تزویراتی فکر اور ہائر کمانڈ(اقبال کی ایک دعا کی روشنی میں)

تزویراتی فکر اور ہائر کمانڈ(اقبال کی ایک دعا کی روشنی میں)
تزویراتی فکر اور ہائر کمانڈ(اقبال کی ایک دعا کی روشنی میں)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 گزشتہ سے پیوستہ

حضرت علامہ کی بعض دعائیں فوج کی ہائر کمانڈ کے لئے مانگی گئی دعاؤں میں شامل کی جا سکتی ہیں۔ ذیل کی دعا بھی اسی زمرے میں شمار ہونی چاہیے۔

اقبال کی یہ دعا ان کی سب سے پہلی طبع شدہ فارسی کتاب ”اسرار خودی“ کے آخر میں درج ہے۔ ذیل میں متن کا اردو ترجمہ اور تشریح نذر قارئین ہے:

”اے خدائے بزرگ و برتر“ اگر تمام کائنات ایک وجود بن جائے تو تیری حیثیت اس وجود (بدن) میں جان اور روح کی سی ہو گی۔یہ عجیب بات ہے کہ توشہ رگ سے بہت قریب بھی ہے اور بہت دور بھی۔ زندگی کی رونقیں تیرے ہی دم قدم سے ہیں اور ساز حیات میں نغمے تیرے ہی سبب پھوٹتے ہیں۔ میرے دل بے قرار کو ایک بار پھر سکون و اطمینان بخش اور میرے سینہ ویراں میں ایک بار پھر آکر بسیرا کر۔ ایک بار پھر یہ نمائشی ننگ  ونام مجھ سے چھین لے اور میرا عشق جو خام ہے اس کو پختگی عطا کر۔ ہم تہی دست اور مفلس ہیں اور تمہارا نرخ بہت زیادہ ہے جو ہماری قوت خرید سے باہر ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو ہم غریبوں سے منہ موڑ لے…… اے پروردگار، ہمیں حضرت بلال حبشیؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ کا سا عشق عطا فرما۔ ہمیں ایسی آنکھ عطا کر جو نیند کی ماتی نہ ہو اور ایسا بے قرار اور بے تاب دل عطا کر جو قرار اور سکون سے ناآشنا ہو، بس ہر دم تیری تلاش میں سرگرداں رہے اور پارے کی طرح ہر لمحہ سکوں نا آشنا ہو۔ ہم ایک سوکھا ہوا گھاس کا تنکا ہیں تو ہمیں اٹھا کر کوہساروں کی سی عظمت اور شوکت عطا کر۔ ہم تیرے عشق اور تیری جستجو میں سراپا آتش بن جائیں اور تیرے سوا تمام معبودوں کو جلا کر راکھ کر دیں“۔

”میری قوم میں اتحاد و اتفاق عنقا ہو چکا ہے اور اسی سبب بہت سی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ آسمان پر جس طرح ستارے آوارہ اور بے خانماں پھر رہے ہیں ہم بھی زمین پر اسی طرح لخت لخت ہو چکے ہیں۔ہمیں اتفاق کی برکت سے مالامال فرما۔ ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹنے کی توفیق دے۔ ہماری کتاب ہستی کا شیرازہ بکھر چکا ہے اس کی شیرازہ بندی کر اور محبت کا بھولا ہوا سبق ہمیں پھر عطا کر۔ بہت پہلے تو نے ہمیں ایک مشن پر مامور کیا تھا۔ وہی مشن ایک بار پھر ہمارے سپرد کر۔ ہم تیرے عشاق میں شمار ہوتے ہیں اس لئے اپنے کرنے کے سارے کام ہمارے سپرد کر۔ ہم مسافر ہیں ہمیں تسلیم و رضا کی منزل عطا کر۔ حضرت ابراہیم ؑ کا سا زور ایمان دے اور توفیق بخش کہ ہم تیرے سوا کسی کو بھی شریک عبادت نہ کریں اور تیرے سوا ہر معبود کو پاش پاش کر دیں“۔

”اے خداوند ذوالجلال! میری حیثیت اس شمع کی سی ہے جو جل کر دوسروں کو روشنی دکھاتی ہے۔ میں شمع کی مانند اپنی بزم میں خود ہی اکیلا جل رہا ہوں۔ مجھے ان اشکوں سے نواز جو بے قرار، مضطر اور آرام سوز ہوں۔ میرا دل اپنی قوم کے شاندار ماضی کو دیکھ دیکھ کر بے قرار ہے اور میری آنکھ مستقبل (اور روشن مستقبل) کی تمنائی ہے“۔

”اے پروردگار، میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اس بھری محفل میں، اس وسیع کائنات میں تنہا ہوں۔ شاید میں ایک ایسا راز ہوں جو اپنے ہی وجود میں چھپا رہتا ہے۔ میں اس درد دل کو کسی آشنا سے کہنا چاہتا ہوں۔ یا رب وہ آشناء، وہ دوست، وہ غم گسار کہاں ہے؟ میں اگر صحرائے سینا ہوں تو میرا کلیم، میرا موسیٰ کدھر ہے؟…… بعض اوقات سوچتا ہوں کہ میں کتنا ظالم ہوں۔ اپنے اوپر کس انداز کے ظلم ڈھا رہا ہوں۔ میں گویا شعلوں کو دامن میں پال رہا ہوں اور شعلے بھی ایسے جو عقل و ہوش کو پل بھر میں پھونک ڈالیں اور عقل و آگہی کا دامن تار تار کر دیں۔ میں نے عقل کو دیوانگی سکھانے کی ٹھان رکھی ہے اور ہوش و خرد کو مدہوشی کی طرف گامزن کر رکھا ہے۔ میری آنکھوں سے شبنم کی طرح آنسو گر رہے ہیں۔ شاید یہ کسی آتش پنہاں کا اخراج ہے! زمانے کو کچھ خبر نہیں کہ میں شمع کی مانند آہستہ آہستہ اور چپکے چپکے پگھل رہا ہوں۔ اس کشمکش میں میرے جسم کے ہر بُن مُو سے شعلے بھڑک اٹھے ہیں اور میرے خیال اور فکر سے آگ کے الاؤ دہک کر نگاہوں کو خیرہ کر رہے ہیں۔ میں ایسا بلبل ہوں جو شراروں سے خوشہ چینی کرتا ہے اور میرے نغموں میں آتش نوائی پائی جاتی ہے۔ میں جس عہد میں جی رہا ہوں اس کے سینے میں شاید دل نہیں ہے۔ میرا قیس فریاد کر رہا ہے کہ محمل لیلیٰ خالی ہے“۔

”اے رب کائنات، اکیلے جلنا آسان کام نہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب کوئی ایک پروانہ بھی اس کے گرد جلنے کو تیار نہ ہو۔ میں کب تک کسی پروانے، کسی غم گسار کا انتظار کروں؟ کب تک کسی رازدار کا منتظر رہوں؟…… اے باری تعالیٰ، اے خالق کون و مکاں، اے وہ کہ تیرے نور سے چاند اور ستاروں کے چہرے روشن ہیں تو نے میری روح میں بھی یہی نور اور یہی آگ کیوں بھر دی ہے؟ اس آگ کو واپس لے لے۔ اس امانت کو میرے سینے سے نکال لے اور میرے سینے کے پھول سے آرزو کا یہ کانٹا باہر کھینچ لے…… اور اگر ایسا نہیں کرتا تو پھر ایک ایسا ہمدم دیرینہ، ایک ایسا رفیق کار، ایک ایسا ہم جلیں عطا کر جو میرا آئینہ ہو۔ ساری کائنات میں ہر وجود کے ساتھ تو نے ایک غمگسار پیدا کیا۔ مثلاً سمندر کو دیکھتا ہوں تو اس میں ایک موج دوسری موج کے ساتھ بغل گیر ہو رہی ہے۔ آسمان پر ستارے ایک دوسرے کے رازدار اور ہمدم ہیں۔ چاند نے ایک چمکتا چہرہ رات کی آغوش میں دے رکھا ہے اور رات ہے کہ اس کے پہلو میں دن خوابیدہ ہے۔ ایک ندی کچھ دور جا کر ایک دوسری ندی میں گھل مل رہی ہے۔ خوشبو کے جھونکے آپس میں بغل گیر ہو رہے ہیں۔ صحراؤں میں ذرے رقصاں ہیں اور ایک بادہ کش دوسرے بادہ کش سے گلے مل رہا ہے…… کہنے کو تو تو یکتا اور یگانہ ہے لیکن تو نے بھی اپنے لئے نہ جانے کتنے عالم آراستہ کر رکھے ہیں!!…… لیکن کیا غضب ہے کہ میں بھری محفل میں تنہا ہوں۔ اپنا لطف و کرم مجھ بے خانماں پر عام فرما اور ایک ایسا ہمدم عطا کر جو میری فطرت کا محرم ہو۔ وہ ایسا دیوانہ ہو جس پر فرزانوں (عقل مندوں) کو رشک آئے اور جو سود و زیاں کے خوف اور بیم و رجا سے ماورا اور بیگانہ ہو تاکہ میں بھی اپنی جان ناشکیبا اور روح بے تاب کو اس میں گم کر سکوں اور اس کے دل میں جگہ بنا سکوں …… یا پھر وہ ایسا پیکر ہو جس کو میں اپنی ہی مٹی سے تخلیق کروں …… گویا خود ہی بت گر بنوں اور خود ہی صنم تراش!!“

خلاصہ ء کلام 

آپ نے یہ دعا پڑھی۔ اس کے الفاظ پر غور کیا۔ شاید آپ اسے لفاظی کا نام دیں لیکن یہ لفاظی محض زبان سے نہیں اقبال کی اعماق جاں سے نکلتی معلوم ہوتی ہے…… یہ ایک ایسے مسلمان کی دعا ہے جو اسے ہر دم کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور رکھتی ہے۔ تخلیق کرنے کی یہی صفت اور یہی بے تابی اسے خوب سے خوب ترکی تلاش میں سرگرداں رکھتی ہے۔ شرف انسانی یہی ہے کہ وہ ہر لحظہ نیا طور اور نئی برق تجلی تخلیق کرتا رہے۔ اس نوع کی بے تابی سے سرشار جب کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کا سامنا کرتا ہے تو وہ غیر مسلم اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔

قرون اولیٰ اور قرون وسطیٰ کی مسلمان افواج کے سپاہی اور سالار اسی بے قراری اور اسی جستجو سے سرشار تھے۔ یہی بے تابی اور یہی وارفتگی تھی جو انہیں اسلام کے صرف ابتدائی 70سالوں میں براعظم ایشیاء، افریقہ اور یورپ تک لے گئی۔ میں اقبال کی اس دعا کو اس لشکر اسلام کی اجتماعی دعا سمجھتا ہوں جس کے سامنے قیصر و کسریٰ کے لشکر جرار خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے تھے۔ یہ دعا زندگی، حرارت، کشمکش، موومنٹ، مناور، اٹیک اور اسالٹ کا درس دیتی ہے۔ یہ جمود و انجماد کی طرف نہیں، حرکت اور جستجو کی طرف لے جاتی ہے۔ یہی وہ جستجو تھی جس کو اقبال شان خداوندی سے بھی عزیز تر گردانتا تھا۔

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی

مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

پہلی قسط گزشتہ پیر کو اسی صفحے پر شائع ہوئی تھی۔            (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -