد کر دیں تو پھر ہمارے

ہاں نئے بننے والے انڈر پاسوں کے نام ان نئے نوآبادکاروں کے لیڈروں کے ناموں پر ہوں گے اور ہم اپنی قومی زبانوں کے مقابلے میں اپنی یونیورسٹیوں میں ان کی زبانیں سکھانے کے لئے بڑے سے بڑا ڈیپارٹمنٹ کھولنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے برصغیر میں مغلوں کی نوآبادیاتی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے کاروباری مواقع کی تلاش میں ایک تجارتی ادارہ قائم کیا۔

بعد ازاں نہ صرف کاروباری بلکہ ریاستی حدوں تک نظریں مرکوز کر لیں اور یوں برطانیہ کے قبضے کی راہیں خطے میں ہموار ہونے لگیں۔ 1857ء کی جنگ آزادی تک ہندوستان میں کمپنی کا مکمل راج ہو گیا۔

اس کے بعد ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے زیر نگیں آ گیا تھا اور کمپنی کا ہیڈ کوارٹر یا صدر دفتر لندن اور انگلستان میں ہی تھا۔ پس نوآبادکار اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے یوں انہوں نے خطے پر قبضہ کرکے سیاسی، سماجی و اقتصادی اور طبقاتی نظام کو بھی اپنے قابو کیا، جبر اور ظلم کے استحصال کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں ہر دور میں ادیب اور شاعر کا قلم کسی بھی تلوار، بندوق یا میزائل سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔

ایسے حالات میں ناانصافیوں اور جبر کی فضا میں استحصال شروع ہو گیا، ان کو آہستہ آہستہ اپنی تاریخ، تہذیب، کلچر اور معاشرت سے اتنا دور کر دیا گیا کہ وہ اس کو بھولنے لگے۔

سعادت حسن منٹو، دُلاّ بھٹی، مہاراجہ رنجیت سنگھ، خوشحال خان خٹک، امیر کروڑ، بایزید انصاری، امیر نواز خان جیلانی، فیض احمد فیض، احمد فراز، منشا یاد، فیاض عزیز، عادل سعید قریشی، اکرام اللہ اور بابا نجمی کی مزاحمتی شاعری میں معاشروں میں ظالم کے ظلم اور مظلوم کے حق کے لئے آواز بلند کرتا ہے۔

حکمرانوں کو تہذیب اور کلچر یا زبان کا خیال کیسے آ سکتا ہے وہ تو ’’کھیت کھائے چڑی اور کول کے سر پڑی‘‘ میں مصروف ہیں۔ ہر لیڈر مقدر کا سکندر بنتا ہے۔

اس کے باوصف یہودیوں نے اپنی مردہ زبان عبرانی کو دوبارہ زندگی عطا کی ہے اور ساتھ ساتھ دو ہزار سالہ پرانے کھنڈرات MASADA سے کھجور کی گٹھلیاں ڈھونڈ کر اپنی تہذیب کے بیج کو دوبارہ سے پروان چڑھایا ہے۔

تربت سے آنے والی طالبات جو آج قومی زبانیں سیکھنے کے لئے گھر بار اور طویل فاصلوں کو طے کرکے آئی ہیں اور گوادر سے آ کر طلباء و طالبات اپنی قومی زبانوں میں نہ صرف ایم فل یا پی ایچ ڈی کر رہے ہیں بلکہ اپنی زبان میں دوسری زبانوں کے علوم کا ترجمہ بھی کر رہی ہیں، بہت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

میں اور میرے جیسے بڑے شہروں میں رہنے بسنے والے لوگ عام طور پر ان بڑے شہروں کو ترقی کے مینار اور بنیاد سمجھتے ہیں جبکہ محنت ایک خطے میں ہوتی ہے اور کمائی دوسرے خطوں میں ہو رہی ہے۔

سو تربت سے گوادر تک ہے پاکستان ہی پاکستان

ترقی کا میدان۔۔۔ ترقی کا میدان۔۔۔ پاکستان

مزید :

رائے -کالم -