شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان چین کی ثالثی

05 اپریل 2018 (12:11)

ڈاکٹر رشید گِل( کینیڈا)

یہ بات امن پسند لوگوں کے لئے خُوشی کا باعث ہے کہ شمالی کوریا کے سر برا ہ کم جون ان نے پچھلے دنوں خفیہ طور پر چین کا دورہ کیا اور چین کے صدر کے ساتھ مُلاقاتوں میں عندیہ دیا ہے کہ وُہ جنوبی کوریا سے دوستانہ تعلقات بحال کرنے پر رضا مند ہیں اور امریکہ سے نار اضگی اور رنجش کو ختم کرنے کیلئے مستعد ہیں۔ بشرطیکہ امریکہ اور جنوبی کوریا اُن کے مُلک کے مُفادات کو بھی پیش نظر رکھیں۔ ا یٹمی مزائیلوں میں تخفیف یا ختم کر نے پر آمادگی کا اظہار ایک اہم پیش رفت ہے۔دُنیا کے تمام ممالک نے جو دُنیا میں امن کے متلاشی ہیں۔ اس کو ایک اہم اور معتبر پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ ایٹمی مزائیلوں سے کھیلواڑ کرنے سے انسانی تباہی کے علاوہ کُچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں۔ جا پان کی مثال سب کے سامنے ہے اور جاپان شمالی اور جنوبی کوریا کی کشیدگی سے نہایت پریشان تھا۔ کیونکہ وُہ لوگ ایٹمی بم کے اثرات کو جھیل چُکے ہیں۔ وُہ بیماری اور مُفلسی کی زندگی دیکھ چُکے ہیں۔

شمالی کوریا کے سر براہ کم جون آں اپنی ہٹ دھرمی اور انا پرستی کے لئے دُنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وُہ نفسیاتی طور پر ایک ڈکٹیٹر ہیں۔ وُہ اپنے حُکم کو نا قابل تردیدو تنسیخ سمجھتے ہیں۔ امریکہ، اُس کے حواری مما لک اور اقوام متحدہ کی اقتصادی پابندیوں کے با وجود شمالی کوریا نے ا بھی تک اپنے سر کاری موقف میں ایک رتی بھر بھی تبدیلی نہیں کی تھی۔ بلکہ شمالی کوریا نے امریکہ کو دھمکی دی تھی کہ ا گر امریکہ نے کورین پنسولا میں فوجی مداخلت کی تو شمالی کوریا کے ایٹمی مزایل وائٹ ہاؤ س تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے بھی تُند و تیز بیانات جاری کئے گئے جس سے یہ تا ثر اُبھرا کہ شمالی کوریا اور امریکہ ایٹمی جنگ کی طر ف بڑھ رہے ہیں۔

ہم سجھتے ہیں کہ امریکہ اور شمالی کوریا کی قیادت بھی بھی دل سے نہیں چا ہتی تھیں کہ دونوں مما لک کے تعلقات ا یسی سطح پر پہنچ جائیں جہاں سے واپس لوٹنا ممکن نہ ہو سکے۔ دُنیا کے تمام ممالک کے اپنے اپنے مُفادات ہیں۔ ہر مُلک کو اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ لیکن اس دُنیا میں رہنے کے لئے اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کے لئے ایک ضابطہ اخلاق وضع کیا ہے جس کی پاسداری کرنا ہر ممبر مُلک کے لئے نہایت ضروری ہے۔اقوام متحدہ کے قایم کرنے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ وُہ ممبر ممالک کے درمیان ا من قایم کرنے کے لئے اپنی غیرجانبدارانہ کوششوں سے مُلکوں کے مسائل کو حل کرنے میں فریقین کی مددکرے ۔ مزید براں،دُ نیا کو امن کا گہوراہ بنانے کے لئے ایٹمی ہتھیاروں کو روکنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرے۔ لیکن جب ممبر مُلک اقوام متحدہ جیسے ادارے کی بات بھی ان سُنی کر دیتے ہیں تو اقوام متحدہ کو اپنی قرار دادوں کا بھرم رکھنے کے لئے پا بندیوں جیسے آپشز پر مجبوراً عمل کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ان پابندیوں کا مقصد اُس مُلک کے عوام کو سزا دینا مقصود نہیں ہوتا بلکہ اقوام متحدہ ان پابندیوں کی وجہ سے اُس مُلک کے عوام کو ذہنی طور پر آمادہ کرتی ہے کہ وُہ اپنی حکومت کو یہ باور کروائیں کہ جس راہ پر وُہ چل ر ہی ہے اُس سے مُلک کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ عوام مزید بد حالی کا شکار ہوں گے۔ خیریت اسی میں ہے کہ اقوام متحدہ کی بات کو مان کر افہام و تفہیم کی جا نب سفر شر وع کیا جائے۔

دُنیا میں مسائل سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہ وجہ تھی کہ دانشوروں نے مسائل کو با ہمی طور پر حل کرنے کے لئے سفارت کاری کو بطور پیشہ قبول کیا ہے۔لیکن جب ممالک کے رہنماؤں کی انا ایک دوسرے سے ٹکرانے لگتی تو مسائل کو حل کرنے کے لئے طاقت استعمال کرنے کی بات ہونے لگتی ہے۔

شمالی کوریا کے حکمران کے اطوار بھی ایسے تھے کہ صُلح جوئی کی تمام کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دیتی تھیں۔شمالی کوریا کو سخت اقتصادی پابندیوں سے بچانے کے لئے امریکہ، نیٹو ممالک ، اقوام متحدہ اور چین نے بھر پور انداز میں کوشش کی کہ معا ملات کو گفت و شیند کے ذریعے سُلجھایا جا سکے لیکن کل تک ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ شمالی کوریا کے چین کے ساتھ سالوں سے گہرے تعلقات ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مُناسب ہو گا کہ شمالی کوریا کی تمام ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے چین نے ہمشیہ شمالی کوریا سے تعاون کیا ہے اور چین کی ہمشیہ سے کوشش رہی کے شمالی کوریا جنوبی کوریا کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوستانہ ر کھے اور گفت وشنید کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرے۔لیکن شمالی کوریا کے کی قیادت امریکی یا جنوبی کوریا کے دباؤ قبول کرنے کے ہرگز موڈمیں نہ تھی۔ لیکن چین نے اپنی سفارتی سر گرمیوں کو جاری رکھا اور بالآخر وُہ شمالی کوریا کے حکمران کو گفت و شنید کی میز تک لانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

سیاست کے ایوانوں میں کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا اور چین کے حکمرانوں کی مُلاقاتوں کا امریکی سی آئی اے اور دوسری خفیہ ایجنیسوں کو با لکل علم تھا لیکن انہوں نے ان مُلاقاتوں کو ممکنہ حد تک خفیہ رکھا۔ لیکن شمالی کوریاکے حکمران نے جس طرح اپنے سفر اور ذر یعہ ء سفر کو خفیہ رکھا۔ اُس کی داد دینا ضروری ہے۔ سفارتی حلقوں کے مُطابق ایک عرصے سے کوشش کی جاری تھی کہ کم جون ان اور صدر ٹرمپ کی مُلاقات کو کامیاب بنانے کے لئے شمالی کوریا کو باور کروایا جائے کہ ہٹ دھرمی سے شمالی کوریا کا زیادہ نقصان ہو گا۔ بہتری اسی میں ہے کہ مسائل کو باہمی گفت و شیند سے حل کر لیا جائے۔ اقتصادی پابندیوں کے ہٹ جانے سے شمالی کوریا کی معشیت بہتری کی جانب سفر کر سکے گی اور جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے عوام چین کی نیند سو سکیں گے۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں