کشمیر و فلسطین۔۔۔خاک وخون میں غلطاں 

کشمیر و فلسطین۔۔۔خاک وخون میں غلطاں 
کشمیر و فلسطین۔۔۔خاک وخون میں غلطاں 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تیس مارچ کو فلسطین کے عوام فلسطین سرزمین کا دن ’’یوم الارض‘ ‘ مناتے ہیں اور سنہ1976ء میں اسی دن شہید ہونے والے چھ فلسطینی حریت پسندوں کی یاد منا کر نہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کا عزم کرتے ہیں بلکہ فلسطین کی آزادی کے لئے قربان ہونے والوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔سنہ2018ء کا یوم الارض کچھ منفرد رہا ہے، فلسطینیوں نے اس بات کا فیصلہ کرلیا ہے کہ سنہ1948ء کے فلسطین سے صیہونیوں نے ان کو نکال باہر کیا ہے اور اب فلسطینی عوام اپنے حق واپسی وطن کی خاطر مسلسل جد وجہد کر رہے ہیں، اور یوم الارض پر فلسطینیوں نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ان مقبوضہ علاقوں کی طرف پر امن مارچ کریں گے جن کو غاصب جعلی ریاست اسرائیل نے سنہ48ء سے اب تک ہتھیایا ہو اہے۔ اس پُر امن مارچ کو ’’گریٹ ریٹرن مارچ‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا جس میں تیس مارچ کو دسیوں ہزار فلسطینی شریک ہوئے اور حق واپسی وطن کے حصول کے لئے اپنے گھروں کی طرف مارچ کیا۔ 

غاصب جعلی ریاست اسرائیل کہ جو گذشتہ ستر برس سے نہ صرف سرزمین فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کئے ہوئے ہے بلکہ مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کرنا معمول کی سی بات ہے، غاصب ریاست اسرائیل فلسطینیوں کے گریٹ ریٹرن مارچ سے بے پناہ خوفزدہ تھی اور اس حوالے سے کئی ایک عرب ممالک کے بادشاہوں سے روابط کئے گئے اور کہا گیا کہ فلسطینیوں کو گریٹ ریٹرن مارچ کرنے سے باز رکھا جائے لیکن یہ فیصلہ اگر کسی سیاسی جماعت کا ہوتا تو شاید وہ سودے بازی بھی کر سکتی تھی اور عرب حکمرانوں اور اسرائیل کے دباؤ میں آ کر ریٹرن مارچ کو ملتوی کرنے کا اعلان بھی کر سکتی تھی ، کیونکہ فیصلہ عوام نے کیا تھا اور اپنے حق کے حصول کے لئے کیا تھا تاہم کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فلسطینی عوام تیس مارچ کو مقبوضہ فلسطین کی طرف مارچ کر گزری۔ جہاں ایک طرف غاصب اسرائیل نے عرب حکومتوں کے ذریعہ اس مارچ کو روکنے کی کوشش کی وہاں ساتھ ہی ساتھ کئی ہفتوں تک خاص نشانہ بازوں کی تربیت کی گئی اور مسلح جتھوں کو تیار کیا گیا کہ فلسطینیوں کے پر امن گریٹ ریٹرن مارچ کو سبوتاژ کیا جائے گا۔

بہر حال فلسطینیوں نے عزت و کرامت کا فیصلہ کر لیا اور تیس مارچ کو گھروں سے نکل کر اپنے مقبوضہ فلسطین کی طرف چل نکلے ، غاصب صیہونیوں نے ہمیشہ کی طرح سفاکیت کی بد ترین مثالیں قائم کرتے ہوئے ان پر امن جلوسوں کو نہ صرف مخصوص تربیت یافتہ نشانہ بازوں کے ذریعہ نشانہ بنایا بلکہ ڈرون طیاروں اور فضائیہ کی مدد سے ان پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجہ میں 17فلسطینی شہید ہوئے اور 1500کے لگ بھگ زخمی ہو چکے ہیں، تا دم تحریر زخمیوں کی مزید اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

غاصب جعلی ریاست اسرائیل کی اس درندگی پر پوری دنیا میں کہرام بپا ہو گیا لیکن یہ کہرام صرف عوام کے درمیان تک رہا کیونکہ دنیا کے حکمرانوں کیلئے تو شاید یہ کوئی انوکھی بات ہی نہ تھی ۔خاص طور پر مسلم دنیا کے حکمرانوں کی بات کریں اور اگر مزید عرب ممالک کے بادشاہوں کے کردار کی بات کریں تو کہیں بھی ایسا نہیں ملتا کہ اس درد ناک حادثہ کا ان پر کوئی اثر بھی ہوا ہے۔کیونکہ اس سے قبل بھی اگر ہم امریکی صدر کے امریکی سفارتخانہ کے منتقلی والے بیان اور یروشلم شہر کو غاصب صیہونی ریاست کے دارالحکومت بنانے والے اعلان کی بات کریں تو مسلم دنیا کے حکمرانوں نے فقط بیان بازی اور لفاظی کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا جبکہ عملی طور پر ہونا یہ چاہئیے تھا کہ مسلم دنیا میں موجود تمام امریکی سفراء کی طلبی کی جاتی اور انہیں احتجاج کے طورپر پہلے مرحلہ میں ملک سے نکال دیا جاتا لیکن افسوس کی بات ہے کہ مسلم و عرب دنیا کے حکمران بس بیانات کی حد تک رہے اور وہ بھی غیر موثر۔اسی طرح جب تیس مارچ کو سرزمین فلسطین پر غاصب صیہونی دشمن نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو اس مرتبہ بھی مسلم و عرب دنیا کا رد عمل پہلے سے بھی گیا گزرا نکلا۔نہ تو موثر مذمت سامنے آئی اور نہ ہی کوئی احتجاج ، چند ایک غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے احتجاج ومظاہرے سامنے آئے لیکن بڑے پیمانے پر حکومتیں خاموش تماشائی ہی بنی ہوئی ہیں۔

دوسری طرف اس سانحہ کے فوری بعد ہی صیہونیوں کے گٹھ جوڑ بھارتی دشمن نے بھی موقع غنیمت جانا اور اسرائیل کے خلاف بنتا ہوا کچھ بین الاقوامی دباؤ کم کرنے کی خاطر ٹھیک اسی طرز پر کشمیر میں قتل و غارت کا بازار گرم کر کے یہاں بھی لگ بھگ سترہ کشمیریوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ، جس کے بعد دنیا کے کسی حصہ میں تو کوئی گونج سنائی نہیں دی لیکن البتہ پاکستان کے عوام کے جذبات ضرور مچل اٹھے اور انہوں نے شدید الفاظ میں مذمت کرنا ہی مناسب جانتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کر دیا، اس مرتبہ بھی حکومتیں اور حکمران خاموش تماشائی ہی نظر آئے۔ ابھی یہ زخم تازہ ہی تھے کہ افغانستان کے ایک مدرسہ پر طالبان کا بہانہ بناتے ہوئے امریکی ڈرون طیاروں نے بمباری کی اور درجنوں معصوم انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔اگر بغور مطالعہ کیاجائے تو یہ تمام کی تمام دہشت گردانہ کارروائیاں جو تیس مارچ کو سرزمین فلسطین سے شروع ہوئیں اور کشمیر سے ہوتی ہوئی اب افغانستان جا پہنچی ہیں ان سب کے پیچھے اگر کسی کی آشیرباد ہے تو وہ امریکہ شیطان بزرگ ہے۔

امریکہ کی شیطانیت کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو ہمیشہ اقوام متحدہ میں اس کی سب سے اچھی مثال اس وقت سامنے آتی ہے جب غاصب جعلی ریاست اسرائیل کے خلاف کوئی بات کی جائے تو اسرائیل سے زیادہ ناراضگی امریکہ اظہار کرتا ہے اور ماضی میں بھی امریکہ نے اسرائیل کی خاطر اقوام متحدہ کے ایک ایسے ادارے کی امداد بند کر دی تھی جو فلسطین کے مظلوموں کی دادرسی کے لئے کچھ نہ کچھ کام میں مصروف عمل تھا۔ حالیہ دنوں ایک مرتبہ پھر اگر چہ کشمیر میں ہونے والی جارحیت پر کوئی قرار داد سامنے نہیں آئی البتہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے عنوان سے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں شدید مذمت کی گئی اور قرار داد لائی گئی جس پر امریکہ نے کھلے الفاظ میں اس قرار داد کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ فلسطینیوں کا قتل عام کرنا اسرائیل کا حق قرار دیا ہے۔ اسی طرح کا بیان سعودی ولی عہد کی جانب سے کچھ روز قبل امریکہ کے دورے کے دوران ایک انٹر ویو میں آشکار ہو اہے کہ جس میں سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد پر قدغن لگائی ہے۔

بہر حال کشمیر و فلسطین و افغانستان کی بات کیا کریں اب تو مسلم دنیا کے ایک سب سے معزز و متبرک سرزمین پر حاکم نے علی الاعلان غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے اور تیس مارچ کو فلسطینیوں پر ڈھائی جانیو الی قیامت صغریٰ کی مذمت کرنا تو کجا الٹا ہی فلسطینیوں کو مجرم قرار بھی دیا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کے بیشتر حکمران امریکہ کی کاسہ لیسی میں مصروف عمل ہیں او ر ان حکمرانوں کو اپنے ذاتی مفادات زیادہ عزیز ہیں جس کی وجہ سے دنیا میں ہونے والے مظالم اور امریکہ کی چیرہ دستیاں ان حکمرانوں کو دکھائی نہیں دیتی ہیں۔آج کشمیر ہو یا فلسطین، افغانستان ہو یا یمن، ہر طرف امریکی سامراج ہی مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف نظر آتا ہے ، کہیں امریکہ داعش بنا کر تو کہیں یمن میں سعودی حکومت کو بھاری اسلحہ دے کر یمنیوں کا قتل عام کروا کر، تو کہیں غاصب صیہونی جعلی ریاست اسرائیل کی سرپرستی کر کے فلسطینیوں کے قتل عام کا لائسنس دے کر دنیاکا امن تباہ کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم امہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرتے ہوئے اپنے مشترکہ دشمن امریکہ کی درست شناخت حاصل کرے کیونکہ امریکہ صرف مسلمانوں اور اسلام کا ہی دشمن نہیں بلکہ پاکستان کا بھی دشمن ہے اور پاکستان اسلام کا قلعہ شمار ہوتا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ