ڈونلڈ ٹرمپ سے گھروں میں رہنے سے متعلق حکم نافذ کرنے کا مطالبہ

  ڈونلڈ ٹرمپ سے گھروں میں رہنے سے متعلق حکم نافذ کرنے کا مطالبہ

  

واشنگٹن(این این آئی)امریکا میں ایک ہی دن میں کورونا وائرس کی وجہ سے ریکارڈ ایک ہزار سے زائد اموات کے باجود ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گھروں میں رہنے سے متعلق ملک گیر آرڈر نافذ کرنے میں عدم دلچسپی پر وائٹ ہاؤس کورونا وائرس ٹاسک فورس کے متعدد اراکین نے سوال اٹھادیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق میری لینڈ کی گورنر لیری ہوگن نے خبردار کیا کہ امریکی دارالحکومت اور اس کے مضافاتی علاقے چند ہفتوں میں کورونا وائرس کا اگلا مرکز بن سکتے ہیں۔سمندری طوفان سے وبائی بیماری کا موازنہ کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ یہ وائرس تمام 50 ریاستوں کو متاثر کرچکا ہے اور اس کی شدت میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے جبکہ یہ انتہائی بدتر ہے۔نیو یارک جہاں وائرس سے ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، وہاں کے گورنر اینڈریو کوومو نے کہا کہ ریاست کے پاس صرف 6 دن ہیں جس کے بعد وینٹی لیٹرز دستیاب نہیں ہوں گے۔گورنر نے نیویارک میں ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ یہ بہت آسان ہے کہ ایک شخص آئی سی یو میں آتا ہے تو اسے وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے یا وہ مرجائے۔ادھر وائٹ ہاؤس میں متعدی بیماریوں کے معالج ڈاکٹر انتھونی فوسی نے سوال اٹھایا کہ امریکی وفاقی حکومت گھر پر رہنے کے احکامات کیوں عائد نہیں کررہی ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کورونا وائرس رسپانس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ڈیبوراہ برکس نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ سماجی فاصلے پر سختی سے عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ 10 افراد پر مشتمل کوئی اجتماع نہیں تو یہ واضح ہے کہ کہ کوئی ڈنر پارٹیز یا کاک ٹیل پارٹیز نہیں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ریسٹورانٹ اور بارز کو پہلے ہی اپنی حدود میں سروسز فراہم کرنے سے روک دیا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -