سعودی عرب فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے:حماس

  سعودی عرب فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے:حماس

  

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)سعودی عرب میں فلسطینیوں کی گرفتاری اور عقوبت خانوں میں ان کی بندش کو ایک سال ہوچکا ہے۔ اس وقت فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں کی طرف سے سعودی عرب میں قید فلسطینیوں کی رہائی کی مہمات اور مطالبات بھی جاری ہیں۔ گذشتہ فروری میں سعودی عرب میں فلسطینیوں کی مزید گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جماعت نے سعودی عرب کے ساتھ رابطے اور زیرحراست فلسطینیوں کی رہائی کے لیے ہرممکن کوشش کی مگر سعودی حکام کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔فلسطینی تجزیہ نگار فراس بو ھلال کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے حماس کی طرف سے رابطوں کا جواب نہ دینا اور قیدیوں کی رہائی کے لیے عالمی اپیلوں پرکان نہ دھرنا حیران کن اور باعث تشویش ہے۔ سعودی عرب کا یہ طرز عمل نہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہے بلکہ حراست میں لیے گئے اردنی شہریوں کے معاملے میں بھی ایسا ہی برتاؤ کیا جا رہا ہے۔فلسطینی تجزیہ نگار سلیمان بشارات کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا پس منظر فوج داری نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ سعودی عرب میں ان فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو مملکت میں اپنی ایک شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں سعودی عرب کی حکومت کو نہ صرف تمام معلومات تھیں بلکہ ان کے تنظیمی کردار کے حوالے سے سعودی حکومت نے انہیں اجازت دے رکھی تھی۔ ان تمام فلسطینیوں کو سعودی عرب کی حکومت اور شاہی انتظامیہ کی طرف سے اقامے جاری کیے گئے تھے۔

مزید :

عالمی منظر -