حالات کا حقیقی جائزہ لیں،احفاظ الرحمن کی ایک اور جنگ

حالات کا حقیقی جائزہ لیں،احفاظ الرحمن کی ایک اور جنگ
حالات کا حقیقی جائزہ لیں،احفاظ الرحمن کی ایک اور جنگ

  

خدشات کے مطابق پاکستان میں بھی کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے،سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تو اعتراف کیا کہ کورونا کے ٹیسٹ کم ہوئے،اور اب حکومت اِس سلسلے میں زیادہ توجہ دے کر کورونا ٹیسٹوں کی تعداد بڑھا رہی ہے۔اِس حوالے سے بات کی جائے تو یہ ضرورت پہلے سے تھی،لیکن مجبوراً ایسا نہ ہو سکا کہ ٹیسٹ کٹ دستیاب نہیں تھیں،اب بھی ہم نے پروپیگنڈے پر زیادہ زور دیا ہوا ہے اور کٹس کی مقامی تیاری اس طرح نہیں ہو رہی، جس کی ضرورت ہے،حالانکہ پنجاب یونیورسٹی اور انجینئرئنگ یونیورسٹی کے ماہرین سستی کٹس کی تیاری کا اعلان کر چکے ہوئے ہیں،اب تک ہمارا گذارہ ان کٹس پر ہے،جو چین کی طرف سے دو مختلف اوقات میں بھجوائی گئیں، اللہ کرے ہم بیان بازی سے آگے بڑھیں اور کام میں تیزی پیدا کریں کہ بانی ئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے کہا تھا ”کام، کام اور کام، تم یقینا کامیاب ہوؤ گے“ لیکن ہمارا وقت اجلاس منعقد کرنے، بیان بازی اور ایک دوسرے کی مخالفت میں گذرتا ہے۔ کس قدر بدقسمتی ہے کہ ہم زبان سے تو قوم اور قومی اتحاد کی بات کرتے ہیں۔ہمارا عمل مختلف ہوتا ہے،ہم غریبوں کے درد میں مرے جانے کا تاثر دیتے ہیں،لیکن بھوکے ہمسائے کا خیال نہیں کرتے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ کہ انہوں نے بڑے بڑے امدادی پیکیجز کا اعلان کیا۔یہ سب اس قومی خزانے سے ہیں، جو عوام ہی کے ٹیکسوں کی بدولت ہے، افسوس تو یہ ہے کہ یہاں بھی اپنی اپنی سمجھ بوجھ کام کر رہی ہے، زمینی حقائق مختلف ہیں اور یہ مان لینا کافی نہیں کہ ہمارے محنت کش بے روزگار ہو گئے اور یہ اعلان کہ ان کو امداد پہنچائی جائے گی،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کام ابھی شروع ہی نہیں ہوا، روز کما کر آٹا خریدنے والے مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں،ابھی گذشتہ روز ہی ایک سڑک پر بیٹھے چند لوگوں کو دیکھا جو تعمیرات اور رنگ والا سامان لئے بیٹھے تھے کہ شاید اس کرفیو میں ہی کوئی کام دے دے اور پھر جب ایک درد مند نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو یہ سب بھکاریوں کی طرح لپک پڑے،اس مردِ حق نے بھی اپنی پوری جیب خالی کر دی۔یہ حال دیہاڑی دار مزدور کا ہے۔ذرا ان سفید پوشوں کی حالت کا تو اندازہ لگائیں جو فکس آمدنی والے ہیں اور مہنگائی کے ہاتھوں خرچ پورا نہیں کر پا رہے، ان میں جو کرایہ دار ہیں، وہ زیادہ پریشان ہیں، یہ تو کسی سے مانگ بھی نہیں سکتے۔ان کا خیال کون کرے گا،یہی حال اب ہمارے تاجر بھائیوں کا ہونے لگا ہے، ان میں چھوٹے دکاندار بہت زیادہ متاثر ہیں، جن کا کاروبار چھوٹا اور کم منافع والا ہے۔ ایک ڈاکٹر محترم کی عنایت بہت اچھی لگی، فیس بک کے مطابق ایک چھوٹی مارکیٹ پر نوٹس لگا ہوا ہے،جو کسی ڈاکٹر صاحب کی ملکیت ہے۔انہوں نے اس مارکیٹ کے دکانداروں کو تین ماہ کا کرایہ معاف کر دیا ہے اس طرح اور بھی بہت کچھ ہونا چاہئے۔

اب ذرا بات کر لیں کہ کورونا نے ہمارے سماجی رشتوں کو کس بری طرح متاثر کیا ہے، ایک پیارے اور بہادر دوست احفاظ الرحمن گلے کے کینسر سے لڑتے لڑتے آج کل سر آغا خان ہسپتال کراچی کے آئی سی یو میں اپنی آخرت کا انتظار کر رہے اور موت سے بھی لڑ رہے ہیں،بھابھی نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا، اب وقت کا انتظار ہے، کوئی اور وقت ہوتا تو مَیں ہر قیمت پر کراچی پہنچتا، لیکن اس وبائی مرض نے یہ بھی چھین لیا، اب تو یہاں بیٹھے دَُعا ہی کی جا سکتی ہے، احفاظ الرحمن کی پوری زندگی(خصوصاً صحافتی دور) بہت جدوجہد کی حامل ہے، وہ اہل اور محنتی ہونے کے ساتھ بہترین شاعر بھی ہیں، جدوجہد کے ساتھی، پی ایف یو جے کے صدر تھے تو بہت کوشش کی کہ تنظیم کو اپنے پیش رو رہنماؤں کے نقش قدم پر چلائیں۔ ”سب سے بڑی جنگ“ کے عنوان سے تاریخی جدوجہد کی داستان بھی قلمبند کی، کئی کتابوں کے مصنف ہیں، دُعا ہے کہ اللہ ان کی مشکلات حل کرے۔

بات بڑھ گئی۔بہت سے امور ہیں،جو اُکساتے ہیں،تاہم ایک وضاحت کے بعد بات ختم کرتا ہوں،وہ یہ کہ کیا کسی نے غور کیا کہ بازار میں آٹے کی قلت کیوں ہے؟ اور آٹا مہنگا کیوں ہوا ہے۔اس کی بھی بڑی وجہ بدانتظامی ہے،گندم وافر ضرور ہے،لیکن استعمال میں حساب نہیں لگایا گیا، ملوں کا کوٹہ پہلے جیسا ہے، مخیر حضرات اور بعض انجمنوں نے امداد کے لئے آٹے کے تھیلے بھاری تعداد میں خرید لئے، ملوں کا کوٹہ نہ بڑھایا گیا، نہ ہی چکی والوں کو پرانے نرخوں پر گندم دی گئی، تھیلوں کی مانگ بڑھ گئی، چکی والوں نے نرخ بڑھا دیئے، اُدھر ابتدا میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے ساتھ ہی پیسے والے بازار پر پل پڑے اور کئی ماہ کی ضرورت کی گروسری خرید لی۔ اب عالم یہ ہے کہ سٹوروں والے ایک سے زیادہ شے نہیں دیتے، ایک کلو دال سے زیادہ نہیں خرید سکتے،ایسا ہی ادویات کی دکانوں پر ہے، فینائل کی ایک شیشی، ڈسپرین اور پیناڈول کا بھی ایک ایک پتہ دیا جا رہا ہے، کیا اس ساری صورتِ حال کا حقیقی تجزیہ کر کے سد ِباب ہوا کہ اعلانات اور بیانوں سے پیٹ کی آگ بجھتی نہیں اور بھڑکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -