ہسپتال، میٹرو اورنج ٹرین

ہسپتال، میٹرو اورنج ٹرین
ہسپتال، میٹرو اورنج ٹرین

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


عوام کو علاج معالجہ کی بہتر سہولتیں میسر نہیں، دوسرا اللہ کی طرف سے کورونا کی وبا بھی ملک میں آ گئی ہے،جس کی وجہ سے عوام بے شمار مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔لاہور شہر میں آبادی کے لحاظ سے کم از کم میو ہسپتال کی طرز پر تین ہسپتالوں کی سخت ضرورت ہے، ایک شمالی لاہور اور دوسرا جنوبی لاہور میں تعمیر ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تیسرا کارڈیالوجی ہسپتال شہر کے کسی بھی کھلے علاقے میں  جلد سے جلد تعمیر ہونا چاہئے۔میٹرو بس پر اربوں روپے لگا کر خاص روٹ پر بسیں چلوا دیں، اس سے ایک روٹ پر عوام مستفید ہو رہے ہیں، اس پر کروڑوں روپے ماہانہ سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ صوبہ قرضوں کی وجہ سے بہت مقروض ہو گیا ہے، دوسرا ظلم صوبہ پنجاب پر اورنج  ٹرین کا منصوبہ  ہے،جس پر اربوں روپے خرچ کر دیئے گئے،اس سے عوام کے کسی علاقے، کسی طبقے کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہی عوام کی اورنج ٹرین پر جھولے لینے کی خواہش یا دلچسپی ہے۔اس پر کوئی ایک بار ہی سیر کے بہانے سفر کرے گا،پنجاب حکومت اسے بند بھی نہیں کر سکتی کہ اس پر اربوں روپے کا قرض ہے،جس کا سود ادا کرنا حکومت کی مجبوری ہے۔ دوسری طرف افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ یہاں کے تین بڑے ہسپتالوں میں دھکے کھانے کے بعد ایک ساٹھ سالہ عورت چند ڈاکٹروں کی بے حسی کا شکار ہو کر اللہ کو پیاری ہو جاتی ہے، کیسی بے بسی ہے کہ مریضہ کو علاج کی سہولت تو ایک طرف، آخری وقت میں کسی ہسپتال میں بیڈ بھی نہ مل سکا۔ تمام ہسپتالوں میں روزانہ کا معمول ہے کہ کسی بھی ہسپتال میں ایک بیڈ پر دو دو مریض پڑے ہوتے ہیں،اس بوڑھی عورت کی بیڈ نہ ملنے کی وجہ سے فرش پر تڑپ تڑپ کر جان نکل گئی۔

آج ہماری حکومتیں کہتی ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں بہترین سہولتیں فراہم کی گئی ہیں،لیکن بہترین سہولتیں کون سی؟ہسپتالوں کے وارڈوں میں مریضوں کے لئے بیڈ نہیں، دوائیاں نہیں، برآمدوں میں مریض، بنچوں پر فرشوں پر ڈرپیں لگوا کر بیٹھے ہیں، بہت اچھی سہولتیں فراہم کرنے کے باوجود بے شمار واقعات اس طرح کے ہو رہے ہیں،جو ساری کارکردگی اور سہولتوں پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ڈاکٹروں کی24گھنٹے ڈیوٹی لگانے کے باوجود مریض بغیر علاج کے اللہ کو پیارہ ہو جاتا ہے، تو پھر اس میں کسی نہ کسی کی لاپرواہی کا دخل تو ضرور ہے، بے شمار کوششوں کے باوجود ہسپتالوں سے اس طرح کی خبریں معمول کا حصہ ہیں کہ مریضوں کا حال اچھا نہیں،بلکہ لوگ یہ سوچنے پرمجبور ہیں کہ کب اس قابل ہوں گے کہ انہیں بنیادی سہولتیں حاصل کرنے کے لئے دربدر کے دھکے نہ کھانے پڑیں۔ کیا عوام کے مقدر میں پریشان رہنا لکھا ہے۔ بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ قدرت نے اس ملک پاکستان پر ہر طرح کی کرم نوازی کر رکھی ہے، لیکن ایسے ایسے حکمران آئے کہ غیر مسلموں کی طرح اپنے مسلمانوں کی خدمت نہ کر سکے،بلکہ روز بروز ملک و صوبے کے عوام نچلی سطح پرزندگی گزارنے لگے۔لاہور میں میو ہسپتال،سرگنگا رام، گلاب دیوی، جانکی دیوی وغیرہ ہسپتال غیر مسلموں نے تعمیرکروائے ہیں، آخر ان کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح اشرف المخلوقات کی خدمت کرنے کی عقل عطا کی اور یہ غیر مسلم ہو کر بھی ہم مسلمانوں پر احسان کرگئے کہ ہم صوبہ پنجاب لاہور میں ان ہسپتالوں میں علاج کروا رہے ہیں،شنید ہے کہ ان ہسپتالوں کے نام کی پراپرٹیز بھی ہیں اب پتہ نہیں وہ بھی مسلمان فروخت کر کے کھا گئے ہیں یا  قبضہ گروپ نے اپنے نام الاٹ کروا لی ہیں۔


لاہور میں ہسپتالوں کی تعمیر کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے پورے صوبے کے لئے بہت کام کئے،لیکن دو کام ایسے کئے جن کا کوئی مقابلہ نہیں۔ 1122 ایمرجنسی بنایا جو آہستہ آہستہ صوبے کے کئی دوسرے شہروں تک پھیل رہا ہے، اس طرح کی سہولت پہلے عوام کو حاصل نہیں تھی کہ سات منٹ میں ہنگامی امداد ملتی ہے،دوسرا پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال کو بہت بہتر معیار کی طرف لایا گیا، عوام کو علاج معالجہ کی سہولت دینا ہی بہتر حکمرانی کا خواب ہے، اللہ تعالیٰ نے پنجاب کے عوام پر بہت مہربانیاں کی ہیں، لیکن حکمرانوں نے کبھی عوام کی صحت کا نہیں سوچا، کسی ہندو، سکھ کی طرح بھی نہیں۔ یہ بات ذہن سے نکلتی نہیں کہ اربوں کھربوں کے قرضے لے کر فضول قسم کے منصوبے بنا دیئے گئے۔ 


امیر تو اپنا علاج مہنگے ترین ہسپتالوں میں اور لندن وغیرہ میں کروا لیتے ہیں، مگر غریب بے چارے سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھاتے ہیں، ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں ماشاء اللہ بہت ترقی کر رہے ہیں۔ عالیشان عمارتیں، محلات، پلازے، بڑی بڑی سڑکیں اور پُل بن رہے ہیں،مگر صحت کا شعبہ ایسا ہے جس میں ہم تنزلی کا شکار ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ حکومت کو ورثے میں بہت مشکلات ملی ہیں، لیکن ان کا حل بھی نکالنے کی اشد ضرورت ہے، صوبے میں صحت کا حصول عوام کے لئے بہت مشکل ترین مرحلہ ہو گیا ہے، حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے،بدقسمتی ہے جو منصوبے چالیس سال پہلے شروع  ہونے تھے، وہ اب سوچے جا رہے ہیں،جس تیزی سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، صوبے کے حالات ہو رہے ہیں، خدانخواستہ آنے والے وقتوں میں مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے، آخر عوام کن کن مسائل کا مقابلہ کریں گے۔ صوبے میں آبادی میں اضافے کے ساتھ دوسرے شہروں اور علاقوں سے عوام لاہور کی طرف آ رہے ہیں، بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہی کیا، دوسرے ممالک کے شہری بہت بڑی  تعداد میں لاہور میں آباد ہو رہے ہیں،جن کی وجہ سے دوسرے مسائل کے ساتھ صحت و علاج معالجہ کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر سابقہ حکومتوں کے سربراہ اس طرف توجہ دیتے تو آج صوبہ پنجاب خصوصاً لاہور کے شہریوں کو ان مشکلات کا سامنا نہ ہوتا۔


ایک مسئلہ عوام میں بھی ہے کہ ہم ہر کام کے لئے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں،موجودہ حالات میں چند روز پہلے تک لاہور کی ہر سڑک پر ہر گلی، ہر کونے پر درمیان میں کوڑے کے ڈھیر نظر آ رہے تھے، کیونکہ ہم گھر میں ہوں یا دکان میں،ہم اپنا کوڑا دوسرے کے سامنے پھینکنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ ہم اپنا کوڑا بھی سنبھانے کے قابل نہیں، بہرحال اس میں بھی بے شمار مشکلات ہیں۔انسانوں کی صحت کی طرف توجہ دینا بھی حقوق العباد کے زمرے میں آتا ہے اگر حکومت کسی وجہ سے اس طرف توجہ دینے کے قابل نہیں تو اس ملک میں اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے لوگوں کو بے پناہ دولت سے نوازا ہے، وہ بھی پاکستان کی بدولت اس قدر دولت مند ہوئے ہیں تو پھر کسی نہ کسی مسلمان کو گنگارام، میو ہسپتال، گلاب دیوی، جانکی دیوی اور دوسرے ہسپتالوں کی طرز پر لاہور میں ہسپتال بنانے کی کوشش ضرور کرنا ہو گی۔اربوں کھربوں کا سرمایہ دُنیا میں چھوڑ کر چلے جانے سے بہتر ہے کہ عوام، ان کے نیک کاموں کی وجہ سے بعد میں بھی یاد کریں اور روزِ محشر میں اللہ کی عدالت میں لاہور کے لئے ہسپتال بنانے والے غیر مسلم، کلمہ گو مسلمانوں پر سبقت نہ لے جائیں، اللہ تعالیٰ اپنی اشرف المخلوقات کی خدمت کرنے والوں کو عزیز رکھتا ہے۔ بہرحال لاہور میں تین بڑے ہسپتالوں کی سخت ضرورت ہے۔اورنج ٹرین اور میٹرو بس کو فروخت کر کے اس سرمائے سے ہسپتال بنائے جا سکتے ہیں، قرضوں سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -