کورونا سے بچاؤ کے لئے  احتیاطی اقدامات!

کورونا سے بچاؤ کے لئے  احتیاطی اقدامات!
کورونا سے بچاؤ کے لئے  احتیاطی اقدامات!

  

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا پر قابو نہیں پایا جا سکا، سال سے زائد ہو گیا لیکن اس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر اس وقت زوروں پر ہے۔اس موذی مرض سے بچے بھی محفوظ نہیں رہے، جس کی سب سے بڑی وجہ بے احتیاطی ہے۔ ماسک کا لازمی استعمال اور سماجی فاصلے سمیت حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کرکے ہی اس موذی مرض کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس وقت قوم حالت جنگ میں ہے، اگر ہم نے ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت نہ دیا تو یہ مرض ہماری سوچ سے  بھی بڑھ جائے گا پھر اسے سنبھالنا ممکن نہیں ہو گا۔اس سے پہلے کہ حالات قابو سے باہر ہوں، ہمیں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنی چاہئیں۔ طبیعت معمولی خراب بھی ہو تو  اسے سنجیدہ لیا جائے،  بیمار ہونے کی صورت میں  اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ عام طور پر طبیعت خراب ہونے پر ہم کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں،جس سے مرض تیزی سے بڑھتا ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ طبیعت خراب ہونے پر اپنی خوراک کو پہلے سے زیادہ بہتر کریں۔ مشروبات  اور پھلوں کا استعمال بڑھا دیں۔ ٹھنڈی بالخصوص فریج میں رکھی ہوئی اشیاء سے مکمل اجتناب کریں۔ ایسی خوراک استعمال کریں، جس سے قوت مدافعت میں اضافہ ہو، کسی بھی صورت میں قوت مدافعت کو کم نہیں ہونے دینا، اگر کھانا کھانے کو دِل نہ چاہے تو زبردستی کھائیں، شروع کے آٹھ دس دن اپنی قوت مدافعت کو برقرار رکھیں۔ قوت مدافعت کو بڑھانے کے لئے درج  ذیل امور پر عمل کریں۔

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بہت ساری قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے جو ہر شخص کی پہنچ میں ہیں، ان کے استعمال میں کوئی پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا، ان میں ہوا، دھوپ، لیموں، پودینہ،گڑ، زیتون کا تیل، کھجور،سب سے بڑھ کر پھٹکڑی، واک،  ماسک کا استعمال، سماجی فاصلہ  اور اللہ تعالیٰ سے لگاؤ شامل ہیں۔ان پر باقاعدگی سے عمل کر کے  بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے قدرتی ہوا سے زندگی میں ہم مکمل فائدہ نہیں اٹھاتے اور سانس بھی  آدھا لیتے ہیں، جس سے آدھے پھیپھڑوں تک آکسیجن صحیح طرح نہیں پہنچ پاتی اور نہ ہی پھیپھڑوں کے اندر موجود فاسد مادوں کی مکمل صفائی  ہوتی ہے۔ ہوا سے پوری طرح فیضیاب ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ بالکل سیدھے بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لیں، ہوا کو جتنا اندر کھینچ سکتے ہیں، کھینچیں اور پھر تھوڑی دیر اسے روک کر آہستہ آہستہ باہر نکالیں۔ یہ عمل دن میں کئی مرتبہ دہرائیں، بالخصوص صبح اٹھنے کے بعد اور رات کو سونے سے پہلے پانچ سات مرتبہ  ضرور یہ عمل  دہرائیں۔اس سے پھیپھڑے مضبوط ہوتے ہیں اور کورونا سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، اگر خدانخواستہ متاثر ہوں بھی تو  اس ورزش سے ان کے صحت مند ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

دھوپ یا گرمی زیادہ ہو تو ہم اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنے لگ جاتے ہیں، حالانکہ یہ بہت بڑی نعمت ہے۔دھوپ سے نہ گھبرائیں،بلکہ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہوں کہ اس نے ہمیں یہ نعمت وافر مقدار میں عطا کی ہے۔جب آپ دھوپ میں پھرتے ہیں تو قوت مدافعت کا بنیادی جزو وٹامن ڈی خود بخود آپ کے جسم میں بننا شروع ہو جاتا ہے نیز کئی قسم کے وائرس اور جراثیم مر جاتے ہیں، کوشش کریں کہ دھوپ سے بچنے کی بجائے،اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے۔پانی  کی افادیت کا ہمیں قطعاً   اندازہ نہیں ہے،  پانی ہمیشہ پاس رکھیں۔ طبیعت خراب  ہونے پر ہر دس پندرہ منٹ بعد اس کے چند گھونٹ پیتے رہیں۔ پانی کو اینٹی آکسیڈنٹ بنانے میں لیموں بہت فائدہ مند ہے۔ایک جگ میں پانی ڈال کر اس میں لیموں نچوڑ دیں اور لیموں کا چھلکا ٹکڑوں میں کاٹ کر اسی پانی میں ڈال دیں اور ساتھ ہی پودینے کے پتے بھی ڈال دیں۔ یہ پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، یہ جراثیم سے بھی پاک ہے اور آپ کے جسم کے لئے بہت مفید ہے۔بیماری کے علاوہ عام دنوں میں بھی اس کا استعمال جاری رکھیں۔

گڑ کی افادیت بزرگوں سے پوچھیں،  خاص طورپر دیسی گڑ، اس کی کیا ہی بات ہے۔ پہلے وقتوں میں گڑ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دسترخوان کا لازمی جزو ہوا کرتے تھے۔ دیسی گڑ کے درجنوں فائدے ہیں۔یہ زودہضم ہونے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی بیماریوں میں فائدہ مند ہے،لیکن آج کل  کورونا وبا کے دنوں میں اس کا استعمال سونے پہ سہاگہ ہے۔ صبح نہارمنہ ایک ڈیڑھ انچ دیسی گڑ کا ٹکڑا چوس کر کھائیں، اس کے بعد قدرے گرم پانی آہستہ آہستہ ذائقہ لے کر پئیں، پھیپھڑوں کو طاقت دینے کے لئے نہایت  مفید ہے۔نزلہ زکام کے دائمی مریضوں کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ زیتون کے تیل کے بے شمار فوائد ہیں، ان دِنوں گھر سے نکلتے وقت چہرے خاص طور پر ناک، کان، ہاتھوں اور آنکھوں وغیرہ کے گرد اس کی  مالش ضرور کریں، جب گھر واپس جائیں تو اچھی طرح دھو لیں۔ یہی عمل رات کو سونے سے قبل ہر صورت میں کریں۔ کھجور قوت مدافعت بڑھانے میں اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ طبیعت خراب ہونے کی صورت میں کھجور کا استعمال بڑھا دیں، کھجور کھانے کے بعد سادہ پانی ضرور پئیں، اس کی افادیت دو چند ہو جائے گی۔

پھٹکڑی  مہنگے سے مہنگے سینی ٹائزر  سے بھی ہزار ہا درجے بہتر اور سینی ٹائزر کا بہترین نعم البدل ہے۔ بیس پچیس روپے کی پھٹکڑی پانی میں حل کر لیں۔اس پانی میں تولیہ یا رومال بھگو کرنچوڑ لیں۔ یہ تولیہ یا رومال اپنے پاس رکھیں اور چہرے وغیرہ کو صاف کرنے کے لئے استعمال کریں۔ عام پانی سے ہاتھ دھو کر اس تولئے یا رومال سے صاف کر لیں، اسے سپرے والی بوتل میں بھر کر بطور سینی ٹائزر استعمال کریں، بہت فائدہ مند ہے۔

واک کے لئے کسی خصوصی پارک کا اہتمام ضروری نہیں ہے، اس کے لئے گھر کے لان، برآمدے یا چھت پر روزانہ صبح شام آدھا گھنٹہ واک کو اپنا معمول بنا لیں۔اس پر کوئی پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ اس طرح ہر شخص آدھا گھنٹہ واک کرکے اپنی قوت مدافعت مضبوط کر سکتا ہے جو کورونا کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ ماسک کا استعمال ضرور کریں، اور سماجی فاصلے کا خیال بھی ضرور رکھیں۔ ان حفاظتی اقدامات سے بڑھ کر سب سے اہم عمل یہ ہے کہ اللہ سے لو لگائیں اور اس سے مدد مانگیں۔ پانچ وقت نماز باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا  کریں، توبہ و استغفار کریں۔درود شریف کثرت سے پڑھیں، ان شاء اللہ کورونا سمیت ہر قسم کی بیماری سے محفوظ رہیں گے۔

جزاکم اللہ خیراً کثیرا..!!

مزید :

رائے -کالم -