سعودی عرب کی اوپیک معاہدے سے نکلنے کی تردید،روس پر انکار کرنے کا الزام

  سعودی عرب کی اوپیک معاہدے سے نکلنے کی تردید،روس پر انکار کرنے کا الزام

  

ریاض(شِنہوا)سعودی عرب نے اوپیک پلس معاہدے اورشیل تیل پیدا کرنے والے ممالک سے باہر نکلنے کے منصوبے کی تردید کردی۔ہفتہ کے روزسعودی پریس ایجنسی نے میڈیا رپورٹس کی تردید پر مشتمل سعودی وزیر برائے امور خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان آل سعود کے دو الگ الگ بیانات جاری کیے ہیں۔خبررساں ایجنسی نے روسی عہدیداروں کے متعدد دعووں کے حوالے سے بتایا جن میں سعودی عرب کے اوپیک پلس کے معاہدے سے نکلنے اور شیل تیل پیدا کرنے والے ممالک سے چھٹکارا حاصل کرنے کے منصو بے کا اشارہ دیا گیا ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے ان خبروں کی تردید کی اور روس پر معاہدے سے انکارکرنے کا الزام عائد کیا جبکہ سعودی مملکت اور 22 دیگر ممالک روس کو مزید کٹوتی کرنے اور معاہدے میں توسیع کے لئے راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے باوجود اس پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔شیل آئل کی تیاری کے بارے میں مملکت کے موقف پر انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس موقف کو تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ یہ توانائی کے ذرائع کا ایک اہم حصہ ہے اور مملکت تیل کی مارکیٹ میں مزید پیداوار میں کمی اور توازن حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے، جو شیل آئل پیدا کرنے والے ممالک کے بھی مفاد میں ہے۔وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ روس اس ہنگامی اجلاس میں صحیح فیصلے کرے گا جس کا مملکت نے جمعرات کو اوپیک پلس اور دیگر ممالک کے لئے اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایک ایسا مناسب معاہدہ کیا جاسکے جس سے تیل کی منڈیوں میں مطلوبہ توازن کو بحال کیا جاسکے۔دریں اثنا وزیر توانائی نے کہا کہ مملکت کی تیل کی پالیسی پیدوار کنندگان اور صارفین دونوں کے مفاد میں مارکیٹ توازن اور استحکام کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے تیل مارکیٹ میں فاضل پیداوار روکنے کے لئے اوپیک پلس ممالک کے ساتھ اقدامات اٹھائے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -