حکومتی سنجیدگی۔۔۔وقت کی ضرورت

حکومتی سنجیدگی۔۔۔وقت کی ضرورت
حکومتی سنجیدگی۔۔۔وقت کی ضرورت

  

اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ ہر ملک کی حکومت اس کوشش میں ہے کہ شہریوں کو ممکنہ حد تک کرونا سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین لگوا ئی جائے۔پاکستان بھی اس وقت کرونا کی تیسری لہر کی زد میں ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر قریباً چار ہزار کے قریب کرونا کیسز سامنے آرہے ہیں۔ چین کی امدادی کرونا ویکسین کی دو کھیپ پاکستان پہنچ چکی ہیں جبکہ ایک خریدی گئی چینی ویکسین کی ایک کھیپ بھی پاکستانی حکام وصول کر چکے ہیں ، اور ساٹھ سال سے زائد عمر کے شہریوں کو کرونا ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اب آتے ہیں حکومتی معاملات کی طرف کہ حکومت کرونا ویکسین کے سلسلے میں کس حد تک کام کررہی ہے۔

گزشتہ دنوں خبر ملی کہ  لاہور میں  مزنگ ہسپتال میں کرونا ویکسین کی 350 خوراکیں ضائع ہو گئیں۔ سروسز ہسپتال سے 550،  جبکہ  جناح ہسپتال سے 600خوراکیں غائب ہو گئیں۔ اس کے علاوہ لاہور کے مختلف ہسپتالوں سے مجموعی طور پر 423 کرونا ویکسین کی خوراکوں کی خوردبرد کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ لاہور سے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 1573 ویکسین کی خوراکیں کوئی نہیں جانتا کدھر غائب ہوئیں۔  کہا  جارہا ہے کہ ویکسین کی مذکورہ خوراکیں بااثرافراد کے اہلخانہ کو لگائی گئیں۔ ان میں ایک وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ بھی شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف اہلخانہ کو ویکسین لگوائی بلکہ ساتھ ہی شاہانہ  طرز عمل اختیار کرتے ہوئے  ویکسین لگانے کا انتظام گھر پر ہی کیا۔ اور حیرت تو اس بات پر ہے کہ میرٹ میرٹ کا شور مچانے والے وفاقی وزرا اور خود وزیراعظم نے بھی اس معاملے پر لب کشائی کرنا گوارا نہیں کیا۔ایک تو ہمارے ہاں معاملہ یہ ہے کہ نہ تو حکومت کی جانب سے وسیع پیمانے پر کرونا ویکسین خریدنے کے جلد اقدامات کئے گئے دوسرا  ’’خیراتی ویکسین‘‘ مل جانے پر اس کو محفوظ رکھنے کے بھی خاطر خواہ اقدامات نہ کیے جا سکے۔  ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے درکار درجہ حرارت کا بندوبست نہ ہونے کے باعث 350کرونا ویکسین کی خوراکیں ضائع ہو گئیں۔ ابتدائی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیرصحت یاسمین راشد نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال ایم ایس کو معطل کردیا لیکن یہاں کوتاہی کی ذمہ دار حکومت بھی ہے کہ ہسپتال میں درکار انتظامات کیوں نہ کیے جا سکے۔ اس کے بعد آتے ہیں ’’غائب‘‘ ہوجانے والی ویکسین خوراکوں کی طرف۔ ویکسین جو اس وقت دنیا کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

پاکستان میں حکومت کی نااہلی کے باعث ویکسین ہسپتالوں سے غائب ہو رہی ہے۔ ویکسین کا غائب ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے حکومت ویکسین کی حفاظت میں ناکام ہو چکی ہے۔ یہاں ویکسین کے غائب ہونے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں کہ جب ایک اہم ترین ویکسین ’’خیرات‘‘ میں ہی سہی پاکستان پہنچ چکی ہے تو حکومت اس کو محفوظ رکھنے میں غفلت کی مرتکب کیوں ہو رہی ہے؟ کس کس بات کا ذکر کیا جائے اب آپ بھارت سے تعلقات کی بحالی کا معاملہ ہی لے لیجئے۔ ایک روز نومنتخب وزیرخزانہ ای سی سی اجلاس میں اعلان کرتے ہیں کہ پاکستان بھارت سے چینی کپاس اور دھاگہ درآمد کرے گا ۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ بھارت میں چونکہ چینی اور کپاس کے نرخ دیگر ممالک سے کم ہیں اس لیے بھارت سے مذکورہ اشیا درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے ہی روز  وفاقی کابینہ بھارت سے تعلقات کے معاملے پر یوٹرن لیتی ہے اور یہ فیصلہ منسوخ کردیا جاتا ہے۔

دلچسپ صورتحال تو یہ ہے کہ کابینہ اجلاس میں وزیراعظم وزیرخزانہ سے استفسار کرتے ہیں کہ کس کے مشورے سے آپ نے بھارت سے درآمد کا فیصلہ کیا جس پر وزیرخزانہ کا جواب غیر سنجیدگی کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ دیتا ہے کہ ’’ دو ہفتے قبل بھارت سے درآمد کی اجازت آپ ہی نے دی تھی‘‘۔ اندازہ کریں جس حکومت کے وزرا اور وزیراعظم کے درمیان اس اہم معاملے پر تفاوت موجود نہیں وزیراعظم دو ہفتے قبل خود ہی تجویز دے کر استفسار کرے کہ کس کے حکم پر فیصلہ کیا اس حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ ایک تو کرونا ویکسین کو مکمل محفوظ بنانے کے خاطر خواہ اقدامات کیے جائیں نیز خارجہ محاذ پر بھی حکمت عملی سے کام لیا جائے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -